🕋التحیات سے پہلےبسم اللہ پڑھنا کیسا ہے🕋
السلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ
کیا فرماتیں ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کے قاعدہ میں تشہّد سے پہلے بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھنا کیسا ہے ؟ نماز میں کوئی کراہت ہے کیا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
سائل ارمان رضا
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
صورت مسولہ میں تشہد میں التحیات سے پہلے بسم اللہ شریف پڑھنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ یہ آیت قرآنی ہے
قیام کے علاوہ کسی رکن میں جائز نہیں ہے
📚فتاوی مرکز تربیت افتاء جلد اول صفحہ 181
اور اعلحضرت عظیم البرکت مجدو دین ملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رضی اللہ تعالٰی عنہ بسم اللہ شریف کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ
قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ شریف پڑھنا جائز نہیں کہ وہ آیت قرآنی ہے اور نماز میں قیام کے سوا اور جگہ کوئی آیت پڑھنی ممنوع ہے
📚 فتاوی رضویہ جلد سوم صفحہ 134 تا 135 رضا اکیڈمی ممبئی کا مطالعہ کریں
لہذا یہ جانتے ہوئے کہ یہ بسم اللہ شریف کا محل نہیں ہے تبھی بسم اللہ شریف پڑھے گا تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی نماز واجب الاعادہ ہے
اور اگر بھول کر بسم اللہ شریف پڑھ لیا تو سجدہ سہو واجب ہے
جیسا کہ عالمگیری میں ہے
قعدہ میں بیٹھتے ہی تشہد پڑھنا واجب ہے لہٰذا اگر تشہد شروع کرنے سے پہلے کچھ اور پڑھ لیا تو تاخیر واجب کی وجہ سے سجدۂ سہو کرنا واجب ہوگا
ولو قرأ فی القعود إن قرأ قبل التشہد فی القعدتین فعلیہ السہو لترک واجب الابتداء بالتشہد أول الجلوس
📚طحطاوی۲۵۰، عالمگیری ۱؍۱۲۷
و اللہ اعلم بالصواب
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳
✍🏻ازقلم. معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳🔳


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home