Saturday, 1 June 2019

*💜کیا تصویر کے سامنے نماز پڑھنا جائز ہے💜*

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کے
کیا تصویر کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا جائز ہے؟
سائل قاسم علی
_________((🍅))_________
وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون المک الوهاب
صورت مستفسرہ میں صاحب ھدایہ لکھتے ہیں

ولا باس ان يصلَّیَ علی يساط فيه تصاوير لان فی استهانة بالصور.

جس قالین میں تصاویر بنی ہوں اس پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں تصویروں کی توہین ہے (نہ کہ تعظیم)۔

(📗هداية، 1 : 142)

تصاویر کے اوپر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔

ولا يسجُدُ التصاوير لانه يشبه عبادة الصورة.

اور تصاویر پر سجدہ نہ کرے کیونکہ اس میں تصویر کی عبادت سے مشابہت ہے۔

(📗هدايه، 1 : 142)
(طالب دعا معین الدین الأزهري)
لہذا جس مکان میں نمازی کے سامنے کوئی تصویر ہو تو وہ ناجائز ہے اگر دوسری طرف ہو اور نماز میں اس کی تعظیم نہ ہو تو جائز ہے کیونکہ ممانعت تصویر میں اصل علت وہ بت پرستوں سے عبادت میں مشابہت ہے لہذا مشابہت کا خوف نہ ہو تو جائز ہے۔

(📗فتح القدير، 1 : 362)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
_________((🍅))_________
🌱طالب دعا🌱
🌴✍🏻مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری🌴
🥏+201206769548
🌹اسلامی سوالات و جوابات گروپ🌹
ا_________((🍅))_________

