Monday, 13 August 2018

*🖤نماز میں رکوع کرنا بھول جائے تو کیا حکم ہے🖤*

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
 *کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
 *کہ اگر نماز میں رکوع رہ جائے تو اس کو کیسے ادا کریں کیونکہ رکوع تو فرض ہے، سجدہ جائے تو وہ تو اگلی رکعت یا جہاں یاد آئے تو وہاں کر کے سجدہ سہو کریں تو نماز ہوجائیگی لیکن رکوع رہ جائے تو کیا طریقہ ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*

 *💚سائل رفیق احمد💚*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

 *🔹وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🔹*

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں کسی رکعت کے دو سجدوں میں سے اگر ایک سجدہ رہ جائے تو جس وقت یاد آئے کرلے اور سجدہ سہو کرے۔ اور اس چھوٹے ہوئے سجدے کو آخر میں بھی کرسکتا ہے پھر سجد سہو کرکے اپنی نماز مکمل کرے۔ اور اگر کسی رکعت کا رکوع رہ گیا پھر جب اس کو یاد آیا تو اسی وقت رکوع کرے اور اس صورت میں جس رکعت میں اس نے رکوع چھوڑا تھا اس کےبعد ياد آنے تک جتنی نماز ادا کی اس کو دوبارہ ادا کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اسکی نماز مکمل ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چار رکعت والی نماز میں اول رکعت کا رکوع ترک کیا یعنی قیام سے سجدے میں چلا گیا اور دو سجدے بھی کرلئے جب کھڑا ہوا تب یاد آیا تو اب پہلے رکوع کرے پھر اس نے جو دو سجدے کیئے تھے وہ باطل ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ لوٹائے اور دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اس کی نماز مکمل، یعنی چھوٹے ہوئے رکوع کے بعد سے لے کر یاد آنے پر رکوع کرنے تک جتنی نماز پڑھی اس کو دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے جبکہ سجدے کے ترک میں ایسا نہیں ہے۔*

 *📚فتاوى شامی، کتاب الصلاۃ، فرائض الصلاۃ، ج ۱، ص۴۴۹ ـ دار الفکر بیروت۔*
 *📚فتاوى رضویہ، ج۶، ص ۱۷۶ ـ رضا فاؤنڈیشن لاہور*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

 *✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ دہلی ـ*
*📞_____رابطہ 6203980319*

*💎آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ💎*

 *🖥المــرتب محــمد امتیـــازالقـــادری*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

📍گــانــا بجانا بنـد کرو، تــم مسلمان ہـــو📍

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری)
📃اللہ تعالٰی کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں سب سے بہترین امت میں پیدا فرمایا اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو ہمارے بیچ بھیجا تاکہ ہم اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ جائیں، نفرت کا گھر گرا کر محبت کا محل بنائیں، برائیوں کو چھوڑ کر اچھائیوں کو گلے لگائیں اور ہماری کسی سے دوستی یا دشمنی صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو-

📜ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو ہر طرف برائی، ظلم اور دہشت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، لوگوں کے عقائد، نظریات اور اعمال کا بہت برا حال تھا اور انھیں سیدھے راستے پر لانا، برائی اور اچھائی کی پہچان سیکھانا، زندگی کا اصل مقصد بتانا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن بہت ہی قلیل وقت میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے تمام لوگوں کو ایک اسلام کی رسی تھمائی اور ایسی مثال قائم فرمائی کہ اس کی نظیر دکھانا تو دور کی بات کوئی الفاظ کے ذریعے اس کی تعریف بیان بھی نہیں کر سکتا-

📩حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا مبارک زمانہ بہت اچھا اور خیر والا تھا، اس کے بعد صحابہ کرام کا زمانہ بھی ایسا ہی رہا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، حضور علیہ السلام کے زمانے سے دور ہوتا گیا، جہالت بڑھنے لگی اور کئی فتنوں نے سر اٹھانا شروع کیا حتی کہ موجودہ دور ہماری نظروں کے سامنے ہے جس میں ہم ہر دن نئے نئے فتنوں کو دیکھ رہے ہیں-

📌دیگر کئی فتنوں کی طرح ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار چیزیں ایسی آ گئی ہیں جو غیروں کی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ایسی چیزوں کو پسند بھی کر رہے ہیں-

📍یہودیوں، نصرانیوں، ہندؤں اور انگریزوں کے بیچ رہ کر مسلمانوں پر ان کا کافی اثر ہوا ہے؛ جی ہاں! جب سے مسلمانوں نے ان کی صحبت اختیار کی ہے تب سے ہمارے چال چلن میں کثیر تبدیلیاں ہوئی ہیں- کھانے کا طریقہ، سونے کا طریقہ، قضائے حاجت کا طریقہ، شادیوں کا طریقہ، ہمارے لباس، گھر، کھانے، یہاں تک کہ چہرے کی سجاوٹ بھی غیروں کی طرز پر ہے-
(اللہ تعالٰی رحم فرمائے)

📄ابھی مسلم نوجوانوں پر ایک بلا گانے بجانے کی صورت میں منڈرا رہی ہے؛ ہمارے نوجوانوں نے گانے بجانے کو اس قدر اپنے بیچ شامل کر رکھا ہے کہ جیسے مانو اپنا ساتھی بنا لیا ہو لیکن انھیں یہ نہیں پتہ کہ یہ ساتھی انھیں کہاں لے جا کر چھوڑے گا! بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بہت سے لوگ اب گانے بجانے کو برا ہی نہیں سمجھتے! شادی ہو یا ولیمہ، عقیقہ ہو یا مہندی کی رسم، ختنہ ہو یا اور کوئی محفل، گانے بجانے کے بنا تو مکمل ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی اسے چھوڑ دے تو جہلا کی طرف سے عجیب عجیب طعنے دیے جاتے ہیں جسے ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں لہذا بتانے کی ضرورت نہیں-

💌ہم اس نیت سے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کی اصلاح ہو جائے اور ان کے دل میں ہماری بات اتر جائے، گانے بجانے کے نقصانات بیان کر رہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ قرآن و سنت کے فرامین ملاحظہ فرمائیں اور اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے- (آمین)

📿اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے📿

🏷اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (جاؤ) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے-
(📗سورۃ البقرہ، 208)

📃دیکھیے! قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طور پر فرمایا کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلو کیونکہ بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور گانا بجانا شیطان کا طریقہ ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان نے سب سے پہلے نوحہ کیا اور گانا گایا-

(گانے بجانے کی ہولناکیاں بحوالہ📚 تفسیرات احمدیہ، صفحہ نمبر601)
(📗ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2018 بحوالہ فردوس الاخبار، جلد1، صفحہ نمبر34، حدیث نمبر42)
(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری )

✉ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام اپنی سریلی آواز میں حمد پڑھتے تھے تو پہاڑ وجد میں آ جاتے، پرندے اڑتے اڑتے گر پڑتے، جانور جنگلوں سے نکل آتے، پیڑ جھومنے لگتے، بہتا پانی رک جاتا، جنگلی جانور ایک ایک مہینے تک کھانا پینا چھوڑ دیتے اور چھوٹے بچے دودھ مانگنا اور رونا چھوڑ دیتے- جب شیطان نے یہ سب دیکھا تو بہت پریشان ہوا اور بانسری اور طنبورہ بنایا اور خوب گایا بجایا؛ اس سے ہوا یہ کہ لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، جو اچھے لوگ تھے وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے شیدائی ہوئے اور جو برے لوگ تھے وہ شیطان کے ساتھ گانے بجانے لگے-

(گانے بجانے کی ہولناکیاں بحوالہ کشف المحجوب مترجم، صفحہ نمبر740 اور 741)
(📗ماہنامہ فیضان مدینہ، اپریل 2018)
(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری)
🏷غور کیجیے! گانا بجانا کس کا کام ہے اور خود سے فیصلہ کیجیے کہ کیا ہمیں مسلمان ہو کر ایسے کام کرنے چاہییں؟ کیا ہمیں شیطان کے قدموں پر چلنا چاہیے؟ ایک مسلمان کا جواب ہر بار یہی ہونا چاہیے کہ نہیں، ہرگز نہیں!

🖤گانا سننے سے انسان کے دل میں نفاق بھی پیدا ہوتا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ کھیل اور گانے کی آواز دل میں نفاق پیدا کر دیتی ہے جس طرح پانی گھاس اگا دیتا ہے-

(📚 فتاوی اتراکھنڈ، صفحہ نمبر302 بحوالہ در مختار، جلد5، صفحہ نمبر352)
(📚 فتاوی رضویہ شریف، جلد24، صفحہ نمبر84)

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری )

❣امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ گانے باجے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیوں کہ یہ حیا کو کم کرتے ہیں، شہوت کو ابھارتے اور غیرت کو برباد کرتے ہیں اور یہ شراب کے برابر ہے، اس میں نشے کی سی تاثیر ہے-

(📗ماہنامہ فیضان مدینہ، اپریل2018 بحوالہ تفسیر در منثور، جلد6، صفحہ نمبر506)

💔گانے بجانے کے دنیوی نقصانات تو اپنی جگہ ہیں ہی لیکن آخرت میں بھی اس گناہ پر شدید عذاب ہوگا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو گانے والی کے پاس بیٹھے اور کان لگا کر دھیان سے سنے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ (پگھلا کے) انڈیلےگا- اللہ اکبر

(ماہنامہ فیضان مدینہ، اپریل2018 بحوالہ تاریخ مدینہ دمشق، جلد51، صفحہ نمبر263)

🚫گانے بجانے کے اور بہت سارے نقصانات ہیں جن میں سے چند ہم نے بیان کیے اور اہل عقل کے لیے اتنے ہی کافی ہیں اور خلاصہ یہی ہے کہ گانا بجانا حرام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے-

🏷ایک اور ضروری بات ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آج کل جو گانے سنے جاتے ہیں وہ آپ کے ایمان کو بھی برباد کر سکتے ہیں! مسلمانوں کے لیے غور کا مقام ہے! کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ گانے تمھیں کافر بنا دیں- (معاذاللہ)

🔖اکثر فلمی گانوں میں ایسے اشعار ہوتے ہیں جنھیں گنگنانے یا پڑھنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے، سارے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں، بیوی سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ہمیشہ کے لیے جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے! اگر بنا توبہ کیے مر جائے تو کافر کی موت مرتا ہے- (معاذاللہ)

📑ذیل میں کچھ گانوں کے اشعار ہیں جسے سننے میں نوجوانوں کو بڑا مزا آتا ہے اور کب ان کا ایمان برباد ہو جاتا ہے انھیں بھی پتہ نہیں چلتا، غور سے ملاحظہ کیجیے:

💌یہ خیال رہے کہ اگر لوگوں کی اصلاح کرنا مقصد نہ ہوتا تو کبھی ہم ان گندے گانوں کو بیان نہیں کرتے لیکن چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کو حقیقت پتہ چلے، اس لیے ہم یہاں کچھ گانوں کے کفریہ اشعار کی نشاندہی کر رہے ہیں-

(1) حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے،
خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانیں؟
(معاذاللہ)

اللہ کی پناہ! اللہ کی پناہ! اس شعر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہا گیا کہ خدا بھی حسینوں کے بہانے نہیں جانتا! (استغفراللہ)، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے-
ایسے گانے، گانے والا کافر ہو جاتا ہے، اس کی بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے اور اس نے جتنے بھی نیک اعمال کیے سب برباد! اگر بنا توبہ کے مرا تو کافر ہو کر مرا!
مسلمان نوجوانوں! کیا تمھاری غیرت بالکل مر گئی ہے؟ شرم نام کی چیز باقی نہ رہی؟ جلد سے جلد توبہ کرو اور گانوں کو مٹا دو تاکہ اللہ تعالٰی کی رحمت کا دریا تمھاری طرف بڑھے-

(2) جتنی پیاری آنکھیں ہیں، آنکھوں سے چھلکتا پیار،
قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار
(معاذاللہ)

کیا یہ اللہ تعالٰی کی شان کے لائق ہے کہ کسی کو فرصت سے بنائے؟ مسلمانوں اب بس کرو!

