Thursday, 19 April 2018


سوال
محمد نام رکھنا کیسا ہے
جواب
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
             
محمد بہت پیارا نام ہے اس نام کی بڑی تعریف حدیثوں میں آئی ہے اگر تصغیر کا اندیشہ نہ ہو تو یہ نام رکھا جائے* اور ایک صورت یہ ہے کہ عقیقہ کا یہ نام ہو اور پکارنے کے لیے کوئی دوسرا نام تجویز کر لیا جائے اور ہندوستان میں ایسا بہت ہوتا ہے کہ ایک شخص کے کئی نام ہوتے ہیں اس صورت میں نام کی برکت بھی ہوگی اور تصغیر سے بھی بچ جائیں گے۔
    🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹           
📚 بھار شریعت ، جلد نمبر 3
📚حصہ 15 ، ص 354 تا 357
  🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹
✍🏻 از قلم معين الدين الأزهري
حضور افضل العلماء  گروپ
📱9337025391
🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹
📠المشتہر آصف رضا دہلی
🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
دوران وضو اگر کسی شخص نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں تو کیا اس کا وضو ہو جائے گا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. ناظم رضا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و
الجوا بعون المک الوهاب
حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
             
مونھ دھوتے وقت آنکھیں زور سے مِیچ لِیں کہ پَلک کے مُتّصل ایک خَفیف سی تحریر بند ہوگئی اور اس پر پانی نہ بہا اور وہ عادۃً بند کرنے سے ظاہر رہتی ہو تو وُضو ہو جائیگا مگر ایسا کرنا نہیں چاہیئے اور اگر کچھ زیادہ دُھلنے سے رہ گیا تو
وُضو نہ ہو گا۔
📚 بھار شریعت ، ج 1، 2/290📚
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻از قلم .معين الدين الأزهري
حضور افضل العلماء گروپ
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
وضو کے دوران آنکھ کے ڈھیلوں اور پپوٹو کی اندرونی سطح کے دھونے کا کیا حکم ہے
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. تقویم رضوی
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوہاب

اس تعلق سے حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
             
آنکھوں کے ڈھیلے اور پپوٹوں کی اندرونی سَطح کا دھونا کچھ درکار نہیں بلکہ نہ چاہیئے کہ مُضر ہے۔

📚 بھار شریعت ، ج 1، 2/290

خلاصہ
اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ وضو کرتے وقت آنکھوں کے اندر کے ڈھیلے *(Eye boll)* اور پپوٹوں کی اندرونی سطح *(یعنی Eyelid کے نیچے کا حصہ)* دھونے کی کچھ ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس سے آنکھوں میں پانی چلا جائے گا جو کہ آنکھ کے لئے نقصاندہ ہے۔   
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻 از قلم .معين الدين الأزهري
حضور افضل العلماء  گروپ
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳


کیافرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
عرض یہ ہے کہ مردوں کے ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے سے متعلق کئی احادیث ہیں لیکن عورتوں کو اس حکم سے استثناء کا حکم کہاں سے ثابت ہے رہبری فرمائیں کرم ہوگا

سائل.انور رضا 


الجواب بعون الملک الوھاب 

 قیام میں ہاتھ باندھنے کے تعلق سے حدیث دونوں طرح کی ہے وضع صدر و تحت سرہ کی
قیام میں ہاتھ باندھنا برائے تعظیم ہے
 📚صاحب ھدایہ فر ماتے ہیں اقرب التعظیم ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے میں ہے

 اور عورتوں کے لئیے ارکان میں وہ صورتیں زیادہ مناسب ہے جس میں اس کے لئیے ستر عورت زیادہ پائی جاتی ہو عورتوں کا سینے پر ہاتھ باندھنا زیادہ ستر عورت ہے اس لئیے وضع صدر والی حدیث عورتوں کے لئیے مختار ہوئی

 صاحب ھدایہ نے کئی جگہ وذالک استر لھا کہ کر یہ بتانا چاہا کہ جسمیں زیادہ ستر پوشی ہو عورتوں کے لیے وہی مناسب ہے

واللہ اعلم بالصواب
  🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍ازقلم.
معین الدین الأزھــــــری 

Md Moinuddin Azhari:
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
اگر کسی شخص نے طلاق بائن دیا تو کیا اس کے لیے حلالہ کی ضرورت پڑےگی؟ یا کس طرح کا حکم ہے ؟
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. نسیم اشرف
 🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

اگرطلاق بائن ایک یا دو دیا ھے تو بغیر حلالہ کےنکاح جدیدکےذریعےعورت کو لا سکتاھےاوراگرتین طلاق بائن دے دیاتو اب بغیرحلالہ کہ حلال نہ ھوگی طلاق بائن اسےکہتے ھیں کہ طلاق ایسےالفاظ سےدی جائےکہ جن سےطلاق مرادھوناظاھرنہ ھوبل کہ طلاق کےعلاوہ اورمعنوں میں استعمال ھوتاھوجیسےتوآزادھے۔نکل جا۔رستہ ناپ۔رحم خالی کرہاں نیت شرط ھے

 📚ماخوذازبہارشریعت ح٨ص ٢١مطبوعہ المجمع المصباحی 

نیز دو سےکم کی صورت میں عدت کےاندر بھی نکاح کرسکتا ھےجبکہ اسی شوھرسےھو ورنہ نہیں

 الـمـرجـع السـابـق!والـلـه تعـالـی اعـلـم
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
از قلـم:معين الدين الأزھــــــری

📱+91 93370 25391


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں ک
دوران وضو پلک کے ہر بال کے دھونے کا حکم بیان کیجئیے؟
اور اگر پلک کے بالوں میں کیچڑ یا آٹا وغیرہ کوئ سخت چیز جم گئ ہو تو اس کے چھڑانے کا کیا حکم ہے
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. ناصر. پوری
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

 الجواب بعون المک الوھاب

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
             
پَلک کا ہر بال پُورا دھونا فرض ہے اگر اس میں کیچڑ وغیرہ کوئی سَخْت چیز جم گئی ہو تو چُھڑا نا فرض ہے۔
📚 بھار شریعت ، ج 1، 2/290   
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں ک
دوران وضو آنکھ کے کو ئے (یعنی ناک کی طرف آنکھ کا کونا) پر پانی بہانے کا حکم بیان کیجیئے؟
اور یہ بھی بتائیے کہ اگر سرمے کا ذرہ پلک یا کوئے میں رہ جائے تو کیا اس صورت میں وضو ہو جائے گا؟
اور اس وضو سے پڑھی ہوئ نماز کا کیا حکم ہے؟
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. نسیم اشرف
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

 الجواب بعون المک الوھاب

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
             
آنکھ کے کوئے پر پانی بہانا فرض ہے مگر سرمہ کا جرم کوئے یا پَلک میں رہ گیا اور وُضو کرلیا اور اِطلاع نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی تو حَرج نہیں نماز ہوگئی، وُضو بھی ہو گیا اور اگر معلوم ہے تو اسے چُھڑا کر پانی بہانا ضروری ہے۔
📚 بھار شریعت ، ج 1، 2/290📚
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں ک
مرد کا اپنی والدہ کے پائوں دبانے کے تعلق سے کیا حکم ہے
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل. دلکش. پوری
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
 الجواب بعون المک الوھاب
دونوں میں سے اگر کسی کو بھی شہوت نہ ہو تو بلکل اجازت ہے۔

📚بھار شریعت میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
محارم کے جن اعضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو ۔ مرد اپنی والدہ کے پاؤں دبا سکتا ہے مگر ران اس وقت دبا سکتا ہے جب کپڑے سے چھپی ہو، یعنی کپڑے کے اوپر سے اور بغیر حائل چھونا جائز نہیں ۔

اور آگے فرماتے ہیں       
والدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے۔ حدیث میں ہے جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا
📚 بھار شریعت ، ج 3، 16/445📚
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻از قلم :معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠المشتہر
محمد آصف رضا دہلی
 ⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


💚عورت کی ملازمت کا حکم💚

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں ک
  کیا عورت بھی سرکاری نوکری کرسکتی ہے جبکہ اس کی جانب سے ہی اس کا گھر چلتا ہے بحالت اضطرار ٹیچری کرسکتی ہے
 بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. ثاقب رضا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب

اعلحضرت عظیم البرکت مجد و دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ والرضوان اسی طرح کے سوال کا جواب تحریر فرماتے ہیں

عورت کی ملازمت پانچ شرطوں پر جائز ہے ان میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو تو ملازمت حرام ہے

1کپڑے باریک نہ ہو جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے

2کپڑے تنگ و چست نہ ہوں جو بدن کو کی ہئیت ظاہر کریں

3بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو

4کبھی نامحرم کے ساتھ کسی مختصر وقت کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو

5 اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنئہ فتنہ نہ ہو

اور یہ پانچوں شرطیں اگر جمع ہیں تو حرج نہیں
📚بحوالہ فتاوی رضویہ جلد نہم نصف آخر

📝 صفحہ 152 رضائے اکیڈمی ممبئی

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب

🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
📠


💙مرد کےعورت سےافضل ہونے کی وجوہات💙

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
عورت کے فضیلت زیادہ ھے یا مرد کی قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں تو مہربانی ھوگی دوسرے یہ کہ کیا عورت کا حاکم بننا جائز ھے؟
⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️⛔️
سائلہ :نرگس فاطمہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

        مرد کے عورت سے افضل ہونے کی وجوہات کثیر ہیں ، ان سب کا حاصل دو چیزیں ہیں علم اور قدرت۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرد عقل اور علم میں عورت سے فائق ہوتے ہیں ، اگرچہ بعض جگہ عورتیں بڑھ جاتی ہیں لیکن مجموعی طور پر ابھی بھی پوری دنیا پر نگاہ ڈالیں تو عقل کے امور مردوں ہی کے سپرد ہوتے ہیں۔ یونہی مشکل ترین اعمال سرانجام دینے پر انہیں قدرت حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ مرد عقل و دانائی اور قوت میں عورتوں سے فَوقِیّت رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ جتنے بھی انبیاء، خُلفاء اور ائمہ ہوئے سب مرد ہی تھے۔ گھڑ سواری، تیر اندازی اور جہاد مرد کرتے ہیں۔ امامت ِ کُبریٰ یعنی حکومت وسلطنت اور امامت ِصغریٰ یعنی نماز کی امامت یونہی اذان، خطبہ ، حدود و قصاص میں گواہی بالاتفاق مردوں کے ذمہ ہے۔ نکاح، طلاق، رجوع اور بیک وقت ایک سے زائد شادیاں کرنے کا حق مرد کے پاس ہے اور نسب مردوں ہی کی طرف منسوب ہوتے ہیں ، یہ سب قرائن مرد کے عورت سے افضل ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ مردوں کی عورتوں پر حکمرانی کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد عورتوں پر مہر اور نان نفقہ کی صورت میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ا س لئے ان پر حاکم ہیں۔ خیال رہے کہ مجموعی طور پر جنسِ مرد جنسِ عورت سے افضل ہے نہ کہ ہر مرد ہر عورت سے افضل ۔بعض عورتیں علم ودانائی میں کئی مردوں سے زیادہ ہیں جیسے اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ ا للہُ تَعَالٰی عَنْہا، ہم جیسے لاکھوں مرد اُن کے نعلین کی خاک کے برابر بھی نہیں۔ یونہی صحابیہ عورتیں غیر صحابی بڑے بڑے بزرگوں سے افضل ہیں۔

 واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقلم:معين الدين الأزهري
📱+91 9337025391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🏵سنت غیر موکدہ میں قعدہ اولی کے بعد درود شریف اور تیسری رکعت میں تعوذ و تسمیہ پڑھنے کا حکم ہے🏵

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
*کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
عصر اور عشاء کی پہلی والی سنت میں قاعدہ اولی میں دونو درود شریف اور تیسری رکعت میں سبحانک اللہ ہماہ اور تعوذ تسمیہ پڑھناکیسا ہے

⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ سبیلہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مستفسرہ میں عصر اور عشاء کی پہلی چار رکعتیں جو ہیں وہ سنت غیر موکدہ ہیں یعنی وہ نفل کے حکم میں ہیں
چار رکعت والی نفل میں قعدہ اولی میں التحیات کے بعد بعد درود شریف پڑھنا مستحب ہے
📚درمختار جلد اول صفحہ 95
اور سنت غیر موکدہ اور نفل نماز کی تیسری رکعت میں جب کھڑا ہو تو اس وقت پہلے ثناء یعنی سبحانک اللھم پھر تعوذ تسمیہ یعنی اعوذباللہ اس کے بعد بسم اللہ شریف پڑھ کر سورہ فاتحہ پڑھے
📚بحوالہ مسائل سجدہ سہو صفحہ 102
وھو سبحانہ تعالٰی و رسولہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقلم معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
سوال - وضاحت طلب یہ ہیکہ کسی نے شوہر کو دھمکی دی کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی تو ہم تمہیں قتل کر دینگے یا بہت مارینگے اور شوہر کو غالب وگمان ہوا کہ طلاق نہ دینے کی صورت میں ایسا ہی کرینگے تو اس نے طلاق کا لفظ زبان سے نہ کہا اور نہ دل میں ارادہ کیا مگر طلاق نامہ لکھ دیا ہوش و حواس کی حالت میں تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں
براے مہربانی تفصیلا جواب عنایت فرماے
اور عند اللہ ماجور ہو -
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

*صورت مستفسرہ میں اگر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی اگر شوہر کو کسی عضو کے کاٹے جانے یا قتل کئے جانے یا پھر ضرب شدید کا صحیح اندیشہ ہو اور زبان سے اس نے طلاق نہ کہا ہو تو طلاق واقع نہیں ہوئی*
📚فتاوی قاضی خان مع ہندیہ جلد اول ص 441میں ہے،، رجل اکرہ بالضرب والحبس علی ان یکتب طلاق امراتہ فلانۃ بنت فلانۃ فلاں بن فلاں فکتب امراتہ فلانۃ بنت فلاں بن فلاں طالق لاتطلق امراتہ لان الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ ھھنا وفی البزازیہ اکرہ علی طلاقھا فکتب فلانۃ بنت فلاں طالق لم یقع*
اور کنز الدقائق میں ہے یقع طلاق کل زوج عاقل بالغ ولو مکرہ*
*بحر الرائق میں ہے،، قولہ ولومکھا ای ولو کان الزوج مکرھاعلی انشاء الطلاق لفظاً*

واللہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقلم معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🕋التحیات سے پہلےبسم اللہ پڑھنا کیسا ہے🕋

السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتیں ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کے قاعدہ میں تشہّد سے پہلے بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھنا کیسا ہے ؟ نماز میں کوئی کراہت ہے کیا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل ارمان رضا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳

وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسولہ میں تشہد میں التحیات سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ آیت قرآنی ہے
قیام کے علاوہ کسی رکن میں جائز نہیں ہے
📚فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 181
اور اعلحضرت عظیم البرکت مجدو دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ بسم اللہ شریف کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ

قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ شریف پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیت قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے

📚 فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 134 تا 135 رضا اکیڈمی ممبئی کا مطالعہ کریں

لہذا یہ جانتے ہوئے کہ یہ بسم اللہ شریف کا محل نہیں ہے تبھی بسم اللہ شریف پڑھے گا تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی نماز واجب الاعادہ ہے
اور اگر بھول کر بسم اللہ شریف پڑھ لیا تو سجدہ سہو واجب ہے
جیسا کہ عالمگیری میں ہے
 قعدہ میں بیٹھتے ہی تشہد پڑھنا واجب ہے لہٰذا اگر تشہد شروع کرنے سے پہلے کچھ اور پڑھ لیا تو تاخیر واجب کی وجہ سے سجدۂ سہو کرنا واجب ہوگا

ولو قرأ فی القعود إن قرأ قبل التشہد فی القعدتین فعلیہ السہو لترک واجب الابتداء بالتشہد أول الجلوس
📚طحطاوی۲۵۰، عالمگیری ۱؍۱۲۷

و اللہ اعلم بالصواب
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳


🕋کیا عمرہ کرنے والےکو. 🕋   
حاجی بول سکتے ھیں یا نہیں.     

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
 کیا عمرہ کرنے والے کو حاجی بول سکتے ھیں یا نہیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
 سائل. آفتاب احمد رامپور
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

 الجواب بعون الملک الوھاب

 مخصوص دنوں میں مخصوص مقامات پر مخصوص ارکان ادا کرنے کو حج کہتے ہیں اسی لئے جب کوئی شخص حج یاحاجی کہتا ہے تو تبادر ذہنی اسی ارکان کے ادا کرنےوالے کی طرف جاتا ہے عمرہ کے لئے ایام مخصوص نہیں ہیں گرچہ حدیث میں عمرہ کو بھی حج اصغر کہا گیا ہے مگر حج وعمرہ کے لئے الگ الگ لفظ بھی ہے
📚 مسلم شریف ص 27 میں ہے
فانطلقت انا وحمید بن عبد الرحمن الحمیری حاجین أو معتمر ین
اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حج یا عمرہ الگ الگ ہیں

 نیز قرآن پاک میں بھی حج اور عمرہ کا الگ الگ ذکر ہے
لقو لہ تعالٰی
فمن حج البيت أواعتمر فلا جناح علیہ 
 سورہ بقرہ پارہ 2

 اس لئیے حج کرنے والے کو حاجی کہئے اور عمرہ کرنے والے کو معتمر کہئے

 واللہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🏵غیرمسلم کی شیر نی پرفاتحہ دیناکیسا
 ہے 🏵

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
ہندو کی شیر نی پر فاتحہ پڑھنا کیسا ہے
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل .ندیم رضا اکبر پور
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

غیر مسلم کی شیر نی پر فاتحہ دینا اور اس کے ثواب پہنچنے کا اعتقاد کرنا جائز نہیں کہ اس کی کوئی نیاز کوئی عمل میں قبول نہیں
📚فتاوی رضویہ میں بے کافر و مشرک کا کوئی عمل للہ نہیں.فان الكفر هو الجهل بالله فاذا جعله فكيف يعمل له. 1ھ(ج9ص25)

ہندو نے زید کو دے دیا کہ اس پر فاتحہ دے کر باہم تقسیم کرلیں اور زید نے غیر مسلم سے شیرنی لے کر اپنی کر کے اپنے آپ فاتحہ دیکر اپنی سمجھ کر تقسیم کر دیا تو اس میں کوئی حرج نہیں ایسا ہی 
📚فتاوی مصطفویہ میں 453میں بھی ہے

واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🏵اللہ تعالٰی کو خالق الخنزیر کہنا کیسا ہے🏵

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
سوال اللہ تعالیٰ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے لیکن اس کو خالق الخنزیر کہنا کیسا ہے ؟؟
کرم فرما کر مدلل و مفصل جواب سے نوازیں
اللہ رب العزت آپکو جزاے خیر عطا فرمایں تشنگۓ علم بجھانے پر 🌹
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مذکورہ میں اللہ تعالٰی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے لیکن اس کو خالق الخنزیر کہنا جائز نہیں

جیسا کہ علامہ محمد عبد العزیز پرہاروی علیہ الرحمہ
 📚شرح عقائد نسفی کی شرح نبراس صفحہ 173 میں تحریر فرماتے ہیں

ان اللہ تعالٰی خالق کل شئی و یلزمہ ان یکون خالق الخنازیر مع انہ یجوز اطلاق الملزم لا اللازم
📚 عجائب الفقہ المعروف فقہی پہلیاں صفحہ 61

و اللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🏵کسی شخص کومارٹھوک کرطلاق نامے پردستخط کروانے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے کیا🏵

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام اس مسئلے میں کہ کسی شخص کومارٹھوک کرطلاق نامے پردستخط کروانے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے کیا
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل. اسلام رضا
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

 الجواب بعون الملک الوھاب 

 صورت مسئولہ میں طلاق اگر زبان سے دے کیسے ہی جبر و اکراہ سے دی ہو طلاق واقع ہو جائیگی 
ھدایہ میں ہے و طلاق الواقع مکرہ مگر یہ زبان سے طلاق کہنے میں ہے

 اگر کسی کے جبر و اکراہ سے عورت کو خط میں طلاق لکھا یا طلاق نامہ لکھدیا اور زبان سے الفاظ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی
📚 تنویر الابصار میں ہے
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولو مکرھا او مخطئا
وفی رد المختار عن البحر ان المراد الاکراہ تلفظ با لطلاق فلو اکرہ علی ان یکتب طلاق امراتہ فکتب لا تطلق

 مگر یہ سب اس وقت ہے جبکہ اکراہ اکراہ شرعی ہو کہ اس سے ضرر رسانی کا اندیشہ ہو اور وہ ایذا پر قادر ہو صرف اسقدر کہ اسے اپنے سخت اصرار سے مجبور کردیا اور اس کے لحاظ پاس سے لکھتے بنا اکراہ کے لئیے کافی نہیں ہے یوں لکھے گا تو طلاق واقع ہو جائیگی
 📚 فتاوی رضویہ جلد پنجم ص 632

واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


⚫غیبت کی تعریف⚫

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
کسی شخص کا برائ کرنا غیبت کرنا کیسا ہے
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل خالد رضا کولکتہ
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الواھاب

کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو. جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہیں کرتا ہو اس کی برائی کے طور پر بیان کرنا غیبت کہلاتا ہے
حدیث
غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت چیز ہے،غیبت کرنے والے کی مغفرت نہ ہو گی جب تک وہ معاف نہ کردے جس کی غیبت کی ہے_
📚شعب الایمان، باب فی تحریم اعراض الناس، الحدیث6 741

و اللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اسلام اس مسئلہ میں کہ
اگر گسی شخص نے اپنی انگلیوں میں انگوٹھیاں یا چھلے وغیرہ پہن رکھے ہوں اور وہ تنگ ہوں تو دوران وضو ان کے دھونے کا کیا حکم ہے
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل. نعیم الحق
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں

ہر قسم کے جائز ، ناجائز گہنے ، چَھلّے، انگوٹھیاں ، پُہنچیاں ، کنگن، کانچ، لاکھ وغیرہ کی چوڑیاں ، ریشم کے لچھّے وغیرہ اگر اتنے تنگ ہوں کہ نیچے پانی نہ بَہے تو اُتار کر دھونا فرض ہے اور اگرصرف ہِلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہو تو حرکت دینا ضرور ی ہے اور اگر ڈِھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی نیچے پانی بہ جائے گا تو کچھ ضرور ی نہیں 
(📚بھار شریعت، ج1، 2/290)

واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🖤جہیز کا مطالبہ کرنا کیسا ہے🖤

السلام علیکم و رحمتہ للہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
جہیز کا مطالبہ کر نا کیسا ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
 سائل نسیم اشرف مدھو بنی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

صورت مسولہ میں لڑکا یا اس کے گھر والے کا شادی کرنے کے لیے جہیز مانگ کر لینا جائز نہیں مثلا موٹرسائیکل کار وغیرہ کا مطالبہ کرنا یہ بھی حرام ہے اس لئے کہ یہ رشوت ہے
📚 فتاوی عالمگیری میں ہے
لواخذا اھل المرأة شيئا عند التسلیم فللزوج ان یستردہ لأنه رشوة کذا فی البحر الرائق

یعنی عورت کے گھر والے نے رخصتی کے وقت کچھ لیا تھا تو شوہر کو اس کے واپس لینے کا حق ہے اس لئے کہ وہ رشوت ہے

 جب لڑکے والے سے لینا رشوت ہے تو لڑکی والوں سے لینا بدرجہ اولی رشوت ہے
اور حدیث پاک میں ہے

لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم الراشی والمراشی

وھکذا الراشی والمرتشی کلاھما فی النار

یعنی رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے لعنت فرمائی ہے
📚ترمذی و ابو داؤد کی روایت ہے
(📚فتاوی برکاتیہ صفحہ 267)

واللہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
 بعض لوگ کہتے ہیں کہ عشاء کے نوافل بیٹھ کر پڑھنا سنت مبارکہ ہے۔۔ سرکار مدینہ ﷺ عشاء کے نوافل بیٹھ کر ادا فرماتےتھے ؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل فارق خان
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب

نوافل کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے ــ

ثواب دگنا ہے ــ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر پڑھتے تھے یہ آپکے خصوصیات میں سے ہے ــ

اور ان کے ثواب میں بھی کمی نہیں ـــ

(📚تفہیم المسائل)

واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


⚫ہولی کی مبارک باد دینا کیسا ہے ⚫

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
ہولی کی مبارک باد دینا کیسا ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل. حسنین رضا
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
ہولی وغیرہ کی مبارک باد دینا اشد حرام بلکہ منجر الی الکفر ہے جومسلمان ایسا کرتے ہیں ان پر توبہ تجدید ایمان ونکاح لازم ہے
📚فتاوی شارح بخاری ج ٢ص٥٦٦

ہولی کہ غیرمسلموں کا شعار ہے اس میں شرکت حرام بد کام بدانجام -شریک ہونے والوں پر توبہ فرض ہے اور تجدید ایمان وتجدید نکاح بھی کرلیں
📚فتاوی تاج الشریعہ ج٢ص٧٤

ہولی کے موقع پررنگ کو برا جانتے ہوے تھوڑا سا لگوانا بھی ناجائزوگناہ ہے
📚فتاوی مرکزتربیت افتاء ج ٢ص٣٨٠

کافراگرہولی یادیوالی کے دن مٹھائی دیں تونہ لے ہاں اگر دوسرے روزدے تو لےلےنہ یہ سمجھ کر کہ ان کے خبثاء کے تہوار کی مٹھائی ہےبلکہ "مال موذی نصیب غازی" سمجھے
📚ملفوظات اعلی حضرت حصہ اول ص١٦٣

واللہ تعالی اعلم
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🏵میت کو غسل دینے کا طریقہ کیا ہے؟🏵


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
جنازہ میں میت کو غسل دینے کا کیا طریقہ ہے سنت کے مطابق ؟برائے مہربانی تتفصیلاً جواب دے کر ہمارے ذہن کو سوالات کے زنجیر سے آزاد کریں ۔۔۔۔۔۔اللہ آپکے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے (آمین )
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ .نسرین امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے۔ حدیث مبارکہ میں ہے : حضرت ام عطیہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحب زادی (سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا) کو غسل دے رہے تھے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اسے پانی اور بیري کے پتوں کے ساتھ طاق غسل دو یعنی تین یا پانچ بار، اور آخر میں کافور ملا لیں۔ غسل کا سلسلہ اپنی جانب سے اور وضو کے اعضا سے شروع کریں۔‘‘

بخاری، الصحيح، کتاب الجنائز، باب ما يستحب ان يغسل وتراً، 1 : 423، رقم : 1196

میت کو غسل دینے کا طریقہ یہ ہے کہ جس تخت پر میت کو نہلانے کا ارادہ ہو اس کو تین، پانچ یا سات مرتبہ دھونی دیں۔ پھر اس پر میت کو لٹا کر تمام کپڑے اتار دیئے جائیں سوائے لباس ستر کے، پھر نہلانے والا اپنے ہاتھ پہ کپڑا لپیٹ کر پہلے استنجا کرائے پھر نماز جیسا وضو کرائے لیکن میت کے وضو میں پہلے گٹوں تک ہاتھ دھونا اور کلی کرنا اورناک میں پانی چڑھانا نہیں ہے کیونکہ ہاتھ دھونے سے وضو کی ابتدا زندوں کے لیے ہے۔ چونکہ میت کو دوسرا شخص غسل کراتا ہے، اس لیے کوئی کپڑا بھگو کر دانتوں اور مسوڑھوں اور ناک کو صاف کیا جائے پھر سر اور داڑھی کے بال ہو تو پاک صابن سے دھوئیں ورنہ خالی پانی بھی کافی ہے۔ پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر دائیں طرف سر سے پاؤں تک بیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا پانی بہائیں کہ تخت تک پانی پہنچ جائے۔ پھر دائیں کروٹ لٹا کر بائیں طرف اسی طرح پانی بہائیں۔ اگر بیری کے پتوں کا اُبلا ہوا پانی نہ ہو تو سادہ نیم گرم پانی کافی ہے۔ پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی سے پیٹ پر ہاتھ پھیریں اگر کچھ خارج ہو تو دھو ڈالیں۔ پھر پورے جسم پر پانی بہائے۔ اس طرح کرنے سے فرض کفایہ ادا ہوگیا۔ اس کے بعد اگر دو غسل اور دیئے تو سنت ادا ہو جائے گی ان کا طریقہ یہ ہے کہ میت کو دوسری بار بائیں کروٹ لٹایا جائے اور پھر دائیں پہلو پر تین بار اسی طرح پانی ڈالا جائے جیسا کہ پہلے بتایا گیا۔ پھر نہلانے والے کو چاہیے کہ میت کو بٹھائے اور اس کو اپنے سہارے پر رکھ کر آہستہ آہستہ اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیرے۔ اگر کچھ خارج ہو تو اس کو دھو ڈالے یہ دوسرا غسل ہوگیا۔ اسی طرح میت کو تیسری بار غسل دیا جائے تو سنت ادا ہو جائے گی۔

ابتدائی دو غسل نیم گرم پانی بیری کے پتے/ صابن کے ساتھ دیئے جائیں۔ تیسرے غسل میں پانی میں کافور استعمال کی جائے۔ اس کے بعد میت کے جسم کو پونچھ کر خشک کر لیا جائے اور اس پر خوشبو مل دی جائے۔

واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔

🏵مرد اور عورت کو کفن پہنانے کا طریقہ🏵
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
جنازہ میں میت (مرد )(عورت) کو کفن پہنانے کا کیا طریقہ ہے سنت کے مطابق ؟؟برائے مہربانی تتفصیلاً جواب دے کر ہمارے ذہن کو سوالات کے زنجیر سے آزاد کریں ۔۔۔۔۔۔اللہ آپکے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے (آمین )
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ نسرین امحدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔

الجواب بعون الملک الواھاب

مرد کوکفَن پہنانے کا طریقہ

کفن کو ایک یاتین یا پانچ یا سات بار دُھونی دے دیں۔

پھر اِس طرح بچھائیں کہ پہلے لفافہ یعنی بڑی چادر
اس پر تہبند
اوراس کے اوپر کفنی رکھیں ،

اب میِّت کو اِس پر لٹائیں اور کَفْنی پہنائیں ،

اب داڑھی (نہ ہو تو ٹھوڑی پر)اور تمام جسم پر خوشبو مَلیں ،وہ اعضاء جن پر سجدہ کیا جاتا ہے یعنی پیشانی ،ناک، ہاتھوں ، گھٹنوں اور قدموں پر کافور لگائیں۔

پھر تہبند اُلٹی جانب سے پھر سیدھی جانب سےلَپیٹیں ۔

اب آخرمیں لفافہ بھی اسی طرح پہلے الٹی جانب سے پھر سیدھی جانِب سےلَپیٹیں تاکہ سیدھا اُوپر رہے۔

سَر اور پاؤں کی طرف باندھ دیں۔

 عورت کو کفن پہنانے کا طریقہ

کفْنی پہنا کر اُس کے بالوں کے دوحصّے کرکے کفْنی کے اوپر سینے پر ڈال دیں

اوراوڑھنی کو آدھی پیٹھ کے نیچے بچھا کر، سر پر لاکر ،منہ پر نقاب کی طرح ڈال دیں کہ سینے پر رہے۔

اِس کا طول آدھی پشت سے نیچے تک

اور عَرْض ایک کان کی لوسے دوسرے کا ن کی لو تک ہو۔

بعض لوگ اوڑھنی اس طرح اڑھاتے ہیں جس طرح عورتیں زندگی میں سر پر اوڑھتی ہیں یہ خلافِ سنّت ہے ۔

پھر بدستور تہبند و لفافہ یعنی چادرلَپیٹیں۔

پھر آخر میں سینہ بند پستان کے اوپر والے حصّے سے ران تک لاکرکسی ڈوری سے باندھیں

واللہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🏵استخارہ کسے کہتے ہیں اور اس کا طریقہ کیا ہے؟🏵

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
استخارہ کسے کہتے ہیں اور اس کا طریقہ کیا ہے؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ. رفعیہ رضویہ
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب

کسی جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ تائیدِ غیبی سے حاصل کرنے کے لئے ادا کی جانے والی دو رکعت نماز کو نماز استخارہ کہتے ہیں۔ ان دو رکعات میں سے پہلی رکعت میں سورۃ الکافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھے۔ پھر درج ذیل دعا پڑھے :

اَللّٰهُمَّ إِنِّیْ أَسْتَخِيْرُکَ بِعِلْمِکَ، وَأَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ، وَأَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِيْمِ، فَإِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ. اَللَّهُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ. . .(يہاں اپنی حاجت کا ذکر کرے) . . . خَيْرٌ لِیْ، فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ، فَاقْدُرْهُ لِيْ وَيَسِّرْهُ لِيْ، ثُمَّ بَارِکْ لِيْ فِيْهِ، وَإنْ کُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هٰذَا الْأَمْرَ. . . (یہاں اپنی حاجت کا ذکر کرے) . . . شَرٌّ لِّيْ، فِيْ دِيْنِيْ وَمَعَاشِيْ وَعَاقِبَةِ أَمْرِيْ، فَاصْرِفْهُ عَنِي وَاصْرِفْنِيْ عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ کَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِيْ بِهِ.

(📚بخاری، الصحيح، کتاب التطوع، باب ما جاء فيالتطوع مثنی مثنی، 1 : 391، رقم : 1109)

’’اے اللہ! بے شک میں (اس کام میں) تجھ سے تیرے علم کی مدد سے خیر مانگتا ہوں اور (حصولِ خیر کے لیے) تجھ سے تیری قدرت کے ذریعے قدرت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا فضل عظیم مانگتا ہوں، بے شک تو (ہر چیز پر) قادر ہے اور میں (کسی چیز پر) قادر نہیں، تو (ہر کام کے انجام کو) جانتا ہے اور میں (کچھ) نہیں جانتا اور تو تمام غیبوں کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (جس کا میں ارادہ رکھتا ہوں) میرے لیے، میرے دین، میری زندگی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کر اور آسان کر پھر اس میں میرے لیے برکت پیدا فرما اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری زندگی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اس (کام) کو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی عطا کر جہاں (کہیں بھی) ہو پھر مجھے اس کے ساتھ راضی کر دے۔‘‘

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی حاجت بیان کرو۔

واللہ و رسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


💚خون دینا جائز ہے یا نہیں 💚


السلام علیکم و رحمۃاللہ وبرکاتہ
 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں
خون دینا جائز ہے یا نہیں؟اگر ہے تو کب اور کسکو دینا جائز ہے ؟اوراگر نہیں ہےتو اسکی وجہ کیا ہے ؟ برائے کرم بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
 سائل .شہنواز خان. بھوبنیشور
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
خون لینے اور دینے کا مسئلہ اگر چہ مختلف فیہ رہا ہے مگر بوقت حاجت مندرجہ ذیل صورتوں میں فقہاء نے جائز قرار دیا ہے.
(1⃣)مریض کی جان بچانے کے لئیے.

(2⃣)اعضا کا بیکار ہونے سے بچانے کے لئیے.

(3⃣)جمال مقصود کی تحفظ حلقہ جشم کی حفاظت یا کسی اور عضو کی حفاظت کے لیے بشرطیکہ کسی اور جائز ذرائع سے اس کا تحفظ نہ ہو سکے.