Wednesday, 29 May 2019

*💜علمات اور طالبات کے لیےایّام مخصوصہ کے دوران قرآنِ پاک پڑھنے کا کیا حکم ہے💜* السلام عليكم و رحمتہ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کے خواتین ایّام مخصوصہ (menses) کے دوران زبانی قرآن پاک پڑھ سکتی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو معلمہ اور حفظ کرنے والی لڑکیاں ان ایام میں کیا کریں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں لیکچر سن سکتی ہیں یا نہیں؟ اور مقررہ شدہ تاریخوں کے مطابق پیپرز دئیے جائیں یا چھوڑ دیں برائے مہربانی بحوالہ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی سائلہ فاطمہ نوری ا_________((🍅))_________ وعليكم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ الجواب بعون المک الوهاب حائضہ عورت کے لیے قرآن مجید کو براہ راست چھونا ، زبانی یا دیکھ کر پڑھنا حرام ہے، اس سے متعلق اٹھنے والے چند اہم سولات کے جوابات درج ذیل ہیں: حدیث پاک میں ہے: عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ لَا تَقْرَاَ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ. حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھیں۔ ترمذي، السنن، 1: 236، رقم: 131، دار احیاء التراث العربي، بیروت امام الفقہ علامہ محمد بن علی بن محمد علاالدین حصنی دمشقی المعروف حصفکی اپنی کتاب الدر المختار شرح تنویر الابصار میں لکھتے ہیں: فيها حيض يمنع صلاة و صوما و تقضيه و دخول مسجد و الطواف و قربان ما تحت اِزار و قرأة قرآن و مسه الا بغلافه و کذا ولا بأس بقرأة أدعية و مسها و حملها و ذکر الله تعالٰی، و تسبيح و أکل و شرب بعد مضمضة ، و غسل يد ولا يکره مس قرآن بکم و يحل و طؤها اِذا انقطع حيضها لأکثره. مدت حیض میں دونوں خونوں کے درمیان جو پاکی واقع ہو وہ حیض ہی ہے، جو نماز و روزہ کے مانع ہے۔ البتہ روزوں کی قضاء کی جائےگی۔ مسجد میں داخل ہونے، طواف کعبہ اور قربت، تلاوتِ قرآن اور بغیر غلاف قرآن چھونے کے مانع ہے۔ دعائیں پڑھنے، اُنہیں چھونے اور ان کو اٹھانے، اللہ کا ذکر کرنے، تسبیح پڑھنے، کلی کرنے، ہاتھ دھونے کے بعد کھانے پینے سے ممانعت نہیں۔ آستین کے ساتھ قرآن چھونا منع نہیں۔ عورت کے حیض کی زیادہ مدت گذرنے پر اس کی قربت خون بند ہونے کے بعد مکروہ نہیں۔ حصفکي، الدرالمختار، 1: 290تا 294، دار الفکر، بيروت خاتمۃ المحققین محمد امین عابدین بن عمر عابدین المعروف علامہ شامی کا مؤقف ہے: أی و لو دون آية من المرکبات لا المفردات ، لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه کلمة کلمة کما قدمناه ، کالقرآن التورة و الانجيل و الزبور کما قدمه المصنف فاو قرأت الفاتحة علی وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التی فيها الدعاء و لم ترد القرأة لابأ س به کما قدمنا عن العيون لأبی الليث و أن مفهومه أن ماليس فيه معنی الدعاء کسورة أبی لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية أي القرآن و لو في لوح أو درهم أو حائط ، لکن لا يمنع اِلا من مس المکتوب ، بخلاف المصحف فلا يجوز مس الجلد و موضع البياض منه۔و قال بعضهم:يجوز، و هذا أقرب اِلی القياس ، و المنع أقرب اِلی التعظيم کما في البحر:أي و الصحيح المنع کما نذکره ، ومثل القرآن سائر الکتب السماوية کما قدمناه عن القهستاني و غيره و في التفسير و الکتب الشرعية خلاف مر أي کالجراب و الخريطة دون المتصل کالجلد المشرز هو الصحيح ، و عليه الفتوی. حیض و نفاس والی اور جُنبی کو قرآن پڑھنے سے منع کیا جائے گا، اگرچہ آیت سے کم ہو۔ مفردات (ہجے) پڑھنے سے منع نہیں کیا جائے گا، اس لیے حیض (و نفاس) والی استانی کے لیے ایک ایک لفظ کر کے تعلیم دینے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔ قرآن، تورات، انجیل، زبور (کے پڑھنے) سے (بھی منع کیا جائے گا) جیسے مصنف نے ذکر کیا ہے۔ سو اگر کسی نے سورہ فاتحہ بطور دعا پڑھی یا قرآن کی دیگر آیاتِ دعائیہ (پڑھیں) اور ارادہ قرات کا نہ تھا تو اس میں حرج نہیں، جیسا کہ ابو اللیث سمر قندی کی کتاب العیون کے حوالہ سے ہم نے بیان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آیت میں دعاء کے معنٰی نہ پائے جائیں اُس میں غیر قرآن کا ارادہ و قصد مؤثر نہیں مثلاً سورہ لہب، (اس کو نہیں پڑھا جائےگا) اگرچہ تختی، درہم (سکہ) یا دیوار پر ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں ممانعت صرف تحریر کو ہاتھ لگانے سے ہے۔ مصحف ، اس کی جلد اور سفید خالی جگہ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ بعض (علماء) نے کہا ہے کہ خالی جگہ کو ہاتھ لگانا جائز ہے، یہ (جواز اگرچہ) قیاس و عقل کے قریب ہے مگر (خالی جگہ کو بھی ہاتھ لگانے کی) ممانعت تعظیم کے قریب تر ہے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہاتھ لگانے سے منع کیا جائے گا جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کریم کی طرح ہی باقی آسمانی کتابوں کا بھی حکم ہے جیسا ہم نے ’’قُہستانی‘‘ وغیرہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ کتب تفسیر و کتب شرع کو چھونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ غلاف، تھیلہ اور ٹاکی جو مصحف سے متصل نہیں مثلاً اکھڑی ہوئی جلد، اس کا حکم یہی ہے جو مذکور ہوا اور اسی پر فتویٰ ہے۔ ابن عابدين شامي، ردالحتار، 1: 293، دار الفکر للطباعة والنشر، بيروت امام احمدرضاخان بریلوی قدس سرّہ کے خلیفہ وتلمیذِ خاص علامہ امجدعلی اعظمی مرحوم اپنی شہرہ آفاق کتاب میں لکھتے ہیں: معلمہ کو حیض یا نفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ علامه محمد امجد علی اعظمی حنفی قادری، بهار شريعت، 2: ۷3، شيخ غلام علي سنز، لاهور خلاصہ: مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا حائضہ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کر سکتی۔ اگر معلمہ ہو تو ہجے (spelling) کروا سکتی ہے۔ مثلاً عَلَّمَ الْقُرْاٰن دو الفاظ ہیں، عَلَّمَ کو الگ ادا کرے گی اور الْقُرْاٰن کو الگ۔ ملاکر نہیں پڑھ سکتی۔ لڑکیوں کو حفظ کروانے کی ضرورت نہیں ہے اس کی بجائے ان کے لیے ترجمہ تفسیر اور دیگر دینی معاملات کی تعلیم ضروری ہے جو ان کی عملی زندگی میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔ حائضہ کلاس میں بیٹھ کر لیکچر لے سکتی ہے، کیونکہ سننے اور الفاظ کو تصور میں لانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ آج کل بورڈز (Boards) اور جامعات (Universities) کی مقرر کردہ تاریخ (Sheet Date) کے مطابق امتحانات دینے والی لڑکیاں اسلامیات اور دیگر ایسے مضامین کے پیپر دے سکتی ہیں، جن میں قرآنی آیات لکھنی ہوتی ہیں۔ حائضہ عورت ایسے کپڑے یا کسی اور چیز سے قرآن پاک کو چھو سکتی ہے جو اس سے متصل نہ ہو۔ لہٰذا پیپرز میں آیات لکھتے وقت قلم درمیان میں حائل ہوتا ہے۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب _________((🍅))_________ 🌱طالب دعا🌱 🌴✍🏻مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری🌴 🥏+201206769548 🌹اسلامی سوالات و جوابات گروپ🌹 ا_________((🍅))_________


