💚عورت کی ملازمت کا حکم💚
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں ک
کیا عورت بھی سرکاری نوکری کرسکتی ہے جبکہ اس کی جانب سے ہی اس کا گھر چلتا ہے بحالت اضطرار ٹیچری کرسکتی ہے
بحوالہ جواب عنایت فرمائیں
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل. ثاقب رضا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
الجواب بعون الملک الوھاب
اعلحضرت عظیم البرکت مجد و دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمتہ والرضوان اسی طرح کے سوال کا جواب تحریر فرماتے ہیں
عورت کی ملازمت پانچ شرطوں پر جائز ہے ان میں سے ایک بھی شرط مفقود ہو تو ملازمت حرام ہے
1کپڑے باریک نہ ہو جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے
2کپڑے تنگ و چست نہ ہوں جو بدن کو کی ہئیت ظاہر کریں
3بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو
4کبھی نامحرم کے ساتھ کسی مختصر وقت کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو
5 اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنئہ فتنہ نہ ہو
اور یہ پانچوں شرطیں اگر جمع ہیں تو حرج نہیں
📚بحوالہ فتاوی رضویہ جلد نہم نصف آخر
📝 صفحہ 152 رضائے اکیڈمی ممبئی
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
📠


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home