السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کہ زید نے عمر کو دو لاکھ روپے دیا جس عوض میں عمر نے اسے اپنی اس ایک عمارت دی یہ کہ کر کہ میں دو سال بعد آپ کا پیسہ واپس کر دوں گا اور آپ میرا گھر 🏡 میرے حوالے کر دیں گے... تو جواب طلب بات یہ ہے کہ کیا زید کا اس طریقے پر پیسہ دینا جائز ہے اور عمارت کو قبضے میں کرنا یا ناجائز؟؟
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ آپ کو جزائے خیر سے نوازے آمین..
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسولہ میں یہ قرض ہے اور زید عمر کی عمارت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اس لیے کے فائدہ اٹھایا تو سود ہو گا اور سود حرام قطعی ہے اس کا منکر کافر ہے
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا
کل قرض جرمنفعہ فھو ربا
جو قرض کوئی نفع کھینچ کر لائے وہ سود ہے
اور اگر اس بناء سے ہے جدا ویسی ہی باہمی سلوک کے طور پر کوئی نفع و انتفاع ہو تو وہ مدیون کی مرضی پر ہے اس کے خالص رضا و اذن سے ہو تو روا ورنہ حرام اب یہ بات کہ یہ انتفاع بر بنائے قرض ہے یا بطور سلوک اس کے لیے معیار شرط و قرار داد ہے یعنی اگر قرض اس شرط پر دیا کہ نفع لیں گے تو وہ نفع بربنائے قرض حرام ہوا اور اگر قرض میں اس کا کچھ لحاظ نہ تھا پھر آپس کی رضا مندی سے کوئی منفعت محض بطور احسان و مروت حاصل ہوئی تو وہ بربنائے حسن سلوک ہے نہ بربنائے قرض تو مدار کا شرط پر ٹھہرا یعنی نفع مشروط سود اور نفع غیر مشروط سود نہیں بلکہ باذن مالک مباح
پھر شرط کی دو صورتیں ہیں نصا یعنی بالتصریح قرار داد انتفاع ہو جائے اور عرفا کہ زبان کچھ نہ کہیں مگر بحکم رسم و رواج قرار داد معلوم اور دوستد خودہی ماخوذ مفہوم ہوا ان دونوں صورتوں میں وہ نفع حرام و سود ہے
اور ایک قائدہ بیان فرماتے ہیں
فان المعھود عرفا کالمشروط لفاظا
📚ماخوذ فتاوی رضویہ جلد دہم صفحہ 283
واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home