*💜علمات اور طالبات کے لیےایّام مخصوصہ کے دوران قرآنِ پاک پڑھنے کا کیا حکم ہے💜*

السلام عليكم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ میں کے
خواتین ایّام مخصوصہ (menses) کے دوران زبانی قرآن پاک پڑھ سکتی ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو معلمہ اور حفظ کرنے والی لڑکیاں ان ایام میں کیا کریں؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کالج اور یونیورسٹی میں لیکچر سن سکتی ہیں یا نہیں؟ اور مقررہ شدہ تاریخوں کے مطابق پیپرز دئیے جائیں یا چھوڑ دیں برائے مہربانی بحوالہ جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی سائلہ فاطمہ نوری
ا_________((🍅))_________
وعليكم السلام و رحمتہ اللہ و برکاتہ
الجواب بعون المک الوهاب
حائضہ عورت کے لیے قرآن مجید کو براہ راست چھونا ، زبانی یا دیکھ کر پڑھنا حرام ہے، اس سے متعلق اٹھنے والے چند اہم سولات کے جوابات درج ذیل ہیں:

حدیث پاک میں ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ قَالَ لَا تَقْرَاَ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن پاک سے کچھ نہ پڑھیں۔

ترمذي، السنن، 1: 236، رقم: 131، دار احیاء التراث العربي، بیروت

امام الفقہ علامہ محمد بن علی بن محمد علاالدین حصنی دمشقی المعروف حصفکی اپنی کتاب الدر المختار شرح تنویر الابصار میں لکھتے ہیں:

فيها حيض يمنع صلاة و صوما و تقضيه و دخول مسجد و الطواف و قربان ما تحت اِزار و قرأة قرآن و مسه الا بغلافه و کذا ولا بأس بقرأة أدعية و مسها و حملها و ذکر الله تعالٰی، و تسبيح و أکل و شرب بعد مضمضة ، و غسل يد ولا يکره مس قرآن بکم و يحل و طؤها اِذا انقطع حيضها لأکثره.

مدت حیض میں دونوں خونوں کے درمیان جو پاکی واقع ہو وہ حیض ہی ہے، جو نماز و روزہ کے مانع ہے۔ البتہ روزوں کی قضاء کی جائےگی۔ مسجد میں داخل ہونے، طواف کعبہ اور قربت، تلاوتِ قرآن اور بغیر غلاف قرآن چھونے کے مانع ہے۔ دعائیں پڑھنے، اُنہیں چھونے اور ان کو اٹھانے، اللہ کا ذکر کرنے، تسبیح پڑھنے، کلی کرنے، ہاتھ دھونے کے بعد کھانے پینے سے ممانعت نہیں۔ آستین کے ساتھ قرآن چھونا منع نہیں۔ عورت کے حیض کی زیادہ مدت گذرنے پر اس کی قربت خون بند ہونے کے بعد مکروہ نہیں۔

حصفکي، الدرالمختار، 1: 290تا 294، دار الفکر، بيروت

خاتمۃ المحققین محمد امین عابدین بن عمر عابدین المعروف علامہ شامی کا مؤقف ہے:

أی و لو دون آية من المرکبات لا المفردات ، لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه کلمة کلمة کما قدمناه ، کالقرآن التورة و الانجيل و الزبور کما قدمه المصنف فاو قرأت الفاتحة علی وجه الدعاء أو شيئا من الآيات التی فيها الدعاء و لم ترد القرأة لابأ س به کما قدمنا عن العيون لأبی الليث و أن مفهومه أن ماليس فيه معنی الدعاء کسورة أبی لهب لا يؤثر فيه قصد غير القرآنية أي القرآن و لو في لوح أو درهم أو حائط ، لکن لا يمنع اِلا من مس المکتوب ، بخلاف المصحف فلا يجوز مس الجلد و موضع البياض منه۔و قال بعضهم:يجوز، و هذا أقرب اِلی القياس ، و المنع أقرب اِلی التعظيم کما في البحر:أي و الصحيح المنع کما نذکره ، ومثل القرآن سائر الکتب السماوية کما قدمناه عن القهستاني و غيره و في التفسير و الکتب الشرعية خلاف مر أي کالجراب و الخريطة دون المتصل کالجلد المشرز هو الصحيح ، و عليه الفتوی.