(3) پھولوں سا چہرہ تیرا، کلیوں سی مسکان ہے،
رنگ تیرا دیکھ کر، روپ تیرا دیکھ کے قدرت بھی حیران ہے
(معاذاللہ)

اس شعر میں کہا گیا کہ تجھے دیکھ کر قدرت بھی حیران ہے!
اللہ تعالٰی ہمیں معاف فرمائے اور ایسے گندے اشعار سننے سے بچائے-

(4) خدا بھی آسمان سے جب زمیں پر دیکھتا ہوگا،
میرے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں گستاخی کی انتہا ہو گئی، کیا کوئی اور رب ہے جس نے اس کے محبوب کو بنایا؟ کیا اللہ تعالٰی بھی سوچتا ہے؟
لوگوں! آنکھیں کھولو اور اب گانے بجانے سے توبہ کرو-

(5) رب نے مجھ پر ستم کیا ہے،
سارے زمانے کا غم مجھے دیا ہے!
(معاذاللہ)

یہ کہنا کہ رب نے مجھ پر ستم کیا ہے، اللہ تعالیٰ کو ظالم کہنا ہے جو صریح کفر ہے-

(6) میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں،
قسم خدا کی! خدا بن کے آپ رہتے ہیں
(معاذاللہ)

اس شعر میں مخلوق کو خدا کہا گیا جو کہ کفر ہے-

(7) اب آگے جو ہو انجام دیکھا جائے گا،
خدا تراش لیا اور بندگی بھی کر لی!
(معاذاللہ)

اس میں دو کفر ہیں، ایک یہ کہ خدا تراش لیا اور بندگی بھی کر لی! میرے دوستوں اور بھائیوں! کیا اب بھی آپ ان بے ہودہ گانوں کو سنیں گے؟

(8) سیپ کا موتی ہے تو یا آسمان کی دھول ہے،
تو ہے قدرت کا کرشمہ یا خدا کی بھول ہے!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ کو بھولنے والا کہا گیا ہے اور مسلمان ایسے گانے سنتے ہیں!

(9) دل میں تجھے بٹھا کر، کر لوں گی بند آنکھیں،
پوجا کروں گی تیری، دل میں رہوں گی تیرے!
(معاذاللہ)

اس شعر میں محبوب کی پوجا کرنے کی بات کی گئی ہے جو کہ کفر ہے!

(10) ہائے! تجھے چاہیں گے،
اپنا خدا بنائیں گے!
(معاذاللہ)

اس میں بھی مخلوق کو خدا بنانے کی بات کی گئی ہے جو کہ کفر ہے!

(11) دل میں ہو تم، آنکھوں میں تم، بولو تمھیں کیسے چاہوں؟
پوجا کروں یا سجدہ کروں؟ جیسے کہو ویسے چاہوں!
(معاذاللہ)

اس میں بھی مخلوق کو پوجنے کی بات ہے جو کہ کفر ہے!
میرے نوجوان بھائیوں! جلد سے جلد توبہ کرو اور گانوں سے بچو-

(12) سزا رب جو دے گا وہ منظور ہم کو،
کہ اب ہم تمھاری عبادت کریں گے!
(معاذاللہ)

اس شعر کو پڑھنے والے غور کریں کہ کیا آپ عذاب الہی کو دعوت نہیں دے رہے ہیں؟

(13) یا رب تو نے دل توڑا میرا کس موسم میں؟
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(14) کیسے کیسوں کو دیا ہے، ایسے ویسوں کو دیا ہے،
اب تو چھپڑ پھاڑ مولا، اپنی جیبیں جھاڑ مولا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں بھی اللہ تعالٰی پر اعتراض کیا گیا ہے کہ تو نے کیسوں کیسوں کو دیا ہے اور جیبیں پھاڑنے کا لفظ اللہ تعالٰی کے لیے!!! (نعوذ باللہ من ذالک)

(15) بے چینیاں سمیٹ کر سارے جہاں کی،
جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں جو الفاظ ہیں "جب کچھ نہ بن سکا" اس سے اللہ تعالیٰ کو بے بس قرار دیا گیا ہے جو کہ کھلا کفر ہے- کیا لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ ایسے گانوں کو سنتے اور شادیوں میں بجاتے بھی ہیں!

(16) دنیا بنانے والے! دنیا میں آ کر دیکھ،
صدمے سہے جو میں نے تو بھی اٹھا کر دیکھ!
(معاذاللہ)

اس شعر میں بھی کفر ہے، یہ اللہ تعالٰی کی توہین ہے!

(17) دنیا بنانے والے! کیا تیرے من میں سمائی؟
کاہے کو دنیا بنائی؟
(استغفراللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے!

(18) اے خدا! ان حسینوں کی پتلی کمر کیوں بنائی؟
تیرے پاس مٹی کم تھی یا تو نے رشوت کھائی!
(معاذاللہ ثم معاذاللہ)

📌مسلمانوں! تمھارے سامنے اگر کوئی غیر مسلم اللہ تعالٰی کی شان میں گستاخی کرے تو تم مرنے مٹنے کے لیے تیار ہو جاتے ہو لیکن یہ کیا ہوا کہ آج تمھارے گھروں میں ایسے گانے بجائے جا رہے ہیں جس میں کھلے عام اللہ تعالٰی کی توہین کی جا رہی ہے اور ہم اسے سن رہے ہیں-
نوجوانوں! تمھارے موبائل فون پر اس طرح کے سیکڑوں گانے موجود ہیں جنھیں تم بڑی شوق سے سنتے ہو- اللہ کے واسطے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچو کہ تم کیا کر رہے ہو!

(19) اس حور کا کیا کریں جو ہزاروں سال پرانی ہے!
(معاذاللہ)

اس مصرعے میں جنتی حور کی توہین کی گئی ہے اور اللہ تعالٰی کی کسی نعمت کی توہین کفر ہے!

(20) تجھ کو دی صورت پری سی، دل نہیں تجھ کو دیا،
ملتا خدا تو پچھتا، یہ ظلم تو نے کیوں کیا؟
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ کو ظالم کہا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(21) او میرے ربا ربا! یہ کیا غضب کیا؟
جس کو بنانا تھا لڑکی اسے لڑکا بنا دیا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(22) کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے،
پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے!
(معاذاللہ)

🕹جو شخص کسی مخلوق کی عبادت کرنے کی تمنا ظاہر کرے وہ اسی وقت کافر ہو جاتا ہے- یہ کفریہ اشعار ہمارے لیے زہر سے زیادہ خطرناک ہیں- ان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کی بھی اصلاح کریں-

(23) مجھے بتا او جہاں کے مالک! یہ کیا نظارے دکھا رہا ہے؟
تیرے سمندر میں کیا کمی تھی کہ آج مجھ کو رلا رہا ہے!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(24) ان کی کیا تعریف کروں میں؟
فرصت سے ہے رب نے بنایا!
(معاذاللہ)

اس میں یہ الفاظ "فرصت سے ہے رب نے بنایا" کفریہ ہیں-

(25) اے خدا، بہتر ہے یہ کہ تو چھپا پردے میں ہے،
بیچ ڈالیں گے تجھے یہ لوگ اس چکر میں ہیں!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ کے لیے بہت غلط الفاظ استعمال کیے گئے ہیں-

(26) اب یہ جان لے لے یا رب، دو جہان لے لے یا رب،
یا ایمان لے لے یا رب.... یا خدا..... فنا فنا یہ دل ہوا فنا
(معاذاللہ)

کیا کوئی مسلمان یہ چاہے گا کہ اس کا ایمان لے لیا جائے! اگر نہیں تو پھر ان گانوں کو ہم کیوں سن رہے ہیں؟

(27) جب سے تیرے نینا میرے نینوں سے لاگے رے،
رب بھی دیوانہ لاگے رے!
(معاذاللہ اللہ)

اللہ تعالٰی کو دیوانہ کہنا کفر ہے-

(28) محبت کی قسمت بنانے سے پہلے،
زمانے کے مالک تو رویا تو ہوگا!
(معاذاللہ)

اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ روئے اور جو ایسا کہتا ہے وہ کافر ہے-

(29) میں پیار کا پجاری، مجھے پیار چاہیے،
رب جیسا ہی سندر میرا یار چاہیے!
(معاذاللہ)

پیار کی پوجا کرنا کفر ہے اور اللہ تعالٰی کی طرح کسی اور کو کہنا بھی کفر ہے-
نوجوانوں! عشق مجازی سے توبہ کرو-

(30) اگر ملے خدا تو، تو پوچھوں گا خدایا،
جسم مجھے دے کے مٹی سا، شیشے سا دل کیوں بنایا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں بھی اللہ تعالٰی پر اعتراض کیا گیا ہے کہ "کیوں بنایا" یہ کفر ہے اور جتنے بھی اشعار ہم نے بیان کیے، سب میں کچھ نہ کچھ کفر ہے-

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری)

🔖اس کے علاوہ لاکھوں اشعار ہیں جسے لوگ بڑے شوق سے سنتے ہیں اور جو ان کفریہ گانوں کو دلچسپی سے سنے یا پڑھے وہ کافر ہو گیا اور اس کے تمام نیک اعمال برباد ہو گئے، ساری نیکیاں ختم ہو گئیں، شادی شدہ تھا تو نکاح بھی گیا، مرید تھا تو بعیت بھی ختم اور اب اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور تجدید نکاح بھی کرے اور پھر مرید بنے-

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری )
📿خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس طرح کے (صریح) کفریہ اور بے ہودہ اشعار کوئی گائے (پڑھے) تو وہ کافر ہے اگرچہ وہ یہ کہے کہ میرا یہ عقیدہ نہیں؛ کفر بکنے کے بعد یہ بہانا کام نہیں دے گا- اسی لیے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ وہ علم دین حاصل کرے، کفر و اسلام کو پہچانے، ضروریات دین و اہل سنت کو سمجھے تاکہ ایسی غلطی نہ ہونے پائے-

(📚 ملتقطاً، فتاوی شارح بخاری، جلد1، صفحہ نمبر258-
و انظر: فتاوی مرکز تربیت افتاء)

جاگنا ہے جاگ لو افلاک کے سائے تلے،
حشر تک سوتے رہو گے خاک کے سائے تلے!

