Thursday, 19 April 2018


کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں ک
مرد کا اپنی والدہ کے پائوں دبانے کے تعلق سے کیا حکم ہے
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائل. دلکش. پوری
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
 الجواب بعون المک الوھاب
دونوں میں سے اگر کسی کو بھی شہوت نہ ہو تو بلکل اجازت ہے۔

📚بھار شریعت میں حضور صدر الشریعہ علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں
محارم کے جن اعضا کی طرف نظر کرسکتا ہے ان کو چھو بھی سکتا ہے، جبکہ دونوں میں سے کسی کی شہوت کا اندیشہ نہ ہو ۔ مرد اپنی والدہ کے پاؤں دبا سکتا ہے مگر ران اس وقت دبا سکتا ہے جب کپڑے سے چھپی ہو، یعنی کپڑے کے اوپر سے اور بغیر حائل چھونا جائز نہیں ۔

اور آگے فرماتے ہیں       
والدہ کے قدم کو بوسہ بھی دے سکتا ہے۔ حدیث میں ہے جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوما، تو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا
📚 بھار شریعت ، ج 3، 16/445📚
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻از قلم :معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠المشتہر
محمد آصف رضا دہلی
 ⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home