حیض و نفاس والی اور جُنبی کو قرآن پڑھنے سے منع کیا جائے گا، اگرچہ آیت سے کم ہو۔ مفردات (ہجے) پڑھنے سے منع نہیں کیا جائے گا، اس لیے حیض (و نفاس) والی استانی کے لیے ایک ایک لفظ کر کے تعلیم دینے کو جائز قرار دیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے۔ قرآن، تورات، انجیل، زبور (کے پڑھنے) سے (بھی منع کیا جائے گا) جیسے مصنف نے ذکر کیا ہے۔ سو اگر کسی نے سورہ فاتحہ بطور دعا پڑھی یا قرآن کی دیگر آیاتِ دعائیہ (پڑھیں) اور ارادہ قرات کا نہ تھا تو اس میں حرج نہیں، جیسا کہ ابو اللیث سمر قندی کی کتاب العیون کے حوالہ سے ہم نے بیان کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آیت میں دعاء کے معنٰی نہ پائے جائیں اُس میں غیر قرآن کا ارادہ و قصد مؤثر نہیں مثلاً سورہ لہب، (اس کو نہیں پڑھا جائےگا) اگرچہ تختی، درہم (سکہ) یا دیوار پر ہی کیوں نہ ہو۔ ہاں ممانعت صرف تحریر کو ہاتھ لگانے سے ہے۔ مصحف ، اس کی جلد اور سفید خالی جگہ کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ہے۔ بعض (علماء) نے کہا ہے کہ خالی جگہ کو ہاتھ لگانا جائز ہے، یہ (جواز اگرچہ) قیاس و عقل کے قریب ہے مگر (خالی جگہ کو بھی ہاتھ لگانے کی) ممانعت تعظیم کے قریب تر ہے جیسا کہ بحرالرائق میں ہے۔ صحیح یہ ہے کہ ہاتھ لگانے سے منع کیا جائے گا جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ قرآن کریم کی طرح ہی باقی آسمانی کتابوں کا بھی حکم ہے جیسا ہم نے ’’قُہستانی‘‘ وغیرہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ کتب تفسیر و کتب شرع کو چھونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ غلاف، تھیلہ اور ٹاکی جو مصحف سے متصل نہیں مثلاً اکھڑی ہوئی جلد، اس کا حکم یہی ہے جو مذکور ہوا اور اسی پر فتویٰ ہے۔

ابن عابدين شامي، ردالحتار، 1: 293، دار الفکر للطباعة والنشر، بيروت

امام احمدرضاخان بریلوی قدس سرّہ کے خلیفہ وتلمیذِ خاص علامہ امجدعلی اعظمی مرحوم اپنی شہرہ آفاق کتاب میں لکھتے ہیں:

معلمہ کو حیض یا نفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔

علامه محمد امجد علی اعظمی حنفی قادری، بهار شريعت، 2: ۷3، شيخ غلام علي سنز، لاهور

خلاصہ:
مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا حائضہ قرآن پاک کی تلاوت نہیں کر سکتی۔ اگر معلمہ ہو تو ہجے (spelling) کروا سکتی ہے۔ مثلاً عَلَّمَ الْقُرْاٰن دو الفاظ ہیں، عَلَّمَ کو الگ ادا کرے گی اور الْقُرْاٰن کو الگ۔ ملاکر نہیں پڑھ سکتی۔
لڑکیوں کو حفظ کروانے کی ضرورت نہیں ہے اس کی بجائے ان کے لیے ترجمہ تفسیر اور دیگر دینی معاملات کی تعلیم ضروری ہے جو ان کی عملی زندگی میں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
حائضہ کلاس میں بیٹھ کر لیکچر لے سکتی ہے، کیونکہ سننے اور الفاظ کو تصور میں لانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
آج کل بورڈز (Boards) اور جامعات (Universities) کی مقرر کردہ تاریخ (Sheet Date) کے مطابق امتحانات دینے والی لڑکیاں اسلامیات اور دیگر ایسے مضامین کے پیپر دے سکتی ہیں، جن میں قرآنی آیات لکھنی ہوتی ہیں۔ حائضہ عورت ایسے کپڑے یا کسی اور چیز سے قرآن پاک کو چھو سکتی ہے جو اس سے متصل نہ ہو۔ لہٰذا پیپرز میں آیات لکھتے وقت قلم درمیان میں حائل ہوتا ہے۔
واللہ و رسولہ اعلم بالصواب
_________((🍅))_________
🌱طالب دعا🌱
🌴✍🏻مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری🌴
🥏+201206769548
🌹اسلامی سوالات و جوابات گروپ🌹
ا_________((🍅))_________