اللہ تعالٰی ہمیں تمام برائیوں سے بچائے اور دوسروں کو برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی توفیق عطا فرمائے-

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
   🤲🏻دُعـــــا             
     یا اَللہ پاک! ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا جلوہء محبوب ﷺ میں شہادت,جَنَّتُ البقیع میں مدفن اور جنت الفردوس میں اپنے حبیب ﷺ کا پڑوس نصیب فرما٭یا اَللہ پاک! ہماری جائز دعائیں قبول فرما
              آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْﷺ
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹 🕹
 ✍🏻 طالب دعا- مـــعـــیـــن الــدیـــن الأزھــری
ڈائریکٹر حضور افضل العلماء فاؤنڈیشن نئ دہلی
📱 6203980319
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹


💜کن صورتوں میں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟💜


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
جان جانے کے خدشہ کے علاوہ، کن صورتوں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ. بشریٰ فاطمہ گجرات
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
اسقاطِ حمل کی مدت ایک سو بیس (120) دن ہے۔ حدیث پاک میں عملِ تخلیق کو بیان کرتے ہوئے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان احدکم يجمع فی بطن امه اربعين يوما ثم علقة مثل ذلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيومر باربع برزقه واجله وشقی او سعيد‘‘

’’ تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے (نطفہ) پھر اسی قدر علقہ۔ پھر اسی قدر مضغہ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ رزق، عمر، نیک بخت یا بدبخت‘‘

📚بخاری، الصحيح، 2 : 976

فقہائے کرام فرماتے ہیں اگر حاملہ عورت چاہے تو ایک سو بیس (120) دن سے پہلے اسقاط حمل کر سکتی ہے۔

هل يباح الااسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شئی منه، ثم فی غير موضع ولا يکون ذلک الا بعد مائه وعشرين يوما انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح

 شامی، الدر المختار مع الرد المختار، 3: 176، طبع کراچی،ابن الهمام، فتح القدير، 3: 274

کیا حمل ٹھہرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے؟ (ہاں) جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے۔ پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے۔ تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔

رحم مادر میں استقرار حمل جب تک 120 دن یعنی چار ماہ کا نہ ہو جائے، حمل ضائع کرنا جائز ہے۔ جب بچہ بطن مادر میں چار ماہ کا ہو جائے تو، اب اسے ضائع کرناجائز نہیں بلکہ حرام ہے۔

اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے بچوں کی پیدائش سے بچہ یا زچہ کی صحت پر اور بچوں کی دیکھ بھال پر منفی اثرات پڑیں گے، تو اس صورت میں عورت کے لئے ضبط تولید کے مفید اصولوں کو اپنانا نہ صرف جائز بلکہ مناسب تر ہے۔ بچے کی پیدائش پر ماں کو جن تکالیف، کمزوریوں اور دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ صرف عورتیں ہی کرسکتی ہیں۔ ہر ماں گویا مر کر دوبارہ زندہ ہوتی ہے۔ پھر پیدا ہونے والے بچے کو دو سال تک دودھ پلانا ماں کی ذمہ داری اور بچے کا حق ہے۔ لہٰذا ایسے مسائل سے بچنے کے لیے اسقاطِ حمل جائز ہے۔

اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجئے:

خاندانی منصوبہ بندی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱6203980319
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔

🍎میت کی نماز اور روزں کا فدیہ🍎

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
 حال ہی میں میرے دادا کا انتقال ہوگیا ۔ ان کی نماز اور روزے باقی ہیں ۔ میں فدیہ ادا کرنا چاہتا ہوں ۔برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
سائل نسیم رضا
ـــــــــــــــــــــــــــ(((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 الجواب بعون الملك الوهاب؛
صورت مسئولہ میں جس کی نمازیں قضا ہو گئیں اور انتقال ہوگیا۔ اب ورثا اگر فدیہ دینا چاہیں تو ہر فرض نماز اور وتر کے بدلے صدقہ فطر کی مقدار یعنی 2 کلو 45گرام گندم یا اس کی قیمت مستحقِ زکوۃ کو دیں۔ مگر نماز وں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے شریعت مطہرہ نے یہاں ایک حیلہ تعلیم فرمایا ہے کہ مثلاً ا یک دن کی 5 نمازوں اور وتر کا فدیہ(12 کلو25گرام گندم یا اس کی قیمت) مستحق زکاۃ کو دے دیں، وہ قبضہ کرنے کے بعد آپ کو تحفۃً واپس کردے، پھر آپ اس کو وہی 5 نمازوں کے فدیے کی مد میں اسے دوبارہ دے دیں۔ یوں 10 نمازوں کا فدیہ ادا ہو جائیگا۔ اور یہ عمل کرتے جائے حتی کہ میت کی تمام نمازوں کا فدیہ ادا ہوجائے۔ اور ہر روزے کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار یعنی 2 کلو 45گرام گندم یا اس کی قیمت مستحقِ زکوۃ کو دیں۔
اور روزوں میں حیلہ نہیں کرنا ۔

 📚 بہار شریعت، ج1، ح4، ص707، 909

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ(((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری
📱6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ(((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ
💚فیضان حضور تاج الشریعہ گروپ💚
📠 الــــمــــشـــتــــهــــر:آصـف رضـا دہـلـی
ـــــــــــــــــــــــــــ(((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ

💎 شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھنا کیسا؟💎
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
 کیا ٹخنوں سے نیچے شلوار رکھنا جائز ہے؟ نماز اور غیر نماز میں
سائل عارف رضا
ـــــــــــــــــــــــــــ (((🚨))) ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں شلوار کا ٹخنوں کے نیچے رکھنا اگر تکبر کی نیت سے ہے تو يہ عمل حرام ہےاور اگر تکبر کی نیت نہیں ہے تو مکروہِ تنزیہی, خلافِ اولی ہے۔ اور یہی حکم نماز کا ہے

بحوالہ 📚 فتاوى رضویہ، ج7، ص388

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ (((🚨))) ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری
📱6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ (((🚨))) ـــــــــــــــــــــــــ
💞فیضان حضور تاج الشریعہ گروپ 💞
📠الـــمـــشــتـــهــر: آصـف رضـا دہلـی
ـــــــــــــــــــــــــــ (((🚨))) ـــــــــــــــــــــــــ

🌀عورت فوت ہوئی شوہر اس کا چہرا دیکھ سکتا ہے؟🌀

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
آج کل عوام میں مشہور ہے کہ اگر عورت فوت ہو تواس کا شوہر نہ اسے دیکھے نہ کندھا دے نہ قبر میں اتارے وغیرہ تو کیا یہ درست ہے؟
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
سائل ندیم خان
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎱)))ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 الجواب بعون الملك الوهاب
📃صورت مسئولہ میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فرمایا عورت مر جائے تو شوہر نہ اُسے نہلا سکتا ہے نہ چھو سکتا ہے اور دیکھنے کی ممانعت نہیں۔   
 🏷عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ شوہر عورت کے جنازہ کو نہ کندھا دے سکتا ہے نہ قبر میں اتار سکتا ہے نہ مونھ دیکھ سکتا ہے، یہ محض غلط ہے صرف نہلانے اور اسکے بدن کو بلاحائل ہاتھ لگانے کی ممانعت ہے۔
  📚 بہار شریعت، کتاب الصلاۃ، باب نماز جنازہ،ج1،ص813
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎱)))ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعــیــن الــدیــن الأزھــــــری
📱 6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎱)))ـــــــــــــــــــــــــ
💚فیضان حضور تاج الشریعہ گروپ💚
📠 الــمـــشــتــهـــر: آصـف رضـا دہـلـی
 ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎱)))ـــــــــــــــــــــــــ

🛡سنت مؤکدہ کا ترک گناہ اور پڑھنا
ثواب ہے 🛡


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
کیا سنت نہ پڑھنے سے گناہ نہیں ہوتا اور بندہ صرف ثواب سے محروم ہوتا ہے
سائل دلکش رضا
 ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں سنّتِ مؤکدہ کا ترک گناہ اور پڑھناثواب ہے ،اور نادراً ترک کرنے والے پر عتاب اور اس کا عادی مستحق ِعذاب ہے ۔اورسنّتِ غیر مؤکَّدہ کا پڑھنا ثواب اور نہ پڑھنااگرچہ عادۃ ہو سببِ عتاب نہیں ہے ۔ بہارشریعت میں ہے ۔ سنّتِ مؤ کَّدہ: وہ جس کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو ،البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک باِلکل مسدود نہ فرمادی ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر استحقاقِ عذاب ۔ سنّتِ غیر مؤکَّدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مو جبِ عتاب نہیں
(📗بہارشریعت :ج۱،ح۲،ص۲۸۳) اساءَت :جس کا کرنا بُرا ہو اور نادراً کرنے والا مستحقِ عِتاب اور اِلتزامِ فعل پر استحقاقِ عذاب۔ یہ سنّتِ مؤ کدہ کے مقابل ہے۔

📗 بہارشریعت :ج۱،ح۲،ص۲۸۴

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری
📱 6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ
💜فیضان حضور تاج الشریعہ گروپ💜
📠الــمــشــتــهـــر:آصـف رضـا دہـلـی
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ

💎انسان كے بالوں کی خرید و
فروخت کا حکم💎

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
 کیا انسان کے بالوں کی خرید وفروخت جائز ہے؟  اسی طرح
اس سے بنے ہوئے بال استعمال کرسکتے ہیں
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
سائل مدثر رضا
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 الجواب بعون الملك الوهاب
📃صورت مسئولہ میں زندہ یا مردہ انسان کے بالوں کی خرید وفروخت احترام انسانیت کی وجہ سے ناجائز  وحرام ہے۔ اور ان سے کسی قسم کا نفع اٹھانا بھی ناجائز ہے۔ ہاں عورت جانوروں کے بال اپنے بالوں کو بڑھانے کیلئے استعمال کرسکتی ہے اور مرد کو
ایسا کرنےیاوِگ لگانےکی قطعاً اجازت نہیں ہے۔

📿علامـہ ابــن نــجــیــم فــرمـــاتــے ہـیــں
وَشَعْرِ الْإِنْسَانِ وَالِانْتِفَاعِ بِهِ لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَالِانْتِفَاعُ بِهِ لِأَنَّ الْآدَمِيَّ مُكَرَّمٌ غَيْرُ مُبْتَذَلٍ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ أَجْزَائِهِ مُهَانًا مُبْتَذَلًا، وَقَدْ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:« لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ» وَإِنَّمَا يُرَخَّصُ فِيمَا يُتَّخَذُ مِنْ
الْوَبَرِ فَيَزِيدُ فِي قُرُونِ النِّسَاءِ وَذَوَائِبِهِنَّ.