(4⃣)خون نہ)چڑھانے سے جب مریض کو زیادہ دنوں تک مرض کی تکلیف ہو اگر یہ ناقابل برداشت حد تک ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں.
خون کی کمی کے باعث انسیجنل ھرنیا ہونے کا خطرہ ہو تو بھی جائز ہے جیسا کہ آپریشن کے بعد خون کی کمی سے ایسا ہوتا ہے.
📚رد المحتار جلد اول ص 365 کتاب الطھارت میں ہے اختار صاحب الھدایۃ فی التجنیس فقال لورعف فکتب الفاتحۃ بالدم علی جبھتہ وانفہ جاز للاستشفاء... لکن لم ینتقل وھذا لان الحرمۃ ساقطۃ عند الاستشفاء یحل الخمروالمیتۃ للعطشان والجائع،،اھ
📚فتاوی ھندیہ ج 5ص355کتاب الکراھۃ الباب الثانی عشر فی التداوی والمعالجات میں ہے،، ولا باس بان یسعط الرجل یلبن المراۃ ویشربہ للدواء وفی شرب لبن المراۃ للبالغ من غیر ضرورۃ اختلاف المتاخرین،، اھ
اس کی تفصیلی گفتگو مجلس شرعی کے فیصلے
🗂 ص193فیصلہ نمبر 12 میں موجود ہے

واللہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الاازهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🌼اویس قرنی کا واقعہ صحیح نہیں ہے🌼


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
سوال کا جواب عنایت فرمائیں 👇
   کیا اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ نے واقعی اپنے پورے دانت توڑ لئے تھے جیسا کہ عوام میں مشہور ہے حالانکہ شریعت کے رو سے اپنے اعظائے بدنی کو تکلیف میں مبتلا کرنا جائز نہیں ہے؟؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
 ⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کے دندان مبارک جنگ احد میں شہید ہوئے تھے

⚡حدیث شریف میں ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے فرمایا اللہ تعالٰی کا غضب ایسے قوم پر سخت ہوجاتا ہے جو اپنے نبی پر ایسا کرے اور ارشاد فرمایا اپنی رباعیہ دانتوں کی طرف اللہ کا غضب سخت ہوگیا

⚡اس روایت کو ابی بن خلف حجمی فرماتے ہیں کہ

جب اس کی خبر اویس قرنی کو پہونچی تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی محبت میں اپنے دانت شہید کرلیے یہ روایت نظر سے نہیں گزری ہے غالبا ایسی کوئی روایت نہیں ملتی ہے اگرچہ مشہور یہی ہے*
📚حوالہ فتاوی بریلی شریف
 🗂صفحہ 300

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


💜کن صورتوں میں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟💜


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
جان جانے کے خدشہ کے علاوہ، کن صورتوں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ. بشریٰ فاطمہ گجرات
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
اسقاطِ حمل کی مدت ایک سو بیس (120) دن ہے۔ حدیث پاک میں عملِ تخلیق کو بیان کرتے ہوئے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان احدکم يجمع فی بطن امه اربعين يوما ثم علقة مثل ذلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيومر باربع برزقه واجله وشقی او سعيد‘‘

’’ تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے (نطفہ) پھر اسی قدر علقہ۔ پھر اسی قدر مضغہ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ رزق، عمر، نیک بخت یا بدبخت‘‘

📚بخاری، الصحيح، 2 : 976

فقہائے کرام فرماتے ہیں اگر حاملہ عورت چاہے تو ایک سو بیس (120) دن سے پہلے اسقاط حمل کر سکتی ہے۔

هل يباح الااسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شئی منه، ثم فی غير موضع ولا يکون ذلک الا بعد مائه وعشرين يوما انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح

 شامی، الدر المختار مع الرد المختار، 3: 176، طبع کراچی،ابن الهمام، فتح القدير، 3: 274

کیا حمل ٹھہرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے؟ (ہاں) جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے۔ پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے۔ تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔

رحم مادر میں استقرار حمل جب تک 120 دن یعنی چار ماہ کا نہ ہو جائے، حمل ضائع کرنا جائز ہے۔ جب بچہ بطن مادر میں چار ماہ کا ہو جائے تو، اب اسے ضائع کرناجائز نہیں بلکہ حرام ہے۔

اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے بچوں کی پیدائش سے بچہ یا زچہ کی صحت پر اور بچوں کی دیکھ بھال پر منفی اثرات پڑیں گے، تو اس صورت میں عورت کے لئے ضبط تولید کے مفید اصولوں کو اپنانا نہ صرف جائز بلکہ مناسب تر ہے۔ بچے کی پیدائش پر ماں کو جن تکالیف، کمزوریوں اور دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ صرف عورتیں ہی کرسکتی ہیں۔ ہر ماں گویا مر کر دوبارہ زندہ ہوتی ہے۔ پھر پیدا ہونے والے بچے کو دو سال تک دودھ پلانا ماں کی ذمہ داری اور بچے کا حق ہے۔ لہٰذا ایسے مسائل سے بچنے کے لیے اسقاطِ حمل جائز ہے۔

اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجئے:

خاندانی منصوبہ بندی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🔮واشنگ مشین کے استعمال کا حکم🔮

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں
واشنگ مشین سے کپڑا دھونا کیساہے؟نیز پاک اور ناپاک کپڑے ملاکر دھوے جائیں توکیاحکم ہے
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں ؟بیان فرمائیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ شبینہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون المک الوھاب
صورت مسؤلہ میں عرض ھیکہ واشنگ مشین میں ناپاک کپڑا مندرجہ ذیل صورت میں پاک کر سکتے ہیں؛؛ یعنی واشنگ مشین میں کپڑے ڈال کر پہلے پانی بھر لیجئے اور کپڑوں کو ہاتھ وغیرہ سے پانی میں دباکر رکھئے تاکہ کپڑے کا کوئی حصہ ابھرا ہوا نہ رہے اور اوپر کا نل کھلا رکھئے اب نیچے کا سوراخ بھی کھول دیجئے اس طرح اوپر نل سے پانی آتا رہے گا اور نیچے سوراخ سے بہتا رہے گا اور جب ظن غالب آجائے کہ پانی نجاست کو بہا لے گیا ہوگا تو کپڑے اور مشین کے اندر کا پانی پاک ہو جائیگا جبکہ نجاست کا اثر کپڑوں وغیرہ پر باقی نہ ہو؛ لہذا ضرورتاً مشین کے اوپری کنارے مذکورہ طریقے پر شروع ہی میں دھو لینے چا ہئیں؛ 

البتہ اگر بالٹی یا کپڑے دھونے کی مشین میان پاک کپڑوں کے ساتھ ایک بھی ناپاک کپڑا پانی کے اندر ڈال دیا تو سارے ہی کپڑے ناپاک ہوجائیں گے اور بلا ضرورت شرعیہ اءسا کرنا جائز نہیں؛ 
وھکذا؛ فتاوی رضویہ شریف میں اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ والرضوان قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں بلا ضرورت پاک شئی کو ناپاک کرنا ناجائز و گناہ ہے ؛ 
📚فتاوی رضویہ جلد اول
🗂ص 792

فبذالک؛ فتاوی رضویہ شریف جلد 4 پر اعلحضرت فرماتے ہیں کہ؛ جسم اور لباس بلاضرورت شرعیہ ناپاک کرنا بھی حرام ہے
📚فتاوی رضویہ جلد 4 🗂ص585

نیز بحرالرائق میں ہے کہ پاک چیز کو ناپاک کرنا حرام ہے
📚بحراپرائق جلد اول🗂 ص 170

لہذا ضروری ہے کہ پاک اور ناپاک کپڑے جدا جدا دھوئیں اگر ساتھ ہی دھونا ہے تو ناپاک کپڑے کانجاست والا حصہ احتیاط کے ساتھ پہلے پاک کر لئے جائیں پھر بیشک دیگر میلے کپڑوں کے ہمراہ ایک ساتھ واشنگ مشین میں ڈال کر اس کو بھی دھو لیجئے؛

📚 نجاستوں کا بیان مع کپڑے پاک کرنے کے طریقے
🗂صفحہ نمبر 29/30

واللہ و رسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
اگر سر پر عمامہ، ٹوپی، دوپٹہ ہے تو کیا اس پر مسح کرنے سے مسح ہو جائے گا؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل عارف حسین
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
 عــمــامــہ پــر مــســح کــرنـــے ســـے مـــســح نـــہــیــں ہـــوگـــا ، بـــلکــہ عــمــامــہ اتــارکــر مـــســـح کـــرنـــا ہــــوگــا۔
اور اگـــر ٹـــوپی یـــا دوپــــٹـــہ اتـــنــے بــاریـــک ہـــیــں کــہ ان پــر مـــســح کــرنــے ســـے پــانـــی کــی تــری ســـر کــے بــالـــوں کــی چـــوتــھــائ کـــو تـــر کــر دے تــو مـــســـح ہـــو جــائـــے گــا ورنــہ نـــہــیـں۔

حـــضــور صـــدر الــشـــریـــعـــہ عــــلــیــہ الــــــرحـــمـــہ ارشـــاد فـــرمـــاتـــے ہــیــں
عـــمــامــے، ٹـــوپــی، دُوپــٹــے پـــر مـــســح کــافــی نــہیــں ۔ ہــاں اگــر ٹــوپــی، دُوپــٹــا اتــنـا بــاریــک ہــو کــہ تَــری پُــھــوٹـــ کــر چــوتــھــائــی ســر کــو تَــر کـــردے تــو مـــســح ہــو جــائــے گــا۔
📚 بــھــار شـــریــعــتـــ، ج1، 2/291

والــلــہ ورســولــہ اعــلــم بــلــصــوابــــ
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے عمر کو دو لاکھ روپے دیا جس عوض میں عمر نے اسے اپنی اس ایک عمارت دی یہ کہ کر کہ میں دو سال بعد آپ کا پیسہ واپس کر دوں گا اور آپ میرا گھر 🏡 میرے حوالے کر دیں گے... تو جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا زید کا اس طریقے پر پیسہ دینا جائز ہے اور عمارت کو قبضے میں کرنا یا ناجائز؟؟

برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے آمین..
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسولہ میں یہ قرض ہے اور زید عمر کی عمارت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اس لیے کے فائدہ اٹھایا تو سود ہو گا اور سود حرام قطعی ہے اس کا منکر کافر ہے

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا

کل قرض جرمنفعہ فھو ربا
جو قرض کوئی نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے

اور اگر اس بناء سے ہے جدا ویسی ہی باہمی سلوک کے طور پر کوئی نفع و انتفاع ہو تو وہ مدیون کی مرضی پر ہے اس کے خالص رضا و اذن سے ہو تو روا ورنہ حرام اب یہ بات کہ یہ انتفاع بر بنائے قرض ہے یا بطور سلوک اس کے لیے معیار شرط و قرار داد ہے یعنی اگر قرض اس شرط پر دیا کہ نفع لیں گے تو وہ نفع بربنائے قرض حرام ہوا اور اگر قرض میں اس کا کچھ لحاظ نہ تھا پھر آپس کی رضا مندی سے کوئی منفعت محض بطور احسان و مروت حاصل ہوئی تو وہ بربنائے حسن سلوک ہے نہ بربنائے قرض تو مدار کا شرط پر ٹھہرا یعنی نفع مشروط سود اور نفع غیر مشروط سود نہیں بلکہ باذن مالک مباح
پھر شرط کی دو صورتیں ہیں نصا یعنی بالتصریح قرار داد انتفاع ہو جائے اور عرفا کہ زبان کچھ نہ کہیں مگر بحکم رسم و رواج قرار داد معلوم اور دوستد خودہی ماخوذ مفہوم ہوا ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام و سود ہے
اور ایک قائدہ بیان فرماتے ہیں
فان المعھود عرفا کالمشروط لفاظا
📚ماخوذ فتاوی رضویہ جلد دہم صفحہ 283

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

مسئلہ.. کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ ایک ہندہ نامی لڑکی نے کسی شاعر کا لکھا ہوا کلام پڑھا جس اس نے مذکر کے صیغہ کو مؤنث سے بدل دیا اس کے اس انداز پر زینب نے کہا کہ تم نے غلط کیا کیونکہ یہ کتابتی خیانت ہے...

