🕋کیا عمرہ کرنے والےکو. 🕋
حاجی بول سکتے ھیں یا نہیں.
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
کیا عمرہ کرنے والے کو حاجی بول سکتے ھیں یا نہیں
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل. آفتاب احمد رامپور
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
مخصوص دنوں میں مخصوص مقامات پر مخصوص ارکان ادا کرنے کو حج کہتے ہیں اسی لئے جب کوئی شخص حج یاحاجی کہتا ہے تو تبادر ذہنی اسی ارکان کے ادا کرنےوالے کی طرف جاتا ہے عمرہ کے لئے ایام مخصوص نہیں ہیں گرچہ حدیث میں عمرہ کو بھی حج اصغر کہا گیا ہے مگر حج وعمرہ کے لئے الگ الگ لفظ بھی ہے
📚 مسلم شریف ص 27 میں ہے
فانطلقت انا وحمید بن عبد الرحمن الحمیری حاجین أو معتمر ین
اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ حج یا عمرہ الگ الگ ہیں
نیز قرآن پاک میں بھی حج اور عمرہ کا الگ الگ ذکر ہے
لقو لہ تعالٰی
فمن حج البيت أواعتمر فلا جناح علیہ
سورہ بقرہ پارہ 2
اس لئیے حج کرنے والے کو حاجی کہئے اور عمرہ کرنے والے کو معتمر کہئے
واللہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home