🏷 تــرجــمـہ: انسان کے بالوں کی خرید وفروخت اور اس سے کسی قسم کا نفع اٹھانا ناجائز ہے کیونکہ  آدمی محترم ہے اسکے کسی جزء کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ  تعالی ایسی عورت پر لعنت بھیجتا ہے جو اپنے بالوں میں انسانوں کے بال ملاتی ہے"۔ ہاں عورت کا اپنے مینڈھیوں میں جانوروں کے بالوں کو 
استعمال کرنے میں اجازت ہے۔

 📚 البحر الرائق، كتاب البيوع, باب بیع الفاسد،  ج6 ص88،
مطبوعہ دار الكتاب الاسلامی بیروت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری
📱6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ
❣فیضان حضور تاج الشریعہ گروپ❣
📠الــمـــشــتــهـــر :آصـف رضـا دہـلـی
ـــــــــــــــــــــــــــ(((🎀))) ـــــــــــــــــــــــــ

❣حیض کی حالت میں طلاق کا حکم❣

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
 عورت کو حیض کی حالت میں طلاق دینا شریعت کی روشنی میں کیسا ہے؟
ـــــــــــــــــــــــــــ ((((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں عورت حیض میں ہے تو اس کو طلاق دینا منع اور گناہ ہے لیکن اگر طلاق دے دی تو طلاق ہوجائیگی۔
📚 فتاوى شامی، کتاب الطلاق،ج3،ص233
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ ((((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری
📱 6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ ((((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ
❣فیضان حضور تاج الشریعہ گروپ❣
📠الــمـــشــتــهـــر :آصـف رضـا دہـلـی
ـــــــــــــــــــــــــــ ((((❣))) ـــــــــــــــــــــــــ


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
مایقول العلماء و الفقہا فی المسئلة الآتية


بعض العلماء يمنعون عن الكتابة الإنجليزية في هذه القطعات من الآيات القرآنية مثلاً :ماشاء الله، الحمدالله و نحوهما.
أهذا صحيح أم ليس بصحيح؟؟

بينوا و تجروا.......
👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨
مستفتیہ غوثیہ امجدی
👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨👁‍🗨

الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسؤلہ میں قرآن مقدس کی کوئی بھی آیت عربی زبان کے علاوہ کسی بھی رسم الخط میں لکھنا جائز نہیں
*بہرکیف کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس کی اجازت ہونی چاہئے کیونکہ اس سے قرآن کی تعلیم عجمیوں (غیر عربی) میں رائج کر نے کی سہولت ہے اس لئے کہ وہ عربی نہیں پڑھ سکتے ہیں
تو اس بابت پر خاکسار پہلے یہ عرض کرتا ہے کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے کیونکہ مشاہدہ اس کا گواہ ہے
دوسری بات یہ کہ ماضی میں اگر نظر دورائیں تو معلوم ہوگا کہ کتنے ہی غیر عربیوں نے قرآن مجید پڑھا اور تجوید و قرأت اور رسم الخط کے امام مانے گئے
بالفرض اگر اس مصلحت کو تسلیم کیا بھی جائے تو بھی صرف اس وجہ سے اجماع امت کو رد نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ خود حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس مصلحت کی طرف نظر نہیں فرمائی باوجود اس کے کہ اس وقت اس مصلحت کی زیادہ ضرورت تھی کیونکہ آج کل کی طرح اس وقت لوگوں میں زیادہ زبانیں سکھنے کا رواج نہ تھا اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ اس وقت دوسری زبان میں کتابت کرانا ممکن نہ تھا کیونکہ خود کاتب وحی حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ مختلف زبانوں کا علم رکھتے تھے اس کے باوجود صرف عربی رسم الخط میں ہی کتابت کراکے قرآن مقدس کے نسخے مختلف ممالک میں بھیجے گئے
*خاکسار کے حاشیۂ ذہن میں ایک بات یہ بھی آئی کہ انگریزی رسم الخط میں قرآن مقدس کی آیت لکھنے سے حرف خ؛ ط؛ ص؛ یا؛ ظ؛ وغیرہ حق ادا نہیں ہو سکتا اور حرکات کو ظاہر کرنے کیلئے باقاعدہ حروف کا اضافہ کرنا پڑیگا یہ معاذاللہ تحریف کے زمرہ میں بھی آ سکتا ہے؛
نــــوٹــــ ـ عربی رسم الخط کے ساتھ ساتھ اگر انگریزی رسم الخط استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں ہوناچاہئے

📚شامی جلد اول صفحہ ۴۵۳
📚النفخۃ القدسیہ صفحہ ۴۲
📚فتح القدیر جلد ۱ صفحہ ۲۴۹
📚مغنی مع الشرح اکبیر جلد ۱ صفحہ ۵۳۰
📚النصوص الجلیہ صفحہ ۲۵
📚فضائل القرآن لامام ابن کثیر صفحہ ۵۱

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨
✍🏻کـتـبـہ مـعـیـن الـدیـن الأزھــــــری
📱 +919337025391
👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨
💙حـضـور افــضــل الـعـلمـاء گــروپــــ💙
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دہـلـی
👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨 👁‍🗨


خواتین کاعمرہ کےبعدبال کٹوانےکاطریقہ

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
عمرہ کے بعد خواتین کا سر کے بال کاٹنے کا کیا طریقہ ہے؟
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
سائلہ شگفتہ اشرفی
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
 صورت مسئولہ مین عورت کیلئے انگلی کے ایک پورے کے بقدر چوتھائی سر کے بال کٹوانا واجب ہے اس کے بغیر وہ احرام سے حلال نہ ہوگی اور پورے سر کے بال انگلی کے ایک پورے کے بقدر کٹوانا سنت ہے۔

البتہ اگر کسی عورت کے بالوں کی چٹیا پیچھے سے اتنی باریک ہو کہ وہ چوتھائی سر کےبالوں سے بھی کم ہو تو ایسی صورت میں عمرہ سے حلال ہونے کیلئے بال کاٹنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سر کے چاروں اطراف کے بال اسی طرف کرکے انگلی کے ایک پورے کے برابر کاٹ دیں، یعنی سر کے دائیں طرف کے حصے کے بال دائیں طرف، بائیں حصے کے بال بائیں طرف ، پیشانی کے قریب کے بال چہرے کی طرف اور پیچھے کے بال پیچے کی طرف کردیں اور پھر چاروں طرف کے بالوں کوانگلی کے ایک پورے کے برابر کاٹ دیں،اس طریقہ سے بلاشبہ ایک چوتھائی سر سے زیادہ کے بال کٹ جائیں گے، اور اس کے بعد اگر وہی عورت دوبارہ عمرہ کرے گی تو دوسری بار پیچھے اکٹھےکرکے یعنی چٹیا سے بھی بال کاٹ لے گی تو بظاہر وہ ایک چوتھائی سر کے برابر ہوں گے لیکن اگر کسی عورت کے دوسری بار بھی اس طرح اکٹھے ملاکر کاٹنے سے چوتھائی سر کے برابر نہ بنتے ہوں تو پھر وہ دوسری بار بھی پہلے طریقہ کے مطابق سر کے چاروں اطراف یا دو تین اطراف کرکے انگلی کےایک پورے کے برابراپنے بال کاٹ لے۔


📗البحر الرائق – (2 / 382)
(ولاتحلق رأسها ولكن تقصر) وأطلق في التقصير فأفاد أنها كالرجل

وفى زبدة الناسك:ص196
اور عورت کو حلق حرام ہے چوتھائی سر کا قصر بقدر ایک پورے کےمیں کرائے، سارے سر کا قصر سنت ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱+91 9337025391
💚حـضـور افــضــل الــعــلـمــاء گـــروپــــ💚
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖                                       
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼📼


*🌹ڈاراموں اور فلموں میں نکاح اور طلاق کا حکم ــ 🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
كيا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
  ايك لڑکے نے غیر شادی شدہ لڑکی سے ڈرامے میں نکاح کیا اور ارادہ  محض ڈرامے  میں کردار ادا کرنے کا تھا حقیقی نکاح کا ارادہ نہیں تھا، اسی طرح اگر ایک شخص اپنی حقیقی بیوی کو محض ڈرامے کا کردار ادا کرنے کیلئے طلاق دیتا ہے تو کیا  نکاح اور طلاق ہوجائیگی؟

 *🌺سائل نسیم رضا حبیبی🌺*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *✍الجواب بعون الملک الوھاب*
 *📃صورت مسئولہ میں نکاح کے منعقد ہونے یا طلاق کے واقع ہونے کے عزم و قصد شرط نہیں ہے.. خواہ قصد و ارادہ کے ساتھ نکاح کرے، خواہ ہزل و مزاح کے ساتھ نکاح منعقد ہو جائے گا..*

 *🏷بشرط یہ کہ اس مجلس میں دو عادل و بالغ آزاد مسلمان مرد یا ایک مرد، دو عورتیں موجود ہوں...*

        *🍁بلکہ اگر قاضئی نکاح نے ایسے الفاظ کے ساتھ نکاح منعقد کیا جس کا معنی دولہا دولہن نہیں جانتے تھے جب بھی باختلاف علماء نکاح منعقد ہو جائے گا...*

 *التجنيس و المزيد میں ہے..*

 *🌹لو عقدا عقد النكاح بلفظ لا یفهمان كونه نکاحا هل؟ینعقد اختلاف المشائخ فیه قال بعضهم ینعقد لأن النکاح لا یشترط فیه القصد...*

   *تــرجمــــہ :*
 *🌸اگر عورت و مرد نے ایسے الفاظ سے نکاح منعقد کر لیا جس سے ان دونوں کو نکاح منعقد ہونے کا پتہ چل سکا.. تو کیا اس صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا؟ اس بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح میں قصد شرط نہیں ہے...*

      *جب انعقاد نکاح میں قصد شرط نہیں ہے تو ہزل (ہنسی مذاق ) میں بھی نکاح منعقد ہو جائے گا.. پس صورت مسئولہ میں فلم ڈرامے کے لیے ہوئے نکاح شرعاً منعقد ہو جاتے ہیں...*

  *اور جب نکاح صحیح ہو گیا تو جب تک تطلیق یا تفریق واقع نہ ہو جائے وہ منکوحہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی ہے..*

 *اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :*

 *والمحصنات من النساء*

 *ترجمہ : اور حرام ہیں مسلمانوں کے لیے شوہر والی عورتیں...*

 *📚بحوالہ فتاوی یورپ ، صفحہ ٤٢٦*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی  معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئ دہلی*
*☎رابطہ 👈🏻📱 6203980319*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المشتہر محمد امتیاز القادری*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ


*🌹کیا زکاۃ کی رقم سال پورا ہونے سے قبل دے سکتے ہیں یا نہیں ــ🌹*

*السلام علیکم ورحمت اللہ وبر کاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ پر*
*رقم پر سال نہیں گزرا ہے چار مہینہ ہوا ہے تو کیا رمضان میں ایڈوانس زکواة دے سکتے ہیں یا نہیں بہ حوالہ جواب عنایت فرمائیں*
*عین نوزش ہوگی*

 *🌸سـائـل " محمد حسان رضا قادری🌸*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب*