   وضاحت طلب مسئلہ یہ ہے کہ کیا زینب کا کہنا درست ہے کہ اگر کوئی مؤنث کسی کی لکھی ہوئی نعت کو مذکر کے بجائے مؤنث پڑھے تو صحیح نہیں؟؟؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ ام حبیبہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَلله وَبَرَكاتُهُ‎

الجواب بعون الملک الوھاب
دیکھٸے آپ نے پو چھا کہ ہندہ نے کسی شاعر کا لکھا ہوا کلام پڑھا جس میں اس نے مذکر کے صیغے کو مٶنث سے بدل دیا اس کے اس انداز پہ زینب نے کہا کہ تم نے غلط کیا کہ یہ کتابی خیانت ہے
وضاحت طلب مسٸلہ یہ ہے کہ کیا زینب کا کہنا درست ہے اگر کوٸی مٶنث کسی کی لکھی ہوٸی نعت کو مذکر کے بجاے مٶنث پڑھے تو کیا حکم ہے
تو دیکھۓ اس میں دو باتیں ہیں
ایک بات تو یہ ہے کسی کا بھی لکھا ہوا کلام ہو اور اس میں اپنےسے بدل کر پڑھنا اور اس طرح سے بدل کر پڑھنا جس سے معنی میں کوٸی خرابی نہ ہو تو کو ٸی حرج نہیں اور اگراس طرح سے بدل کر پڑھنا جس سے معنی میں خرابی پیدا ہو یا کو ٸی ایسا معنی ہو جس سے گناہ وغیرہ ہو تو وہ گنہگار ہوگا-
اب ایسے کیسے بتایا جا سکتا ہے جب تک اس کو دیکھا نہ جاے کہ کہا پر مذکر تھا مٶنث لگا دیا مذکر اور مٶنث تو بہت فرق ہوگا لیکن بہت سی ایسی چیزیں ہیں جو دونوں کے لۓ استعمال ہوتی ہیں
تو ٹھیک ہے ایسے کیسے بتایا جا سکتا ہے جب تک دیکھا نہ جاے -
مثلا
 👇
میں مدینہ چلا میں مدینہ
🖕🏽
اگر کوئ مؤ نث
اس طرح کہتی ھے

میں مدینہ چلی میں مدینہ چلی
🖕🏽
اس طرح مذکر کے لفظ کو مؤنث میں تبدیل کی ھے
جبکہ مونث پڑھتی تو اس سے کچھ خرابی لازم نہیں آتی تو نہ ھی مفھوم میں تبدیلی ھے
یہ ایسا ھی ھے جیسا کہ
اصلی
میں مذکر
نماز پڑھا پڑھتا ھوں
اور
مؤنث
کہے گی
میں نماز پڑھی ھوں
🖕🏽
جبکہ کہ مذکورہ لفظ حدیث پاک کا ھے
جب وھاں منع نہیں
تو یہاں بھی منع نہیں ھے

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


*💎مکان گروی پررکھنا؟💎*

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے عمر کو دو لاکھ روپے دیا جس عوض میں عمر نے اسے اپنی اس ایک عمارت دی یہ کہ کر کہ میں دو سال بعد آپ کا پیسہ واپس کر دوں گا اور آپ میرا گھر  میرے حوالے کر دیں گے... تو جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا زید کا اس طریقے پر پیسہ دینا جائز ہے اور عمارت کو قبضے میں کرنا یا ناجائز؟؟

برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے آمین..
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
الجواب بعون الملک الوھب
شریعت مطہرہ میں اسکو رہن کہتےہیں اوریہ جائزھے

جیساکہ امام اہلسنت سیدی اعلی حضرت ایک سوال کےجواب میں فرماتےہیں

سوال:نوٹ ادھارخریدا
اوراطمینان کےلےپاس زیوررہن رکھاجائزھےیانہیں

الجواب:جائزھے

(📚فتاوی رضویہ جلددہم
ص299رضااکیڈمی ممبئ)

البتہ مرتہن کو رہن سےکسی طرح کاانتفاع جائزنہیں نہ رہ کرنہ کرایہ پردےکر

(📚ایضاص. 300)

واللہ تعالی اعلم بالصواب؛
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں ہومیوپیتھک ادویات میں الکوحل اور اسپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے ان ادویات کا استعمال کرنا کیساہے ؟؟؟
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
مستفتیہ : مہتاب امجدی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعـلـیـکـم الــســلام و رحــمــۃ الـلــہ و بـرکـاتـہ

الـــجـــوابـــ بــعـــون الــمــلــک الــوھــابــــ
(اســـپـــرٹـــ یا الــکــحل آمـیـز)انـگـریـزی دوائـوں کـا اســـتــعــمــال عــمـوم بــلــوٰی کــی حـــد تــک پــہــنــچ چــکــا ہـــے 
مـــجــدد اعـــظـــم عـــلــیٰ حـــضـــرتـــ نــــــے پــڑیــاکــی رنــگــتـــ کــے بــارے مــیــں عــمــوم بــلـــوٰی اور دفـــع حـــرج کـــی بــنــیاد پــر طــہــارتـــ اور جــواز کــا فـــتـــویٰ دیــا ہــے
جــیســا کــہ📚 فــتــویٰ رضــویــہ جــلــد دوم صــفحــہ45اور50 نــیــز فــتــویٰ رضـــویــہ جــلــد دہــم صــفحــہ 54رسـالـــہ
 الــفــقــه الــتــســجــيــلــي فــي عــجــيــن الـــنــار جــيــلــي "مـیـں بے اس ارشــاد کــی روشــنــی مــیـں فــیصــل بــورڈ کــے ارکــان اس بـاتـــ پــر مــتــفــق ہــیــں کــہ مــذکــورہ انــگریــزی دواؤں کــے اســتــعــمــال بــھــی بــوجــہ عــمــوم بلــوٰی
 (دفــع حــرض کــے لـئــے )اجـازتـــ ہــــے الــبـتــہ یــہ اجــازتـــ صـــرفـــ انـــھــیــں صــورتــوں کــے ســـاتــھ خــاص ہــے جــس مــیں ابــتــلا ے عــام حـــرض مـــتــحــقــق ہــو
حــوالـہ📗 مــجــلــس شــرعـــی کـــے صــفــحــہ 120مــیـــں ہـــے
مـــطــالــعــہ کـــریـــں

والــلــہ ورســـولــہ اعــلـم بــلــصــوابــــــ
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ
  عورت کو لیپ اسٹک لگانا کیسا ہے برائے مہربانی جلد جواب عنایت فرمائیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ عائشہ نوری
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعــلـیـکـم الـسـلام ورحـمـتــ الـلـہ وبـرکـاتـہ

الــجــوابـــــ بــعـون الـمـلـک الـوھـابـــ
صـــورتـــ مـسـئـولـہ مــیـں لـپ اسـٹـکــ
  لـگـانـا جـائـز ہـــے۔
سـنـا ہــے کــہ اس مــیـں الـکـو حـل کـی آمـیـزش ہـو تـی ہـے اس لـئـے بـچـنـا بـہتـر ہـے اور تـحـقـیـق سـے یـہ آمـیـزش ثـابـتــ
 ہـو جـــائے تـو اس کـا اســتـعـمـال
 حــرام و گــنــاہ ہــــے
جــائـز خـلافــ اولــیٰ ہـو نـے کـی صـورتــ مـیـں بـھـی یـہ فـرض ہـے کـہ جـنـبـی اور بـے وضـو عـورتــ اور وضــو کــے وقــتـــ اسـے اچـھـی طــرح چـھـڑاکــر ہـونـٹــ صــافـــ کـرلـیـں ورنـہ وضــو ہــوگـا نــہ غـسـل کــیــو کــہ
لـپــ اسـٹـکــ ســے ہــونـٹـــ پــر نــہ جــم جــاتـی ہـے جــس کـے بـاعـثــ وہـاں پـر پـانـی نـہـیـں پـہـنـچے گـا تـو وہ پـاک بـھی نـہ ہـو گـا

(سراج الفقہا کی دینی📗مجالس صفحہ 144)

والـلـہ و رسـولـہ اعـلـم بـلـصـوابــــ
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء دین اسلام اس مسئلہ میں کی
 کیا بیوی خاوند کو نام سے پکار سکتی ہے کیا بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائلہ شگفتہ اشرفی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
 حـضـور صـدر الشر یعہ علیہ الرحـمــہ
فر ماتے ہـیـں کـہ 

عورت کو یہ مکروہ ھے کہ اپنے شوہر کا نام لے کر پکار ے ۔
  📗الد ر المختار ،
 کتاب الحظر والاباحة جلد 9 صفحہ 690

بعض جاہلو ں میں یہ مشہور ھے کہ عورت اگر شوہر کا نام لےلے تو نکا ح ٹوٹ جاتا ھے یہ غلط ھے شاید اسے اس لئے گڑھا ھوکہ اس ڈ ر سے کہ طلا ق ھوجائے گی شوہر کا نام نہ لے گی ۔
📚بہار شریعت جلد 3 حصہ صفحہ 657

والله اعلم با لصواب
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ھذا میں کیا عورتیں فیس پر بلیچنگ (یہ ایسا پاؤڈر ہے جس سے چہرے کی رنگت نکھر جاتی ہے)
کرنا جائز ہے؟ نیز تھریڈنگ (یعنی ابرو کے بال صاف کرنا)
ویکسنگ(ہاتھ 'پاؤں اور چہرے کے بال صاف کرنا) کا کیا حکم ہے ؟جواب عنایت فرما دیجئے مہربانی ہوگی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
مستفتیہ:مہتاب امجدی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄

وعـلـیـکـم الـسـلام و رحـمـتـ الـلـہ و بـرکـاتــہ

الــجــواب بــعــون الــمـلـکــ الـوھـابـــ
(بلیچنگ)صـورتــ مـسـولـہ مـیـں چـہـرے پـر کـریـم پـاوڈر وغــــیـرہ لـگـانـا جـائـز ہــے
لــیــکــن جــس مــیــں الــکــوحــل کــی آمــــــیـــزش تـــــحــــقــــیـــق ســـے
مـعـلـوم ہـو تــو حــرام و گــنـــاہ ہـــے

حــضــور صــدرالــشــریــعــہ عـلـیـہ الــرحــمـہ فـــــــــــــــــرمـــــاتـــــــے ہــــیـــــــــں کــــہ
(تھریڈنگ)ابــرو کــے بـال اگــر بــڑے ہــوگــئــےہــوتــو تــرشــوا ســکــتــے ہـیـں چــہرے کــے بــال لــیـنـا بــھـی جــائــز ہــے لــیـکـن چـہـرے کــے بـھـوں ســے چــہـرے کـی رنـگـتـــ ہــوتــی ہـــے بـــــــــــــچـــــــــنـــــا بـــہتــــــــر ہــــے

(ویکسنگ)اور ہــاتــھــ پــاؤں کـــے بــال دور کــرســـکــتـے ہـــــــیــــں کـــــوئـــــی حـــــــرج نــــہـــیـــں

📗ردالــمـحـتــار''،کــتــابـــ الـــحــظـــر والإبــاحــۃ، فــصــل فــي الــبــیــع،ج۹،ص۶۷۰،
📚بــــــــــــحــــــوالـــــہ بـــہـار شــریــعتــــ
 حــــــــــصــــہ شـــــانــــزدہــــــــــم🗂 585
والـــلـــہ ورســــولـــہ اعـــلــم بـــلـــصــــوابـــــ
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں ہومیوپیتھک ادویات میں الکوحل اور اسپرٹ کی آمیزش ہوتی ہے ان ادویات کا استعمال کرنا کیساہے ؟؟؟
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
مستفتیہ : مہتاب امجدی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعـلـیـکـم الــســلام و رحــمــۃ الـلــہ و بـرکـاتـہ

الـــجـــوابـــ بــعـــون الــمــلــک الــوھــابــــ
(اســـپـــرٹـــ یا الــکــوحــل آمـیـز)انـگـریـزی دوائـوں کـا اســـتــعــمــال عــمـوم بــلــوٰی کــی حـــد تــک پــہــنــچ چــکــا ہـــے 
مـــجــدد اعـــظـــم عـــلــیٰ حـــضـــرتـــ نــــــے پــڑیــاکــی رنــگــتـــ کــے بــارے مــیــں عــمــوم بــلـــوٰی اور دفـــع حـــرج کـــی بــنــیاد پــر طــہــارتـــ اور جــواز کــا فـــتـــویٰ دیــا ہــے
جــیســا کــہ📚 فــتــویٰ رضــویــہ جــلــد دوم صــفحــہ45اور50 نــیــز فــتــویٰ رضـــویــہ جــلــد دہــم صــفحــہ 54رسـالـــہ
 الــفــقــه الــتــســجــيــلــي فــي عــجــيــن الـــنــار جــيــلــي "مـیـں بے اس ارشــاد کــی روشــنــی مــیـں فــیصــل بــورڈ کــے ارکــان اس بـاتـــ پــر مــتــفــق ہــیــں کــہ مــذکــورہ انــگریــزی دواؤں کــے اســتــعــمــال بــھــی بــوجــہ عــمــوم بلــوٰی
 (دفــع حــرض کــے لـئــے )اجـازتـــ ہــــے الــبـتــہ یــہ اجــازتـــ صـــرفـــ انـــھــیــں صــورتــوں کــے ســـاتــھ خــاص ہــے جــس مــیں ابــتــلا ے عــام حـــرض مـــتــحــقــق ہــو
حــوالـہ📗 مــجــلــس شــرعـــی کـــے صــفــحــہ 120مــیـــں ہـــے
مـــطــالــعــہ کـــریـــں

والــلــہ ورســـولــہ اعــلـم بــلــصــوابــــــ
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ

   کیا ایک مرتبہ کسی عمل خیر کی نیت صالحہ کر لے اور اس کو کئی بار کرے تو کیا اس کو ہر بار اس سابقہ نیت صالحہ کا جزائے خیر عطا کیا جائے گا یا ہر مرتبہ الگ الگ نیت کرنی ہوگی، مثلاً کو فجر کے وضو میں نیت کر لے اس کے بعد تمام وضو بغیر نیت کے کرے تو کیا اسے ثواب ملے گا یا نہیں؟؟

برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں عین نوازش ہوگی...
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ رمانہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام ورحمة الله وبركاته

الجواب بعون الملک الوھاب
اگر اس نے فجر کے وضو میں نیت حسنہ کی ہوگی تو جب تک وہ وضو رہے گا اسے ثواب ملے گا

لیکن اگر اس کا وضو ٹوٹ گیا
اور پھر اس نے بغیر نیت کے وضو کیا تو وضو ہو جائے گا لیکن ثواب نہیں ملے گا

📚*بھار شریعت*

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


🖤فاحشہ عورت کا نکاح🖤

السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زیدنے اپنی بیوی کو کئی بارزناکراتے ہوئے دیکھ لیاپکڑلیا لہٰذا اب وہ اپنی بیوی کو نکاح میں رکھ سکتا ھے یانہیں
بحولہ جواب عنایت فرمائیں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائلہ غوثیہ امجدی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعــلــیــکــم الـسـلام و رحــمتــ الـلـہ و بـرکـاتـہ

الــجــواب بــعــون الــمــلــکــــ الــواھــابـــــ
صــورتــ مــســولــہ مــیــں زیــد کــی بــیــوی اگــر زنـا کــرائے تــو زیــد کــے نــکــاح ســے نــہــیــں نــکــلے گــی اور نــہ ہــی زیــد پــر واجــبـــ ہـــے کــہ وہ اپــنــے بــیــوی کـــو طـــلاقــــ د ے

لــیــــکــن درمـــخــتـــار مــیــں ہــے
لا یـــجـــبــ عــلــی الــزوج تــطــلــیق الـفـاجـر

ہـاں زیـد کـو ایـسـی بـدچـلـن کــو ہـر مـمـکـن ذریــعـے ســے بــدچــلــنـی ســـے روکــنــا ضـــــــــــــــــــــــروری ہـــــــــــــــــــــے

اور اللہ تـعـالٰی کا قـران مـجـیـد مـیں ارشـاد ہے
والاتــی تــخــافــون نــشــو زھــن فــعظــوھــن واھــجــروھــن فــی الـــمــضـــــاجـــــــع وضــربــوھــن فــان اطــــعـنــــکــــــــم
فــلا تـــــبــغــو عـــلـــیـــھن ســـبــیــلا

اگـر عـورتـیـں نـافـرمـانـی کـریـں تـو انـہـیـں سـمـجـھـاو خـوابـگـاہ مـیـں انـہـیـں اپـنـے سـے الـگــ کــردو اور مــارو لــیــــــکــــــن جـــــبــــــ بـــاتـــــ مــــانـــــ جـــائــیـں تـو ایـســا نـہ کــرو

📗 قـران شـریـفـــ سورہ النساء
 پارہ ۵🗂صفحہ ۲

📚 فــتاوی بــحــرالـعـلـوم
 جـلـد ۳🗂صـفحـہ ۲۷

والــلــہ ورســـولــہ اعــلــم بــلــصــوابـــــ
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
  صلح کلی کے یہاں شادی کرنا جاںُز ہے
برائے کرم بحوالہ جواب عنایت فرمائے
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائل شمس رضا
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
 صلح کلی جو ہر مذہب کو حق سمجھتا ہے اس کے یہاں شادی کرنا جاںُز نہیں

بحوالہ📚فتاوی فیض الرسول جلد ۳ ص۳۲۳

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
​گلے میں تعویز پہننا یا بازو پر تعویز باندھنا  کیسا ہے کیونکہ بہت لوگ ناجائز بتاتے ہیں  برائے کرم بحوالہ جواب عنایت فرمائے
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائلہ عائشہ نوری
 🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄

وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

​الجواب بعون الملک الوھاب
​گلے میں تعویز پہننا یا بازو پر باندھنا اسی طرح بعض دعاؤں یا آیتوں کو کاغز پر یا رکابی پر لکھ کرشفا کی نیت سے دھو کرپلانا یہ سب جائز ہے​

​یاد رکھو کہ بعض حدیثوں میں جو گلے میں تعویز لٹکانے کی ممانعت آئ ہے اس سے مراد زمانہ جاہلیت کے وہ تعویزات ہیں جو مشرکانہ منتروں سے بنائے جاتے تھے ایسے جنتروں کا پہننا آج کل بھی حرام ہے لیکن قرآن کی آیتوں اور حدیثوں کے تعویزات ہمیشہ اور اس زمانے میں جائز تھے اور اب اس زمانے میں بھی جائز ہیں اور کل مستقبل میں بھی جائز رہےگا​

​📚بحوالہ درمختار و
ردالمختار جلد 5 🗂صفحہ 232

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄




السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائےکرام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ چین والی گھڑی پہن کر یا کوئی دو انگوٹھی چاندی والی پہن کر یالوہا یاپیتل  یاسونے کی انگوٹھی پہن کر یا ہاتھ میں لوہے تانبے یاسونےیا چاندی کا ہاتھ میں چھلّہ پہن کر نماز پڑھنا کیسا ہے مطلب یہ کہ نماز ہوگی یا نہیں
برائے مہربانی بحوالہ جوابات عنایت فرمائے
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائل سلمان رضا دہلی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
​وعلیکم السلا م ورحمة اللہ وبرکاتہ​

الجواب بعون الملک الوھاب

چین والی گھڑی کا مسئلہ مختلف فیہ ہےاس لئے احوط یہ ہے کہ نہ استعمال کیا جاے

ایسا ہی ​
📚فتاوی شار ح بخار ی ج1🗂ص30​ پر ہے 

اور رہا انگوٹھی کا مسئلہ تو اس کے بارے میں فتاوی عالمگیر ی وغیرہ میں یہ ھے کہ

​مردوں کے لئے سونے کی انگو ٹھی  پہننا حرا م ھے

📚 فتاوی عالمگیری  جلد5صفحہ🗂 295 

مردوں کے لئے چاندی کی ساڑھے چار ماشہ ( گرام ) سے کم کی صرف ایک انگوٹھی ایک نگ والی پہننا جائز ھے چند انگوٹھی یا چند نگ والی انگوٹھی مردوں کو پہننا جائز نہیں عورتوں کو جائز ھے

📚فتاوی رضویہ جلد 9 🗂صفحہ 14

  حضور اعلی حضرت ر ضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،، شرعا چاند ی کی  ایک انگوٹھی ایک نگ کی کہ وز ن میں ساڑھے چار ماشہ سے کم ھو پہننا جائز ھے ۔

📚فتاوی رضویہ مترجم
جلد 22 🗂صفحہ141

اس کے علاو ہ پہننے کے سلسلے میں فرماتے ہیں کہ ،، ایک آد ھ بار پہننا گناہ صغیرہ اور اگر پہنی اور اتار ڈالی تو اس کے پیچھے نماز میان حر ج نہیں اور اگرنماز میں پہنے ھو تو اسے امام بنانا ممنو ع ، اور اس کے پیچھے نماز مکروہ ، یوں ہی جوپہنا کرتا ھے  اس کا عاد ی ھے فاسق معلن ھے اور اس کو امابنانا گناہ اگر اس ونماز میں  نہ پہنےھو ،،

📚فتاوی رضویہ مترجم ج 6🗂ص 601

مرد وں کو سونے کی انگوٹھی پہن کر نماز پڑھنا اور پڑھانا مکروہ تحریمی ھے

📚فتاوی رضویہ جلد 9 🗂صفحہ 56

تکبر کے طور پر انگو ٹھی پہننا جائز نہیں

📚فتاوی رضویہ مترجم ج 22🗂ص 141

سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں مثلاً  لوہا پیتل ،تانبہ، رولڈ گولڈ ، رانگا وغیرہ کے زیورات یا انگوٹھیاں مردیاعورت کسی کو پہننا جائز نہیں ان دھاتوں کو پہن کر مرد یا  عورت کسی نے بھی نماز پڑھی تو نماز مکروہ تحریمی ھوگی

📚فتاوی رضویہ ج 9 🗂ص 14

📚فتاوی فیض الرسول ج 2 🗂ص  565

📗جنتی زیور 🗂ص 310

عورت جتنا چاھے اتنا سونا چاندی پہن سکتی ھے ۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
عورتوں کو کاجل اور کالا سرمہ زینت کے لیے لگانا کیسا ہے مردوں کو بھی جواب عنایت کریں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائل عارف رضا
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

​الجواب بعون الملک الوھاب

​یعنی عورتوں کو کاجل اور کالا سرمہ زینت کے لیے لگانا جائز ہے​
​مردوں کو​
​کالا سرمہ محض زینت کے لیے لگانا ناجائز ہے​
​(ہاں اگر)​
​کالا سرمہ آنکھوں کے علاج کے لئے لگائے تو اس میں کوئ کراہت نہیں​

​📚  بحوالہ عالمگیری جلد ٥ صفحہ ٣١٤

 واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
ﻭﺿﻮ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻧﺘﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ جواب عنایت فرمائے
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائلہ شگفتہ نوری (کشمیر)
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ

 ﺍﻟﺠﻮﺍﺏ ﺑﻌﻮﻥ ﺍﻟﻤﻠﮏ ﺍﻟﻮﮬﺎﺏ
 ﻧﺘﮫ ﮐﮯ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﮐﻮ ﺩﮬﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻖ ﺳﮯ
ﺣﻀﻮﺭ ﺻﺪﺭ ﺍﻟﺸﺮﯾﻌﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﮧ
 ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ
ﻧَﺘﮫ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺍﺥ ﺍﮔﺮ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮩﺎﻧﺎ ﻓﺮﺽ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﺗﻨﮓ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺘﮫ ﮐﻮ ﺣﺮﮐﺖ ﺩﮮ ﻭﺭﻧﮧ ﺿﺮﻭﺭ ﯼ ﻧﮩﯿﮟ ۔

(📚 ﺑﮭﺎﺭ ﺷﺮﯾﻌﺖ ، ج 1 ، 2/289)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄


🔊نعت پاک کو گانوں کی طرز پر پڑھنا کیسا 🔊

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
گانوں کی طرز پر نعتِ پاک پڑھنا اور سننا کیسا ہے اور جو شخص گانوں کی طرز پر نعت پاک پڑھنے والے شعراء کی نعتِ پاک سن کر سبحان اللہ ,ماشاءاللہ کہے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟
جواب عنایت فرمادیجیے مہربانی ہوگی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
 سائلہ مہتاب امجدی
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الــجـــواب بــعــون المــلـکـــ الــوھـابـــــ
نعت پاک کو گانوں کے طرز پر پڑھنا یا پھر سنا دونوں جائز نہیں ہے. اسی طرح اگر نعت کے ساتھ موسیقی تو نہیں ہے لیکن وہ ہے گانے کی طرز پر تو جب اس نعت کو سنا جائے گا تو وہ گانا بھی یاد آئے گا ۔ تو نعت کے ساتھ ساتھ دماغ میں گانا بھی بج رہا ہو گا. تو کیسی بری بات ہے ۔ بلکہ یہ نعت کی توہین ہے اور فساق کے ساتھ مشابہت کی بات بذات خود ایک مستقل جرم ہے ۔

ســرکـار اعـلــی حــضــرتـــ رحــمــۃ الـلـہ عـلیـہ ارشـــــــاد فــــــرمــــــــاتـــــــے ہـــــیـــــــں

نعت سادہ خوش الحانی کے ساتھ ہو ،گانوں کی طرز پر نہ پڑھی جائے

📚فـــتـاویٰ رضـــویــہ
 جـــلــد۲۳🗂صــفـحــہ۳۶۳

لہٰذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ نہ ہم گانوں کے طرز پر نعت پاک پڑھیں اور نہ سنے کیونکہ یہ فعل جائز نہیں ہے.