 *🏷صورت مسئولہ میں سال پورا  ہونے سے پہلے زکوٰۃ دینے کی تین شرطیں  ہیں:*

 *(1):  جس مال پر جس سال کی زکوٰۃ دے رہا ہے اس مال پر وہ سال شروع ہو  چکا ہو ۔*

 *(2): جس مال کے نصاب کی زکوٰۃ دی ہے وہ نصاب سال کے آخر میں کامل طور پر پا یا جائے۔*

 *(3):  جس مال کی زکوٰۃ دی ہے ،زکوٰۃ دینے  اور سال پورا ہونے کے درمیان وہ مال ہلاک نہ ہوا ہو۔*

 *📙فتاوٰی عالمگیری میں ہے: "*

 *🌹وانما یجوزالتعجیل بثلاثة شروط: احدھاان یکون الحول منعقدًا علیہ وقت التعجیل والثاني ان یکون النصاب الذي ادی عند کاملاً في آخر الحول والثالث ان لا یفوت اصلہ فیمابین ذالک".*

 *تـرجمـــہ:*
 *🌷زکوٰۃ کا سال پورا ہونے سے پہلے ادا کرنا تین شرائط سے جائز ہے۔ایک یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرتے وقت اس مال   پر سال شروع ہو چکا ہو،دوسری شرط یہ ہے کہ جس نصاب کی زکوٰۃ ادا کی  وہ نصاب سال کے آخر میں کامل طور پر پایا جائے،تیسری شرط یہ ہے کہ (زکوٰۃ ادا کرنے اور سال پورا ہونے کے درمیان )وہ مال ہلاک نہ ہو۔*

 *📚فتاوٰی عالمگیری، جلد1،صفحہ176، دارالفکر بیروت*

 *🌸آپ ایڈوانس زکوۃ ادا کرسکتے ہیں، اگر آخری دوشرطیں   سال کے آخر میں پائی گئیں تو آپکی زکوۃ مکمل طور پر ادا ہوجائیگی۔*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*

 *✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ نئ دہلی*
 *📱 6203980319*

ــــــــــــــــــ
 *📝المشتہـــــــر محــــمد امتیــــازالقــــادری*
ــــــــــــــــــ
 *آپ کاسوال ہماراجواب 16*


*🌹اگر کسی نے ٹیسٹ یاشوگر ٹیسٹ کیلئے اپنا خون نکلوایاتو کیااس سے وضو ٹوٹ جائگا؟ـــ🌹*

*🌴السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🌴*

*كيا فرماتے ہیں علماءااس مسلئہ میں کہ اگر کسی نے خون ٹیسٹ یا شوگر ٹیسٹ کیلئے اپنا خون نکلوایا جیسا کہ اس کا مشہور طریقہ ہےیا سوئی کے ذریعے نکلوایا تو کیا اس سے وضو ٹوٹ جائگا برائے مہربانی اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں*

*🌹سائل🌹 حسن رضا*

*🌴وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🌴*

*✍الجواب بعون الملك الوهاب*
*👈 صورت مسئولہ میں انجیکشن یا سوئی کے ذریعے اتنا خون نکلا کہ جس میں بہنے کی قوت تھی تو اس سے وضو ٹوٹ جائیگا۔ اور اتنی قلیل مقدار میں نکلا کہ فقط جسم پر ظاہر ہوا بہہ نہیں سکتا تھا تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔*
*🔹 شیخ الاسلام والمسلمین امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے فرمایا:( وبقيد القوة دخل ما إذا افتصد فطار الدم ولم يتلوث رأس الجرح وما إذا ترب أو أخذ بخرق أو مص علق أو قراد كبير من دمه ما لو خرج لسال( نقض الوضوء).*
 *🔸ترجمہ: بالقوہ کی قید لگانے سے وہ صورت داخل ہو گئی کہ جب فصد لگائی تو خون اُڑا اور سرِزخم آلودہ نہ ہوا اور وہ صورت کہ خون پر مٹی ڈال دی یا کسی کپڑے میں جذب کر لیا یا کسی جونک(خون چوسنے والاکیڑا) یا بڑی کِلّی نے اس کا اتنا خون چوس لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہتا، تو ان تمام صورتوں میں وضو ٹوٹ گیا۔*

 *📚(فتاوى رضويہ، کتاب الطہارت، جلد 1، صفحہ 321، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ـــــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبہ؛حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی (نئ دہلی)*
*📱+91 6203980319*
ــــــــــــــــــــــــ
*✍ الـمرتـب؛اسـیرتـاج الـشریــعــه*
*غـلام احمـدرضـاقـادری(یـوپی)*
ـــــــــــــــــــــــــ
*فخـرازھـرگـروپ؛3*


*🌹حیض و نفاس میں ذکر و تسبیح کا حکم ـــ🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 کیافرماتے مفتی صاحب اس مسئلہ میں کہ ایام حیض ونفاس میں قرآن یا ذکرواذکار یا آیت الکرسی پڑھنے جائز ہے
برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں

 *🎍سائل : ساجد رضا نوری🎍*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب*

 *🌹 صورت مسئولہ میں قرآن پاک کی وہ آیات جوذکروثناء اوردعاء پرمشتمل ہوں ان کوبنیت ذکرودعاحالت ناپاکی میں پڑھناجائزہے اسی طرح اسماء الٰہی، وظائف، 6کلمے پڑھنا اور مسنون ماثور دعائیں پڑھنا جائزہے لیکن بہتر یہ ہے کہ با وضو یا کلی کر کے پڑھے جائیں۔*

 *🌹تـــــاجـــــد ار اہـــــل ســـــنــــت مـــــجـــــد د د یـــــن و مـــــلــــــت حـــــضـــــو ر اعـــــلــــی حـــضـــرت فـــــاضـــــل بـــــر یـــــلـــــو ی رضــــی الــــــلـــــہ عـــــنــــــہ تــــــحــــــر یــــــر فـــــر مـــــاتـــــے ہــــــیـــــں کــــــــہ ،،*

 *🌸قرآن عظیم کی وہ آیات جو ذکر وثناء ومناجات ودعا ہوں اگرچہ پوری آیت ہو جیسے" آیۃ الکرسی" متعدد آیات کاملہ جیسے سورۃحشرکی آخیر کی تین آیتیں " هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ" سے آخرسورت تک بلکہ پوری سورت جیسے الحمدشریف بہ نیت ذکر ودعا نہ بنیت تلاوت پڑھنا جنبی وحائضہ ونفاس والی سب کو جائز ہے اسی لئے کھانے یا سبق کی ابتداء میں " بسم اللہ" کہہ سکتے ہیں اگرچہ یہ آیت مستقلہ ہے اس سے مقصود تبرک واستفتاح ہوتا ہے نہ کہ تلاوت"*

 *📚 فتاوی رضویۃ ،جلد:1، صفحہ:795, رضا فاؤنڈیشن لاہور*

 *🌺حضور صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:"*

 *🏷قرآن پاک کے علاوہ اور تمام اذکار کلمہ شریف درودشریف وغیرہ پڑھنا بلا کراہت جائز بلکہ مستحب ہے اور ان چیزوں کو وضو یا کلی کرکے پڑھنا بہتر اور ویسے بھی پڑھ لیا تب بھی حرج نہیں ایسی عورت کو اذان کا جواب دینا جائز ہے"*

 *📚 بہار شریعت ،جلد :1، حصہ دوم، صفحہ:379*

 *🌹؛؛؛واللہ و رسولہ اعلم بالصواب؛؛؛🌹*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی نئی دہلی*
 *📱 6203980319*

ــــــــــــــــــــــ
 *📝المشتہــــــر محـــــمد امتیـــــازالقــــادری*
ـــــــــــــــــــــــ
 *گروپ کاسوال ہمارا جواب 6*


*☘شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض کے اوپر روزے کا شرعی حکم کیاہے؟ــ☘*

*🌹السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ🌹*

کیا فرماتے ہیں علماء کرام
میرا شوگر اور بلڈ پریشر ہائی رہتا ہے جس کی وجہ سے روزہ رکھنا مشکل ہے مفتی صاحب آپ بتائیں میرے لئے شرعی حکم کیا ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں

*🍃سائل🍃 شمس الدین اندور🍃*

*🌹وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🌹*

*📝الجواب بعون الملك الوهاب*
*👈صورت مسئولہ میں اگر واقعی آپ کی طبیعت ایسی ہے جیسا کہ آپ نے بیان کیا جس کی وجہ سے روزہ رکھنا مشکل ہو گیاہے اور نہ آئندہ کبھی طبیعت روزہ رکھنے کے قابل ہونے کی امید ہے تو پھر ہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی ہر روزہ کے بدلے میں دونوں وقت ایک مسکین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا صدقہ فطر کی مقدار دوکیلو پینتالیس گرام ہے،گندم، یا اس کا آٹا یا اس کی قیمت شرعی فقیر(مستحق زکوٰۃ) کو دینالازم ہے ۔*

 *🏷امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:" جس جوان یابوڑھے کوکسی بیماری کے سبب ایساضعف ہوکہ روزہ نہیں رکھ سکتے انہیں ابھی کفارہ دینے کی اجازت نہیں بلکہ بیماری جانے کاانتظارکریں،اگرموت سے پہلے شفا آجائے تواس وقت کفارہ کی وصیت کردیں،غرض یہ کہ کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں ،نہ لگاتار نہ متفرق،اورجس عذرکے سبب طاقت نہ ہواس عذرکے جانے کی امیدنہ ہو،جیسے وہ بوڑھاکہ بڑھاپے نے اسے ایساضعیف کردیاکہ گنڈے دارروزے متفرق کرکے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتاتوبڑھاپاتوجانے کی چیزنہیں ایسے شخص کوکفارہ کاحکم ہے"۔*

*📚(فتاوی رضویہ، جلد:10، صفحہ:547،)*
 
*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ــــــــــــــــــــــــــ
*📝کتبہ؛حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نئ دہلی*
*📱6203980319*
ــــــــــــــــــــــــــ
*🖥الـمرتـب؛اسـیرتـاج الـشریــعـــه*
*غـلام احمـدرضـاقـادری یوپـی*
ـــــــــــــــــــــــــــ
*فخــرازھـــرگــروپ؛3*


*✈ہوائی جہاز پر روزہ افطار کب کرے ✈*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
ہوائی جہاز پر ہونے کی وجہ سے سورج نظر آ رہا ہے جبکہ اس جگہ کے شہر والے افطار کرچکے ہیں تو کیا شہر کا
اعتبار کرتے ہوئے روزہ افطار کرسکتا ہے
برائے مہربانی اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں

 *🌸سائل ندیم رضا ـــ🌸*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *🌷وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🌷*

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب*

 *🌹صورت مسئولہ میں فتاوى فقیہ ملت میں ہے:"جب ہوائی جہاز پر سفر کرنے والے کو سورج نظر آ رہا ہے تو شہر کے برابر جہاز پہنچنے پر اس شہر کے وقت کے اعتبار سے روزہ افطار کرنا ہرگز جائز نہیں کہ اس کے حق میں ابھی سورج غروب ہی نہیں ہوا، لہذا اس پر لازم ہے کہ جب اوپر کے اعتبار سے سورج غروب ہونے کا یقین  ہوجائے تب روزہ افطار کرے"*

 *بحوالہ 📕فتاوی فقیہ ملت کتاب الصوم، جلد 1 صفحہ341*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ نئ دہلی*
             *📱6203980319*

ــــــــــــــــــــ
 *📝 المشتہـــــر محـــــمد امتیتـــازالقــــادری*
ــــــــــــــــــــ
 *آپ کاوا ہمارا جواب 6*


*🌸🌸 منت کے روزے کا حکم 🌸🌸*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
ایک اسلامی بہن نے منت مانگی تھی کہ جب ان کے گھر بچے کی ولادت ہو گی تو وہ دو روزے لگاتار رکھیں گی تو ان کا پہلا بچہ ہے تو کیا انہیں نفاس کا پہلا پیریڈجو (چالیس دن)کا وتا ہے اس کے بعد رکھنے چاہیئں؟ اور کیا رمضان کے مہینے میں منت کی نیت کر سکتے ہیں؟


  *🌺سائل مصطفٰی رضا🌹*

💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*

*✍الجواب بعون الملک الوھاب*
 *صورت مسئولہ میں جب اسلامی بہن کے وہاں بچہ ہوا تو اس پر منت کے روزہ رکھنا واجب ہے۔ جب اس عورت کا نفاس کا خون ختم ہوجائے تو اپنی منت پوری کرے۔ (یہ ذہن نشین کرلیں کہ نفاس کے خون کی زیادہ سے زیادہ مدت* *چالیس دن ہے اور کم سے کم مدت کچھ بھی نہیں ہے، یعنی اگر ایک دن خون آیا یا سرے سے آیا ہی نہیں تو* *شرعاً وہ عورت پاک ہوچکی ہے اب نہا دھو کر نماز وغیرہ ادا کرے)۔ ماہ رمضان میں منت کے روزوں کی نیت نہیں کرسکتے۔*


*📚 بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1016*


*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹
*📝کتبہ حضرت علامہ و مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نئ دہلی*
*رابطہ 👈🏻📱6203980319*
〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*🖥المشتہـــــر محــــمد امتیـــاز القـــادری*

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰
*گروپ آپ کاسوال ہمارا 16*


*🍇دودھ پلانےوالی ماں کیلئےروزہ کاحکم*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
 ماں اگر روزہ رکھے گی تو بچی کی خوراک پوری نہ ہوگی اور بچی دوسرا کوئی دودھ نہیں پیتی تو کیا اب بھی اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے؟برائے کرم جلد جواب عنایت فرمائیں

 *🌸سائل ★ محمد سلمان رضا کلکتہ🌸*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *🖤وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🖤*

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب*

 *صورت مسئولہ میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں: « رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ، وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا». ترجمہ:رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حاملہ عورت کو جسے روزہ رکھنے کی وجہ سے جان تلف ہونے کا خوف ہو اور ایسی دودھ پلانے والی عورت کو کہ جسے روزہ رکھنے کی صورت میں اپنے بچے کی جان کا خوف ہو ، روزہ چھوڑنے کی رخصت عطاء فرمائی ہے۔*

 *[📗سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی الافطار للحامل، حدیث(1668)، جلد 1، صفحہ 533، دار احیاء التراث العربیہ بیروت]۔*

 *لہذا مذکورہ عورت پر روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ اور بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء لازم ہے۔  اگر بچی دوسرا دودھ بھی پیتی  ہے  تو اب روزہ رکھنا ضروری ہے۔*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 *📝کتبہ حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی نئی دہلی*
 *📱+919337025391*

ـــــــــــــــــــ
 *📝 المشتہــــــر محـــــمد امتیـــازالقـــــادری*
ـــــــــــــــــــ
 *گروپ آپ کاسوال ہماراجواب6*


*🌹جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو اسے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے ــ🌹*

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان عظام اس مسئلہ میں
کہ جب N I C وغیرہ کی تصویر ہوتی ہے یا شرٹ وغیرہ پر ہو تو اس کے ساتھ نماز میں کوئی کراہت آتی ہے کیا
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں


*💎سائل محمد شہباز رضا کولکتہ💎*

💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠


*🌺وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🌺*

*✍الجواب بعون الملك الوهاب*

*صورت مسئولہ میں حضور صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ نے فتاوى شامی کے حوالے سے لکھا: جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو اسے پہن کر نما زپڑھنا مکروہ تحریمی*

*ہے۔ نماز کے علاوہ بھی ایسا کپڑا پہنناناجائز ہے۔ یوہیں نمازی کے سر پر یعنی چھت ميں ہو یا لٹکی ہوئی ہو، یا محل سجود میں ہو کہ اس پر سجدہ واقع ہو تو نماز*

*مکروہ تحریمی ہوگی۔ یوہیں نمازی کے آگے، یا داہنے، یا بائیں تصویر کا ہونا مکروہ تحریمی ہے اور پیٹھ کے پیچھے ہونا بھی مکروہ ہے۔ ایک مقام پر فرمایا:*

*تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو تو نماز میں کراہت نہیں۔*


*📚بہار شریعت، نماز کا بیان، مکروہات نماز، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 627، 628،*


*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*

💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠💠
*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی محمد معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئ دہلی*
*☎رابطہ 👈🏻📱 6203980319*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*🖥المشتہــــر محــــمد امتیـــاز القـــادری*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*آپ کاسوال ہماراجواب گروپ


*🌹شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکاۃ نہیں دے سکتا ــ🌹*

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ذیل میں کہ عورت اپنے شوہر کو زکوة دے سکتی ہے یا نہیں مع حوالہ جواب عطا فرمائیں . .

*💎سائل غلام احمد 💎*

🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

*✍الجواب بعون الملک الوھاب*
*صورت مسئولہ میں عورت شوہر کو اور شوہر عورت کو زکاۃ نہیں دے سکتا،*

*اگرچہ طلاق بائن بلکہ تین طلاقیں دے چکا ہو، جب تک عدّت میں ہے اور عدّت پوری ہوگئی تو اب دے سکتا ہے*

*📘۔ (درمختار، ردالمحتار)*


*📚بحوالہ بہار شریعت
 جلد 1حصہ 5 صفحہ 931*


*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*

🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹🔹

*📝کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئی دہلی*
 *☎رابــطــہ 👈6203980319*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*🖥المشتـــہر محـــمد امتیـــاز القـــادری*
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*آپ کاسوال ہمارا جواب گروپ 6*


*🌻عورت کو بال کا جوڑا باندھنا کیسا ہے اور کیا بال کے جوڑے میں نماز ہو جائے گی؟ــ🌻*

*🌷السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ*

کیا فرماتے ہیں مفتی صاحب اس مسئلہ میں کہ عورت کو بال کا جوڑا بنانا کیسا ہے اور کیا بال کے جوڑے میں نماز ہو جائے گی

*🌹سائل🌹سلمان رضاکولکتہ*
اــــــــــــــــــ🔷💚🔷ـــــــــــــــــــ
*🌷وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🌷*

*📝الجواب بعون الملک الوھاب*
*صورت مسئولہ میں جوڑا باندھنے کہ کراہت مرد کے لیے ضرور ہے،*
*حدیث میں صاف نهى الرجل ہے، عورت کے بال عورت ہیں پریشان ہوں گے تو انکشاف کا خوف ہے اور چوٹی کھولنے کا اسے غسل میں بھی حکم نا ہوا کہ نماز میں کف شعر گندھی چوٹی میں ہے جب اس میں حرج نہیں جوڑے میں کیا حرج ہے،*
*مرد کے ممانعت میں حکمت یہ ہے کہ سجدے میں وہ بھی زمین پر گریں اور اس کے ساتھ سجدہ کریں کما فى المرقاة وغير(جیسا کہ مرقات وغیرہ میں ہے ت) اور عورت ہر گز اس کے مامور نہیں لا جرم امام زین الدین عراقی نے فرمایا :هو مختص بالرجال دون النساء*

*(یہ مردوں کے لیے مخصوص ہے نا کہ عورتوں کے لیے.. ت)*

*📚(بحوالہ فتاوی رضویہ جلد 7 صفحہ 299)*

*🌹واللہ ورسولہ اعلم بالصواب🌹*
اــــــــــــــــــــ🔷💚🔷ـــــــــــــــــــ
*✍🏻کتبہ؛حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی (نئ دہلی)*
*📱+91 6203980319*
ــــــــــــــــــــــــ

*✍ الـمرتـب؛اسـیرتـاج الـشریــعــه*
*غـلام احمـدرضـاقـادری(یـوپی)*
ــــــــــــــــــــــــ
کنـزالعـــلوم گروپ 3


*🌹صدقہ فطر میں گیہوں کی جگہ دھان یا چاول دینا کیساہے 🌹*


السلام علیکم ورحمتہ اللہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں صدقہ فطر میں دھان یا چوال گیہوں کے جگہ پر دی
 جائے تو کیا حکم ہے برائے مہربانی بحوالہ جواب عنایت


*💎سائل قاسم رضا💎*

🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥

*و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*


*✍الجواب بعون الملک الوھاب*

*صورت مسئولہ میں صدقہ فطر میں گیہوں کی جگہ پر چاول، دھان، جو یا باجرا دینا چاہے تو قیمت کا لحاظ کرنا ہوگا یعنی وہ چیز آدھے صاع گیہوں یا ایک صاع جو قیمت ہو یہاں تک کہ روٹی دیں تو اس میں بھی قیمت کا لحاظ کیا جائے اگر چہ روٹی گیہوں یا جو کی ہو ایسا ہی*

*📚 بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 70 پر ہے.*


*.. اور سیدنا اعلی حضرت محدث بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ”نصف صاع گندم کی قیمت میں جتنے چاول آئیں اتنے دیے جائیں گے“*


*(📚 فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ495 )*


*اور حضرت علامہ حصکفی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں :” ما لم ينص عليه كذرة و خبز يعتبر فيه القيمة“*


*(📚 در المختار مع رد المختار جلد دوم صفحہ 83)*


*📚بحوالہ فتاوی فقیہ*
 *ملت جلد 1 صفحہ329*


*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*

🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥🚥

*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئ دہلی*
*☎رابطہ 👈📱 6203980319*

🎍🎍🎍🎍🎍🎍🎍🎍🎍🎍🎍

*💻المشتہر محمد امتیاز القادری*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ 8808819316*


🍃عورت اگر طواف زیارت نہ کر سکے تو کیا حکم ہے 🍃

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
حج میں طواف زیارۃ کے وقت اگر عورتوں کے مسائل ہوجائیں تو پھر کیا کریں
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں
مستفتیہ شاہین پروین
ـــــــــــــــــــــــــــ 🌀🔸🌀 ـــــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
 الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں طواف زیارت نہیں کیا تھا عورت کے مخصوص ایام شروع ہوگئے تو عورت پاک ہونے کا انتظار کرے اور پھر طواف زیارت کرے۔ اور اگر اس کی روانگی کا وقت آگیا ہے اور عورت کے پاک ہونے تک کسی بھی صورت میں ٹھرنا اور اس طواف کیلئے دوبارہ جانا بھی ممکن نہ ہو تو وہ عورت یہ طواف زیارت کرے اور ایسی صورت میں بدنہ واجب ہوگا یعنی اونٹ یا سالم گائے کی قربانی حدود حرم میں کرنا واجب ہوگی۔