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
 🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
 کیا کوئی عورت ٹیسٹ ٹیوب بےبی کا عمل کسی لیڈی ڈاکٹر کے ذریعے کرا سکتی ہے ؟
برائے مہربانی اس کی تمام جائز ،ناجائز صورتوں پر رشنی ڈالیے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
سائلہ مہتاب فاطمہ امجدی
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹

واعلیکم السلام  و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے افزائش نسل کی سات صورتیں ہیں:

(۱ ) شوہر کا مادۂ تولید انجکشن وغیرہ کے ذریعے اس کی بیوی کے رحم میں مناسب جگہ پہنچا دیا جائے۔

(۲) شوہر اور اس کی بیو ی کے تولید ی مادے حاصل کرکے مخصوص مدت تک کسی ٹیوٹ میں ان کی پرورش کی جائے اور پھر اسی بیوی کے رحم میں اسے منتقل کر دیا جائے۔

بے اولاد  جوڑوں کے لیے،حصولِ اولاد کی غرض سے یہ دوصورتیں جائز ہیں۔بشرطیکہ بیوی کے رحم میں سے منتقل کرنے کا کام خود شوہر انجام دے اوراگر شوہر اس کے طریقۂ کار سے ناواقف ہو تو لیڈی ڈاکٹر یہ کام انجام دے۔ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے یہ طریقے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد ڈاکٹر سے کروانا جائز نہیں۔(اگرچہ اولاد حلا ل ہی ہوگی)

(۳) شوہر اور بیوی کے تولیدی مادے حاصل کیے جائیں اور ان کے آمیزے کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کردیا جائے۔

اس صورت کو بعض علما نے مطلقاً ناجائز قرار دیا ہے اور بعض علما نے اس شرط کے ساتھ اس کی گنجائش دی ہے کہ پہلی بیوی تولید کی اہل نہ ہو یا وہ  زچگی کی متحمل نہ ہو۔اگر پہلی بیوی طبی لحاظ سے تولید کی اہل ہو اور زچگی کی متحمل بھی ہو تو بالاتفاق اس کی اجازت نہیں۔

(۴)  شوہر اور ایک اجنبی عورت کے مادے باہم ملائے  جائیں اور ان کی بار آوری کے بعد اسے شوہر کی بیوی کے رحم منتقل کر دیا جائے۔

(۵)  شوہر   کے علاوہ کسی اور شخص کے نطفے اور بیوی کے تولیدی مادے کی باہم پرورش کی جائے اور ان کے آمیزے کو شوہر کی بیوی کے رحم میں منتقل کر دیاجائے۔

(۶) شوہر اور بیوی کے مادوں کی باہم پرورش کرکے اسے  کسی تیسری اجنبی عورت کے رحم میں منتقل کردیا جائے۔

(۷) کسی اجنبی مرد اور اجنبی عورت کے مادوں کی باہم پرورش کر کے اسے بیوی کے رحم میں منتقل کر دیا جائے۔

یہ چارصورتین قطعاً ممنوع اور حرام ہیں
(📚ماخذہ:جواہر الفتاوی جلد اول، مسائل بہشتی زیور ۱/۴۹۷،۴۹۶:قاموس الفقہ  ۲/۵۲۸۔۵۳۲،شرعی فیصلے:۹۲،۹۳)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖                                     
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ 
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹

⛔مرد کو لال کپڑا پہنناکیسا⛔

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ 
  مردوں کو لال( Red ) کلر
 کا کپڑا پہننا جائز ھے یا ناجائز
برائے مہربانی بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائل عارف حسین اندور
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
وعــلـیـکـم الـسـلام و رحـمـۃ الـلـہ و بـرکـاتـہ

الـجـوابــ بـعـون الـمـلـکــ الـوھـابـــــ
لال رنـگ کـا کـپـڑا عـورتـوں کـو پـہـنـنـا
جـائـز ھـے اور مـردوں کـو زیـنــتــــ
کـــے لـــئے پــہـنـنـا جـائـز نــہـیـں ھــے ۔

📚ر دالـمـحـتـار جـلـد۵🗂 صــفــحــہ ۲۲۸
📚شـرح مـسـلـم جـلـد ۶ 🗂صـفـحـہ ۳۵۴

والـلـہ ورسـولـہ اعـلـم بـالـصـوابـــ
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
پھوپی کے بیٹے (پھوپوزاد بھائ) کی لڑکی یا لڑکے سے نکاح جائز ہے کہ نہیں برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
سائلہ شگفتہ اشرفی
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
 وعليكم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں پھوپی زاد کے لڑکے یا لڑکی سے نکاح جائز ہے آگر کوئی اور مانع شرعی أمر نہ ہو 

خداے تعلیٰ کا ارشاد ہے
 احل لکم ما وراء ذالکم
📘 سورہ نساء پارہ ۴ 

 یعنی جن عورتوں سے شادی منع ہے جس کا شمار قرآن نے کردیا ہے اس کے علاوہ تمہارے لیے نکاح جائز ہے

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼

📍حالت حیض میں عورت عمرہ کیسے کرئے📍

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ھذا میں کہ اگر عورت عمرہ کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ گئ اور ہوٹل پہنچتے ہی حائضہ ہو گئ اور واپسی تک حیض سے پاک نہیں ہوئی تو کیا حکم ہے
بینوا وتوجروا
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
مستفتیہ:مہتاب امجدی
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳

وعليكم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
عورت اگر عمرہ کا ارادہ رکھتی ہو اور اسے اپنے قریب ہی حیض آنے کی خبر ہو تو ارادہ ملتوی  کردے اور جب حیض سے پاک ہوجائے تب عمرہ پہ جائے۔
اوروہ خاتون جو عمرہ کے ارادے سے نکل پڑی اور میقات پہ یا اس سے پہلے حیض آگیا تو اس کے لئے مسنون یہ ہے کہ غسل کرکے عمرہ کی نیت کرلے(لبیک عمرۃ کہے) کیونکہ نیت کے لئے طہارت شرط نہیں ہے اور میقات سے مکہ تک تلبیہ پکارتی رہی اور مکہ میں اپنے حیض سے پاک ہونے کا انتظار کرے جب پاک ہوجائے تومسجد عائشہ جانے کی ضرورت نہیں اپنی رہائش پہ ہی غسل کرے اور وہیں سے عمرہ ادا کرے ۔
یہاں مزید چند مسائل بیان کردئے جاتے ہیں ۔
(۱) بہت ساری خاتون حیض کی حالت میں احرام باندھنے کا حکم نہیں جانتی جس وجہ سے احرام نہیں باندھتی اور باوجودیکہ عمرہ کا ارادہ رکھتی ہیں بغیر احرام میقات سے گذرجاتی ہیں اور پھر پاک ہونے پر مسجد عائشہ سے احرام باندھتی ہیں ۔ یہ غلط ہے ۔ جس کا ارادہ عمرہ یا حج کا ہو وہ بغیر احرام میقات پار نہ کرے خواہ وہ حیض یا نفاس سے ہی کیوں نہ ہو۔اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے جب ذوالحلیفہ میں بچہ جنم دیا تھا تو انہیں نبی ﷺ نے غسل کرکے احرام باندھنے کا حکم دیا تھا ۔ اس سے امام نووی رحمہ اللہ حیض والی کے احرام پر بھی دلیل پکڑی ہے ۔
(۲) حالت حیض میں احرام باندھ کر پاکی کا انتظار کرے اس دوران وہ خود کو اپنے شوہر سے دور رکھے گی ۔
(۳) کچھ عورتیں جہالت کی وجہ سے حالت حیض میں مکمل عمرہ کرلیتی ہیں ، یہ بھی غلط ہے ۔ ناپاکی کی حالت میں طواف کرنا منع ہے یہاں تک کہ بغیر وضو بھی طواف نہیں ہوگا۔ اگر کسی عورت نے حیض کی حالت میں مکمل عمرہ کرلیا تو اسے اللہ سے سچی توبہ کرنا چاہئے اورعمرے کا اتمام کرنا چاہئے۔
(۴) اگر کسی عورت کو مکہ پہنچ کر حیض آیا توبھی پاک ہونے تک رکی رہے ، کسی کو طواف کرتے حیض آیا تو طواف چھوڑدے اور پاک ہونے پہ پھر سےازسرے نو طواف اور عمرے کے دیگر ارکان وواجبات ادا کرے، اور کسی کو طواف کے بعد یا سعی کرتے ہوئے حیض آیا توسعی مکمل کرلے کیونکہ سعی کے لئے طہارت شرط نہیں ہے پھررک جائے اور پاک ہونے پر طواف ، طواف کی نماز اور بال کاٹے اور چاہے توطواف کے بعد سعی بھی کرلے نہ کرے تو بھی پہلی سعی کافی ہوگی۔ اور اگر بال کاٹنے کے بعد حیض آیا تو عمرہ مکمل ہوچکا ہے ۔
(۵) حالت حیض میں ذکر و اذکار اورصحیح قول کے مطابق زبانی تلاوت (بلاچھوئے) بھی جائز ہے اس لئے انتظار کے ایام میں حیض والی اس کام میں مشغول رہے۔
(۶) جن عورتوں کو احرام کی حالت میں حیض آنے کا اندیشہ ہو تو وہ میقات پہ عمرہ کی نیت کرتے ہوئے یہ الفاظ بھی کہے"إن حبسني حابس فمحلي حيث حبستني"
📚صحیح الببخاري :5089وصحیح مسلم:۱۲۰۷

ترجمہ:اگر کسی عارضہ نے مجھے روک لیا تو میری نیت وہاں تک ہی ہے ،جہاں اس نے روک لیا۔
اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ عمرہ کرتے ہوئے اب اگر حیض آگیا تو اس کے اوپر کچھ بھی نہیں ۔ نہ دم دینا ہے، نہ فدیہ دینا ہے ، نہ بال کٹانا ہے اور نہ اس کی قضا دینی ہے، وہ فورا احرام ختم کرسکتی ہے۔
(۷) بعض علماء نے حیض آنے کے اندیشے میں مانع حیض گولی کھانا جائز قرار دیا ہے گر کوئی نقصان دہ پہلو نہ ہومگر میری رائے یہ ہے کہ عمرہ کو " إن حبسني حابس فمحلي حيث حبستني" سے مشروط کرلینا ہی ہراعتبار سے زیادہ بہترہے۔
(۸) اگر عورت کے ساتھ ایسا معاملہ ہو کہ وہ خارج سعودی عرب سے عمرہ پر آئی ہو اور اس کے پاس انتظار کے لئے وقت نہ ہونیز اس کا دوبارہ لوٹ کر آنا بھی ممکن نہ ہو تو کس کےلنگوٹی باندھ لے اور عمرہ مکمل کرلے اور اگر داخل سعودی عرب سے آئی ہوتواس کا لوٹنا ممکن ہے وہ سفر کرجائے اور پاک ہوکر آئے اور عمرہ مکمل کرے ۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیاگیاحائضہ نے ابھی تک طواف افاضہ نہیں کیاہے اور وہ سعودی عرب سے باہر رہتی ہے ،اس کے جانے کا وقت آگیا ہے وہ انتظار نہیں کرسکتی اور نہ ہی واپس آسکتی ہے ایسی عورت کا کیا حکم ہے ؟
شیخ نے جواب دیا : اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو دو میں سے کوئی ایک کام کرے یاتو سوئی لگالے جو دم حیض کو روک دے پھر طواف کرے یا اس طرح لنگوٹی باندھ لے کہ حرم میں خون نہ بہے پھرطواف کرے ۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
✍🏻کتبہ  معین الدین الأزھــــــری
📱+919337025391
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳

السلا م علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
 کیا عورت پنجوقتہ نماز میں سے کسی نماز کو یا تراویح کی نماز کو جماعت کے ساتھ امام بن کر پڑھا سکتی ھے
برائے مہربانی اس سوال کا جواب بحوالہ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
سائلہ عرشیہ رضویہ
🛄 🛄 🛄 🛄 🛄 🛄 🛄 🛄 🛄
وعلیکم السلا م ورحمة اللہ وبرکاتہ

الجواب بعون الملک الواھاب
 سورت مسئولہ میں عورتوں کی امامت وجماعت د ونوں مکروہ تحریمی ھے خواہ فرائض ھو ں یا نوافل
   