📚بحوالہ وقار الفتاوى، جلد۲، صفحہ ۴۵۶

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ 🌀🔸🌀 ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مــعـــیـــن الـــدیــــن
 الأزھــــــری نــــئ دہــــلـــــی
📱6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ 🌀🔸🌀ـــــــــــــــــــــــــ


*🌹حلال جانور کے بعض اجزا۶ حرام یا مکروہ یا ممنوع ہیں🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
حلال جانور کی آنتیں اور اوجھری کھا نا کیسا ہے؟
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں

                *🌹سائل:- نوید رضا🌹*
🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆
========-----------------========
  *💚وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ💚*

*✒الجواب بعون الملك الوهاب*
*صورت مسئولہ میں جن جانوروں کاگوشت کھایاجاتاہے ان کے سب اجزاء حلال اوران کاکھاناجائزہے مگرجانورکے بعض اجزاء حرام یاممنوع یامکروہ ہیں۔آنت اور اوجھڑی مکروہ اجزاء میں سے ہے لہذا اس کاکھانامکروہ ہے۔*

*امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں" آنت کھانے کی چیز نہیں، پھینک دینے کی چیز ہے۔ وہ اگر کافر لے جائے یا کافر کو دی جائے تو حرج نہیں ۔*

_الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ_
*(📚القرآن سورہ نور پ١٨ ع٩)* 
*ترجمہ:" خبیث چیزیں خبیث لوگوں کے لئے اور خبیث لوگ خبیث چیزوں کے لئے"۔*
*(📚 فتاوی رضویہ، جلد ۲۰، صفحہ ۴۵۷، رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

*مزید ایک اورمقام پرفرماتے ہیں" حلال جانور کے سب اجزاء حلال ہیں مگر بعض کہ حرام یا ممنوع یا مکروہ ہیں👇*

*(۱) رگوں کا خون (۲) پتا (۳) پُھکنا (۴) و (۵) علامات مادہ ونر (۶) بیضے (۷) غدود (۸) حرام مغز (۹) گردن کے دو پٹھے کہ شانوں تک کھنچے ہوتے ہیں (۱۰) جگر کا خون (۱۱) تلی کا خون (۱۲) گوشت کا خون کہ بعد ذبح گوشت میں سے لکھتا ہے (۱۳) دل کا خون (۱۴) پت یعنی وہ زرد پانی کہ پتے میں ہوتاہے (۱۵) ناک کی رطوبت کہ بھیڑ میں اکثر ہوتی ہے (۱۶) پاخانہ کا مقام (۱۷) اوجھڑی (۱۸) آنتیں (۱۹) نطفہ (۲۰) وہ نطفہ کہ خون ہوگیا (۲۱) وہ کہ گوشت کا لوتھڑا ہوگیا (۲۲) وہ کہ پورا جانور بن گیا اور مردہ نکلا یا بے ذبح مرگیا" ۔*
*( 📚 فتاوی رضویہ، جلد۲۰، صفحہ۲۴۰, ۲۴۱ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

        *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆
=========------------------=========
*✍🏻کتبہ،*
*حضرت علامہ مولانا مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی،*
                        *📞رابطہ 6203980319*

*🗓بتاریخ:- (٢٣/ شوال ١٤٣٨ھ یک شنبہ)*


   *📚گروپ آپ کا سوال اور ہمارا جواب📚*
🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆
========------------------========

     *المشتہر:- محبوب رضا صمدانی پٹنہ بھار*
🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆🎆
========-----------------========


*🔸گابھن جانور کی قربانی کا شرعی حکم 🔸*

◆ـــــــــــــــــ🔸🎨🔸ـــــــــــــــــ◆
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
*گابھن جانور کی قربانی کرنا کیسا ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*

*🔸سائل🔸 رفیق احمد*
 ◆ـــــــــــــــــ🔸🎨🔸ـــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملك الوهاب؛*
 *صورت مسئولہ میں گابھن جانور کی قربانی بھی ہو سکتی ہے۔*

*📋مگر گابھن ہونا معلوم ہے تو احتراز کرنا افضل ہے۔*
*اور اگر دس، بیس دن کا گابھن ہے تو اس میں کسی قسم کا مضائقہ نہیں*

*📚(فتاویٰ امجدیہ،جلد3 کتاب الذبح،ص328)*

*🌹واللہ ورسولہ اعلم بالصواب🌹*
◆ـــــــــــــــــ🔸🎨🔸ـــــــــــــــــ◆
*✍ازقلــم؛حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی (نئ دہلی)*
*رابطہ؛📞 6203980319*

◆ـــــــــــــــــ🔸🎨🔸ـــــــــــــــــ◆
*✍المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادری یـوپی*
*کنـزالعـلوم گروپ*
◆ـــــــــــــــــ🔸🎨🔸ـــــــــــــــــ◆


*🌺بکرے کے دانت کے نکلنے پر قربانی کا حکم🌺*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
قربانی کے بکرا سال بھر کا ہے اور اس کا دانت بھی نکلا ہو ا ہے۔ اور جبکہ گاؤ ں کے لوگ کہتے ہیں کہ سال بھر کا نہیں ہے۔تو کیا اس بکرے کی قربانی ہو جائے گی برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں

*🌺سائل جاوید اقبال🌺*

💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚

*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب*
*صورت مسئولہ میں فتاویٰ فیض رسول میں ہے:"* *قربانی کے بکرے کی عمر سال بھرہونا ضروری ہے۔* *دانت کا نکلنا ضروری نہیں۔ لہذا بکرا اگر واقعی سال بھر کا ہے۔ تو اس کی قربانی جائز ہے۔ اگرچہ اس کے دانت نہ نکلے ہوں"۔*

 *📚 فتاوی فیض رسول,جلد2 ص457*

*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*

💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚💚

*✍کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئی دہلی*
*☎رابطہ 👈6203980319*

🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺

*🖨المشتہر محمد امتیاز القادری*



*📚گروپ آپ کا سوال ہمارا جواب 📚*


*🌺حلال جانورکے کپورے کا حکم🌺*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ حلال جانوروں کے کپوروں کے بارے میں شریعت کیا حکم ہے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں
*🌹سائل علی رضا ممبئی🌹*

🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹

*📝الجواب بعون الملک الوھاب*
 *صورت مسئولہ میں حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:" ذبح شرعی کے باوجود حلال جانوروں کا کپورہ حرام ہے*

*📘۔فتاویٰ عالمگیر جلد پنجم مبطوعہ مصر ص 256میں ہے ما یحرم اکلہ من اجزاء الحیوان سبعۃ الدم المسفوح والذکر،والانثیان، والقبل، والغداۃ ،والمثانۃ والمرازۃ کذا فی البدائع۔*

*یعنی حلال جانوروں میں سات چیزیں حرام ہیں۔ ۱:بہتا ہوا خون،۲:آلہ تناسل ۳: دونوں خصیے یعنی کپورے،۴:شرمگاہ،۵:غدود،۶:مثانہ،۷:اور پِتہ ایسے ہی بدائع میں ہے*

*📚 فتاوی فیض رسول,ج 2،کتاب الذبح،ص431*

*💎واللہ و رسولہ اعلم بالصواب💎*

🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹

*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئی دہلی*
*☎رابطہ 👈6203980319*

🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹🎹

*🖨المشتہر محمد امتیاز القادری*

〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰〰

💚آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ 💚


*🌹بکری ذبح کی گئ اور بچہ بھی نکلا تو اب کیا حکم ہے؟ ــ🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ بکری ذبح کی گئی اور اس بکری کا بچہ پیدا ہو گیا زندہ یا مردہ تو وہ جانور حلال کی حیثیت رکھتا ہے یا  حرام کی؟ اور اس بکری کے بچہ کا کیا کیا جائے برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ــ

*🌹سائل🌹شمس رضا*


*وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*📝الجواب بعون الملک الوھاب*
*صورت مسئولہ میں حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں" جس بکری کے پیٹ سے بچہ نکلے خواہ زندہ ہو یا مردہ اگر وہ شرعی طریقہ پر ذبح کی گئی ہے تو اس بکری  کا گوشت کھانا جائز ہے ــ*

*🏷اور جو بچہ اس کے پیٹ سے زندہ نکلے اگر چاہیں تو اس کو بھی ذبح کردیں اور چاہیں تو باقی رکھیں ــ لیکن قربانی کے جانور کے پیٹ میں سے زندہ بچہ نکلے تو اس کا ذبح کرنا ضروری ہے ــ*

*📗 ( فتاوی فیض رسول جلد 2 کتاب الذبح صفحہ 428 )*


*🌹واللہ تعالی اعلم ورسولہ اعلم بالصواب 🌹*
ـــــــــــــــــ
*✍ازقــــــلم,حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھـــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ نئ دہلی*
6203980319
ــــــــــــــــــ
*✍المرتب؛اسـیر تاج الـشریعه*
*محمد ریاض الدین رضوی ممبئ*
ــــــــــــــــــــــــ
💚امام اعظم گروپ💚


*🖤نماز میں رکوع کرنا بھول جائے تو کیا حکم ہے🖤*

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
 *کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
 *کہ اگر نماز میں رکوع رہ جائے تو اس کو کیسے ادا کریں کیونکہ رکوع تو فرض ہے، سجدہ جائے تو وہ تو اگلی رکعت یا جہاں یاد آئے تو وہاں کر کے سجدہ سہو کریں تو نماز ہوجائیگی لیکن رکوع رہ جائے تو کیا طریقہ ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*

 *💚سائل رفیق احمد💚*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

 *🔹وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🔹*

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب ـ صورت مسئولہ میں کسی رکعت کے دو سجدوں میں سے اگر ایک سجدہ رہ جائے تو جس وقت یاد آئے کرلے اور سجدہ سہو کرے۔ اور اس چھوٹے ہوئے سجدے کو آخر میں بھی کرسکتا ہے پھر سجد سہو کرکے اپنی نماز مکمل کرے۔ اور اگر کسی رکعت کا رکوع رہ گیا پھر جب اس کو یاد آیا تو اسی وقت رکوع کرے اور اس صورت میں جس رکعت میں اس نے رکوع چھوڑا تھا اس کےبعد ياد آنے تک جتنی نماز ادا کی اس کو دوبارہ ادا کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اسکی نماز مکمل ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چار رکعت والی نماز میں اول رکعت کا رکوع ترک کیا یعنی قیام سے سجدے میں چلا گیا اور دو سجدے بھی کرلئے جب کھڑا ہوا تب یاد آیا تو اب پہلے رکوع کرے پھر اس نے جو دو سجدے کیئے تھے وہ باطل ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ لوٹائے اور دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اس کی نماز مکمل، یعنی چھوٹے ہوئے رکوع کے بعد سے لے کر یاد آنے پر رکوع کرنے تک جتنی نماز پڑھی اس کو دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے جبکہ سجدے کے ترک میں ایسا نہیں ہے۔*

 *📚فتاوى شامی، کتاب الصلاۃ، فرائض الصلاۃ، ج ۱، ص۴۴۹ ـ دار الفکر بیروت۔*
 *📚فتاوى رضویہ، ج۶، ص ۱۷۶ ـ رضا فاؤنڈیشن لاہور*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

 *✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ دہلی ـ*
*📞_____رابطہ 6203980319*

*💎آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ💎*

 *🖥المــرتب محــمد امتیـــازالقـــادری* 
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵


*🌹اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہیں تو ہر ایک کے نام قربانی واجب ہوگی ــ🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ ایک شخص جس کا نام ابوبکر ہے وہ کہتا ہے کہ اگر باپ زندہ ہو تو فقط قربانی اسی کے نام سے ہو گی ۔ کسی اور کے نام یعنی اس کی اولاد کے نام سے نہیں ہو گی اور اگر کسی نے کر بھی دی تو وہ نفلی قربانی ہو گی نہ کہ واجب چاہے وہ لگاتار کئی سال سے کر رہے ہوں اور جب کہ زید کہتا ہے کہ باپ کی موجودگی میں بھی اولاد یا بیوی کی طرف سے قربانی ہو جاتی ہے برائے مہربانی اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں ــ

*♦سائل♦صدام حسین*



*وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*✍الجواب بعون الملک الوہاب*
*صورت مسئولہ میں حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ فتاویٰ فیض رسول میں فرماتے ہیں کہ باپ اگر ہر سال مالک نصاب ہے تو اس پر ہر سال اپنے نام سے قربانی واجب ہو گی ــ اور باپ کے ساتھ بیٹا بیوی یا دوسرا کوئی مالک نصاب ہے تو اس پر بھی اپنے نام سے قربانی واجب ہو گی ــ اگر باپ نے چند سال اپنے نام قربانی کی اور مالک نصاب ہوتے ہوئے کسی سال بیٹا یا بیوی کے نام سے قربانی کی اور اپنے نام کی نہ کی تو گنہگار ہو گا ــ خلاصہ یہ ہے کہ گھر میں جو مالک نصاب ہو گا اسی کے نام قربانی ہو گی ۔ چاہے متواتر کئی سال اس کے نام قربانی ہو چکی ہو ــ اور اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہیں تو ہر ایک کے نام قربانی واجب ہوگی ــ*

📗 *( فتاوٰی فیض الرسول جلد ۲ کتاب الاضحیہ صفحہ ۴۳۹ )*


*🌹واللہ تعالی اعلم ورسولہ🌹*
ـــــــــــــــــ
*✍ازقــــــلم,حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھـــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ نئ دہلی*
📱6203980319
ــــــــــــــــــ
*✍المرتب؛اسـیر تاج الـشریعه*
*محمد ریاض الدین رضوی ممبئ*
ــــــــــــــــــ
*امام اعظم گروپ*


📍گانوں میں کہےجانے والے کفریہ اشعار📍

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
گانوں ميں کہے جانے والے کفریہ اشعار
 درج ذیل اشعار کہنے، سننے اور اس کو صحیح کہنے والے کا کیا حکم ہے
برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں 
(1)حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے خدا بھی نہ جانے ہم کیسے جانیں (2)خدا بھی جب زمیں پر آسماں سے دیکھتا ہوگا مرے محبوب کو کس نے بنایا، سوچتا ہوگا
 (3) رب نے بھی مجھ پہ کیا ستم کیا ہے سارے جہاں کا غم مجھے دے دیا ہے (4) رنگ تیرا دیکھ کر روپ تیرا دیکھ کر قدرت بھی حیران ہے (5)کتنا حسیں چہرا کتنی پیار ی آنکھیں۔۔۔ قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار
ـــــــــــــــــــــــــــ ❄ 🌺 🍥 ـــــــــــــــــــــــــ
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملك الوهاب
📩صورت مسئولہ میں جتنے اشعار سوال میں درج کیے گیے ہیں سب میں کوئی نہ کوئی کفر صریح ہے۔ جو لوگ ان اشعار کو پڑھتے ہیں وہ سب کے سب اسلام سے خارج ہوکر کافر ومرتد ہوگئے، ان کے تمام نیک اعمال ضائع ہوگئے، ان کی بیویاں نکاح سے نکل گئیں اور ان پر فرض ہے کہ فوراً بلا تاخیر ان اشعار میں جو کفریات ہیں ان سے توبہ کریں کلمہ پڑھ کر پھر سے مسلمان ہوں اور اپنی بیویوں سے دوبارہ نکاح کریں۔ اسی طرح جس نے ان اشعار کو سنا اور پسند بھی کیا تووہ بھی کافر ہوگیا۔ اور ایسے اشعار جس CD وغیرہ میں موجود ہیں ان کی خریدوفروخت حرام ہے اور ان کو شیئر کرنا بھی حرام اشد حرام ہے۔
 📚 فتاوى شارح بخاری،عقائد ذات باری تعالی، ج1،ص 257

📿حدیث پاک میں آتا ہے 📿

📃الغناء ينبت النفاق فی القلب کما ينبت الماء الزرع.

(📚مشکوة شريف بحواله مسلم شريف)

📌گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے جیسا کہ پانی سبزہ اگاتا ہے۔

📜سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب گانے کی آواز سنتے تو دونوں انگلیوں کو کانوں میں ڈال لیتے یہاں تک کہ دور چلے جاتے۔ پھر پوچھتے کہ آواز آرہی ہے، جب بتایا جاتا کہ نہیں تو انگلیوں کو نکالتے اور فرماتے اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرتے تھے۔

(📚 رواه احمد و ابو داؤد بحواله مشکوة شريف)

🏷ان فضول چیزوں سے بچنا چاہیے، اس کی بجائے حمد و نعت سنا کریں اس سے ثواب بھی ملتا ہے اور راحت اطمینان قلب بھی اور محبت میں بھی اضافے کا باعث ہیں۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
ـــــــــــــــــــــــــــ ❄ 🌺 🍥 ـــــــــــــــــــــــــ
✍🏻کـــتــبــہ مـــعــیـــن الـــدیــــن
 الأزھــــــری نـــــئ دہلــــی
📱6203980319
ـــــــــــــــــــــــــــ ❄ 🌺 🍥 ـــــــــــــــــــــــــ


*💚جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا تھا وہ کہاں سے آیا تھا؟💚*
◆ـــــــــــــــــــ🔸🍥🔸ــــــــــــــــــ◆
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
 *جو دنبہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ قربانی ہوا تھا وہ حضرت جبرائیل علیہ السلام جنت سے لیکر آئے تھے ۔ تو وہ دنبہ جنت میں کہاں سے آیا؟ اور جب اس کی قربانی ہو گئی تو اس کا گوشت اور کھال کا کیا ہوا*
*جواب عنایت فر مادیں*

*سائل- توصیف رضا*
◆ـــــــــــــــــــ🔸🍥🔸ــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*✍الجــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــــ بعــــــــون المــــلـــك الــــوهـــــاب؛*
*صورت مسئولہ میں فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ  جو مینڈھا حضرت اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذبح فرمایا تھا وہ کہاں سے آیا تھا اس بارے میں اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ وہ مینڈھا جنت سے آیا تھا  اور یہ وہی مینڈھا تھا جس کو حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صاحبزادے ہابیل نے قربانی میں پیش کیا تھا۔ اور بعض مفسرین کا قول یہ ہے کہ وہ پہاڑی بکرا تھا جو حضرت سیدنا اسماعیل علیہ السلام کے فدیہ میں ذبح ہونے کے لئے ثبیر پہاڑ سے منجانب اللہ  اتارا گیا تھا۔*
*اب رہا یہ سوال کہ اس مینڈھے کو گوشت وغیرہ کا کیا ہوا تو صاحبِ روح البیان کی تفسیر سے یہ مفہوم ہے کہ سر کے علاوہ باقی اجزاء کو آگ  آکر جلا گئی جیسا کہ امم سابقہ کے لئے مقبول قربانیوں کے بارے میں عاداتِ الٰہیہ تھی۔*

*📚(فتاوٰی فیض رسول،ج۲، کتاب الاضحیۃ ص۴۶۵)*

*🌹واللہ ورسولہ اعلم بالصواب🌹*
◆ـــــــــــــــــــ🔸🍥🔸ــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلــم؛حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی (نئ دہلی)*
*▪کنـزالعـلوم گـروپ؛▪*
*رابطہ؛📞6203980319*
◆ـــــــــــــــــــ🔸🍥🔸ــــــــــــــــــ◆
*✍المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادری یـوپی*
◆ـــــــــــــــــــ🔸🍥🔸ــــــــــــــــــ◆


*💚حضور صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے نائب مطلق ہیں،💚*

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
*حضرت محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو کون کون سے اختیارات دئیے گئے ہیں؟* *قرآن و حدیث سے جوابات عنایت فرمائیں*

*سائل- شعیب اختر*
◆ـــــــــــــــــــ▪🍷▪ــــــــــــــــــ◆
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ*
*✍الجـــــــــــــــــــــوابـــــــــــــــــــــــ بعــــــون المـــلــك الـــــوهــــــاب؛*
*حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے نائب مطلق ہیں، تمام جہان حضور کے تحت تصرف کردیا گیا، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں, تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں، تمام آدمیوں کے مالک ہیں جو اُنھیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی ملک ہے، تمام جنت اُن کی جاگیر ہے,* 
*ملکوت السمٰواتِ والارض حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زیرِ فرمان, جنت و نار کی کنجیاں دستِ اقدس میں دیدی گئیں،*
*رزق وخیر اور ہر قسم کی عطائیں حضور(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہی کے دربار سے تقسیم ہوتی ہیں،*
*دنیا و آخرت حضور(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی عطا کا ایک حصہ ہے,*
*احکامِ تشریعیہ حضور(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے قبضہ میں کر دیے گئے،*
*کہ جس پر جو چاہیں حرام فرما دیں اور جس کے لیے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔*

*📚حوالہ بہار شریعت، ج1، ص 79- 85*

*اس مسئلہ پر مکمل تفصیل، بد مذہبوں کی طرف سے تمام اشکالات کے جوابات اور قرآن وحدیث سے دلائل جاننے کیلئے شیخ الاسلام والمسلمین امام اہل السنہ امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کی تصنیف" منیۃ اللبیب ان التشریح بید الحبیب"*
*📖فتاوى رضویہ جلد 30 کا مطالعہ کیجئے۔*

*🌹واللہ ورسولہ اعلم بالصواب🌹*
◆ـــــــــــــــــــ▪🍷▪ــــــــــــــــــ◆
*✍ازقلــم؛حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی (نئ دہلی)*
*💎کنـزالعـلوم گـروپ؛💎*
*رابطہ؛📞6203980319*
◆ـــــــــــــــــــ▪🍷▪ــــــــــــــــــ◆
*✍المرتب؛اسـیرتـاج الـشریعه*
*غـلام احمـد رضـا قـادری یـوپـی*
◆ـــــــــــــــــــ▪🍷▪ــــــــــــــــــ◆