📚فتاوی عالمگیر ی میں ھے
ویکرہ امامةالمراةللنساء فی الصلات کلھا من الفرائض والنوافل"اھ جلد ۱صفحہ 

اور المختصر القد ور ی میں ھے کہ
 ویکرہ للنساء ان یصلین وحد ھن بجماعة 
صفحہ ۲۳ ، باب صفة الصلوة ، مطبوعہ مجلس برکات


📚 اور د رمختار 'باب الإمامة میں ھے ۔
یکرہ تحریما جماعةالنساء "اھ جلد۱ صفحہ۵۶۵

 حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں کہ ،
عورتوں کو جماعت کا حکم فرض میں نہیں نفل تو نفل ھے عورتوں کی جماعت مکروہ ھے اور اگر کریں تو ان میں جو امام ھے وہ ان کے وسط میں کھڑی ھو مرد وں کی طرح آگے نہ کھڑی ھو فرض میں بھی یوں ہی تراویح میں بھی کہ اس میں ان کی امام آگے کھڑی ھو تو کراہت د وہری ھوجا ئے گی اور امام د وہری گنہگار
د رمختار میں ھے ویکرہ تحریما ولو فی التراویح"اھ
📚فتاوی مصطفویہ صفحہ ۲۱۳

        لہذا علمائے کرام کو چاہئےکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اداکرتے ھوئے عورتوں کو حکم شر ع سے آگاہ کریں کہ وہ اپنے گھروں میں تنہاتنہا نمازاداکریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄🛄

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ.
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ ھذا میں
اگر بیٹے کو والدین نے اپنے ساتھ حج کرایا
اور بیٹا بالغ تھا
مگر بیٹا صاحب نصاب نہیں تھا
بعد میں بیٹا خود صاحب نصاب ہو گیا
تو کیا فرض کی ادائیگی کیلئے دوبارہ حج کرنا پڑے گا
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں بالغ بیٹے نے اپنے والدین کے ہمراہ حج کر لیاہے اس سے حج فرض ہی ادا ہو گیا ہے لھذا دوبارہ غنی ہونے کے بعد حج کرنا لازم نہیں

ہندیہ میں ہے :الفقیر اذا حج ماشیا ثم الایسر لا حج علیہ
📚الفتاوی الھندیہ جلد۱صفحہ۲۱۷

حـــضــور صــدر الــشـریــعـہ فـرمـاتـے ہـیـں
 زید اپنے بڑے لڑکے کو اگر اپنے ساتھ حج کو لےجاتا ہے اگر وہ لڑکا بالغ ہے تو اس کا یہ حج حج فرض ادا ہوگا اور حج فرض ہی کی اس کو نیت باندھنی چاہیے
بعد میں بیٹا خود صاحب نصاب ہو گیا تو
اب اس کے اوپر پھر حج کرنا ضروری نہیں
حج فرض ادا ہوگیا اور اب جو حج کرےگا حج نفل ہو گا

📚بحوالہ فتاوی امجدیہ جلد۱صفحہ۴۰۰

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖                                         
👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ 
👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ھذا میں
ایک عورت ہے اس کا کوئی لڑکا یا لڑکی نہیں ہے اس کے پاس دین مہر کی جائداد ہے اس کی وفات کے بعد اس جائداد میں کن کن کو لو گوں کاحصہ ہو گا اس کا بھائی موجود ہے اور سوت کا لڑکا بھی ہے
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
سائلہ عائشہ پروین
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں بعد تقديم مایجب ان یقدم علی الارث عورت کے جائداد کا مالک صرف اس کا بھائی ہے صوت کے لڑکے کو عورت کی جائداد سے کوئی حصہ نہیں ملے گا

📚بحوالہ فتاوی فیض الرسول
 جلد ۲ صفحہ ۷۶۳

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ 
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ مسلمان عورتیں بھی ساڑی پہنتی ہیں ساڑی کی شرعی حیثیت کیا ہے اور ہنود کی طرح مسلمان عورتیں بھی ماتھے پے بندیا لگاتی ہے
کیا یے درست ہے بحوالہ جواب عنایت فرمائے
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
سائل منیب رضا ناسک
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
وعليكم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون المک الوھاب
صورت مستفسرہ میں ساڑی اگر اس طرح پہنی جائے کہ بے پردگی نہ ہو تو جائز اور بے پردگی ہو تو ناجائز اور نیچے کی جانب کھلے رہنے میں کوئی قباحت نہیں اس لئے شریعت مطہرہ میں ساڑی اور تہبند پہنکر نماز پڑھنے کو جائز قرار دیا ہے اور حضورصلی اللہ تعالی علیہ وسلم تہبند ہی استعمال فرماتے رہے

بحوالہ 📚فتاوی فیض الرسول
 جلد ۲ صفحہ ۶۰۱

اور بِندیا ( ٹِکلی ) میں ہندؤں سے مشابہت ہوتی ہے کہ مسلمان عورتیں استعمال نہیں کرتیں لہذا ان کے استعمال سے احتراز لازم ہے

بحوالہ 📚فتاوی امجدیہ جلد ۴ صفحہ ۶۰

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
💙حــضـور افـــضــل الـعـلـمـاء گـــروپــــ💙
                                         
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
عورت کو حیض اجانے کی وجہ سے طواف و زیارت نہ کر سکی اور اپنے گھر اندور آنے کیلئے روانہ ہوگئ تو اب طواف و زیارت کب کرے اور طواف کے بدلے حرم میں قربانی کرانے سے ادا ہو جائے گا
برائے کرم بحوالہ تشفی بخش جواب عنایت فرمائیں
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
سائل عارف رضا اندور
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ مین عورت مذکورہ پر لازم تھا کہ جب تک وہ طواف زیارت نہ کر لیتی  اندور کے لئے روانہ نہ ہوتی مگر وہ طواف زیارت کے بغیر چلی آئی تو اسکا حج پورا نہیں ہوا - وہ شوال ؛ ذوالقعدہ ؛ یا ذوالحجہ میں مکہ شریف حاضر ہو کر طواف زیارت کرے اور تاخیر کے سبب دم دے یعنی ایک بکرا یا مینڈھا حرم میں ذبح کرے -
📗کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعة  جلد اول صفحہ ۲۵۳پر ہےالحنفية قالو ا اذا وقف بعرفة في شهر ذي الحجة ولم يطف طواف الا فاضه حتى فرغ ذالك الشهر كان عليه ان يطوفه في هذا الا شهر في سنة اخري اور 📚فتاوی عالمگیری جلد اول صفحہ ۳۴۲پر ہے يجب عليه دم لتاخير طواف الزيارة عند ابي حنيفة رحمة الله تعالى كذا في المحيط اھ "اور اس طواف کے بدلے حرم میں بڑے جانور کی قربانی کرنا کافی نہ ہوگا - جیسا کہ بدائع الصنائع جلد ثانی صفحہ ۱۳۳میں ہے" لايجزئ عن هذا الطواف بدنة لا نه ركن اور اركان الحج لايجزئ عنها البدل ولا يقوم غيرها مقامها بل يجب الا تيان بعينها كالو قوف بعرفة اھ "

📚بحوالہ فتاوی فقیہ ملت
جلد اول صفحہ 349

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
 کیا کوئی عورت ٹیسٹ ٹیوب بےبی کا عمل کسی لیڈی ڈاکٹر کے ذریعے کرا سکتی ہے ؟
برائے مہربانی اس کی تمام جائز ،ناجائز صورتوں پر رشنی ڈالیے۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
سائلہ مہتاب فاطمہ امجدی
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹

واعلیکم السلام  و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسئولہ میں ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے ذریعے افزائش نسل کی سات صورتیں ہیں:

(۱ ) شوہر کا مادۂ تولید انجکشن وغیرہ کے ذریعے اس کی بیوی کے رحم میں مناسب جگہ پہنچا دیا جائے۔

(۲) شوہر اور اس کی بیو ی کے تولید ی مادے حاصل کرکے مخصوص مدت تک کسی ٹیوٹ میں ان کی پرورش کی جائے اور پھر اسی بیوی کے رحم میں اسے منتقل کر دیا جائے۔

بے اولاد  جوڑوں کے لیے،حصولِ اولاد کی غرض سے یہ دوصورتیں جائز ہیں۔بشرطیکہ بیوی کے رحم میں سے منتقل کرنے کا کام خود شوہر انجام دے اوراگر شوہر اس کے طریقۂ کار سے ناواقف ہو تو لیڈی ڈاکٹر یہ کام انجام دے۔ٹیسٹ ٹیوب بے بی کے یہ طریقے شوہر کے علاوہ کسی اور مرد ڈاکٹر سے کروانا جائز نہیں۔(اگرچہ اولاد حلا ل ہی ہوگی)

(۳) شوہر اور بیوی کے تولیدی مادے حاصل کیے جائیں اور ان کے آمیزے کو اسی شوہر کی دوسری بیوی کے رحم میں منتقل کردیا جائے۔

اس صورت کو بعض علما نے مطلقاً ناجائز قرار دیا ہے اور بعض علما نے اس شرط کے ساتھ اس کی گنجائش دی ہے کہ پہلی بیوی تولید کی اہل نہ ہو یا وہ  زچگی کی متحمل نہ ہو۔اگر پہلی بیوی طبی لحاظ سے تولید کی اہل ہو اور زچگی کی متحمل بھی ہو تو بالاتفاق اس کی اجازت نہیں۔

(۴)  شوہر اور ایک اجنبی عورت کے مادے باہم ملائے  جائیں اور ان کی بار آوری کے بعد اسے شوہر کی بیوی کے رحم منتقل کر دیا جائے۔

(۵)  شوہر   کے علاوہ کسی اور شخص کے نطفے اور بیوی کے تولیدی مادے کی باہم پرورش کی جائے اور ان کے آمیزے کو شوہر کی بیوی کے رحم میں منتقل کر دیاجائے۔

(۶) شوہر اور بیوی کے مادوں کی باہم پرورش کرکے اسے  کسی تیسری اجنبی عورت کے رحم میں منتقل کردیا جائے۔

(۷) کسی اجنبی مرد اور اجنبی عورت کے مادوں کی باہم پرورش کر کے اسے بیوی کے رحم میں منتقل کر دیا جائے۔

یہ چارصورتین قطعاً ممنوع اور حرام ہیں
(📚ماخذہ:جواہر الفتاوی جلد اول، مسائل بہشتی زیور ۱/۴۹۷،۴۹۶:قاموس الفقہ  ۲/۵۲۸۔۵۳۲،شرعی فیصلے:۹۲،۹۳)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖                                     
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖ 
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹

السلام علیکم و رحمہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے میں کہ
 کیا آپریشن کے ذریعے  ڈلیوری کرنا جائز ہے  اور ڈلیوری کے  وقت عورت کا کسی عورت کے سامنے ستر کھولنا جائز نہیں
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
سائلہ. مہتاب فاطمہ امجدی
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مستفسرہ میں ڈلیوری یعنی ایک ہوم ڈلیوری ہے جو گھر میں  ڈلیوری ہو اسے ہوم ڈلیوری کہتے ہیں یعنی گاؤں کی  دائیںوں کے ذریعے ہو یہ جائز ہے

دوسرا آپریشن ڈلیوری ہے
یعنی بچہ مادر رحم میں پھنس جائے اور بغیر آپریشن کئے بچہ زندہ پیدا ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو لیڈز ڈاکٹر آپریشن کرسکتی  ہیں

اور اگر لیڈز ڈاکٹر سے بھی کنٹرول نہ ہو پائے

اگر ایسی صورت آگئی یعنی بچہ زندہ پیدا ہونے کی کوئی صورت نظر نہ آئے اور  اس وقت   جو سرجن مرد ڈاکٹر کے علاوہ کوئی صورت نظر نہ آئے تو ایسی صورتحال میں جانے کی اجازت ہے

اور فقہاء کرام کا ایک قاعدہ کلیہ ہے
الضرورات تبیع المحظورات
یعنی شرعی ضرورتیں ممنوعات کو مباح بنا دیتی ہیں

اور اگر ایسی وقت مجبوری کا سامنانہ  نہ کرنا پڑے تو جانا ناجائز و حرام ہے

📚بحوالہ فتاوی مرکز تربیت افتاء
 جلد ۲ صفحہ ۴۸۴


 واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