Wednesday, 22 May 2019

*💙اعتکاف کے مسائل (برائے خواتین)💙* ا_________((🍅))_________ مسئلہ(1) عورت کومسجد میں اعتکاف مکروہ ہے، بلکہ وہ گھر میں ہی اعتکاف کرے مگر اس جگہ کرے جو اُس نے نماز پڑھنے کے لیے مقرر کر رکھی ہے جسے مسجدِ بیت کہتے ہیں اور عورت کے لیے یہ مستحب بھی ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لیے کوئی جگہ مقرر کر لے اور چاہیے کہ اس جگہ کو پاک صاف رکھے اور بہتر یہ کہ اس جگہ کو چبوترہ وغیرہ کی طرح بلند کرلے۔ بلکہ مرد کو بھی چاہیے کہ نوافل کے لیے گھر میں کوئی جگہ مقرر کر لے کہ نفل نماز گھر میں پڑھنا افضل ہے۔ (طالب دعا معین الدین الأزهري) (📗""الدرالمختار"" و ""ردالمحتار""، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۴) مسئلہ(2) اگرعورت نے نماز کے لیے کوئی جگہ مقرر نہیں کر رکھی ہے تو گھر میں اعتکاف نہیں کر سکتی، البتہ اگر اس وقت یعنی جب کہ اعتکاف کا ارادہ کیا کسی جگہ کو نماز کے لیے خاص کر لیا تو اس جگہ اعتکاف کر سکتی ہے۔ (طالب دعا معین الدین الأزهري) (📗""الدرالمختار"" و ""ردالمحتار""، کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج۳، ص۴۹۴) مسئلہ(3) عورت نے اعتکاف کی منت مانی تو شوہر منت پوری کرنے سے روک سکتا ہے اور اب بائن ہونے یا موتِ شوہر کے بعد منت پوری کرے۔ یوہیں لونڈی غلام کو ان کا مالک منع کر سکتا ہے، یہ آزاد ہونے کے بعد پوری کریں۔ (طالب دعا معین الدین الأزهري) (📗""الفتاوی الھندیۃ""، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱) مسئلہ (4) شوہر نے عورت کو اعتکاف کی اجازت دے دی اب روکنا چاہے تو نہیں روک سکتا اور مولیٰ نے باندی غلام کو اجازت دیدی جب بھی روک سکتا ہے اگرچہ اب روکے گا تو گنہگار ہوگا۔ (طالب دعا معین الدین الأزهري) (📗""الفتاوی الھندیۃ""، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱) مسئلہ (5) شوہر نے ایک مہینے کے اعتکاف کی اجازت دی اور عورت لگاتار پورے مہینے کا اعتکاف کرنا چاہتی ہے تو شوہر کو اختیار ہے کہ یہ حکم دے کہ تھوڑے تھوڑے کر کے ایک مہینہ پورا کر لے اور اگر کسی خاص مہینے کی اجازت دی ہے تو اب اختیار نہ رہا۔ (طالب دعا معین الدین الأزهري) (📗""الفتاوی الھندیۃ""، کتاب الصوم، الباب السابع في الاعتکاف، ج۱، ص۲۱۱) _________((🍅))_________ 🌱طالب دعا🌱 🌴✍🏻مــعــیــن الــدیـــن الأزھــری🌴 🥏+201206769548 ا_________((🍅))_________


Monday, 13 August 2018

*🖤نماز میں رکوع کرنا بھول جائے تو کیا حکم ہے🖤*

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
 *کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
 *کہ اگر نماز میں رکوع رہ جائے تو اس کو کیسے ادا کریں کیونکہ رکوع تو فرض ہے، سجدہ جائے تو وہ تو اگلی رکعت یا جہاں یاد آئے تو وہاں کر کے سجدہ سہو کریں تو نماز ہوجائیگی لیکن رکوع رہ جائے تو کیا طریقہ ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*

 *💚سائل رفیق احمد💚*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

 *🔹وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🔹*

 *✍الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں کسی رکعت کے دو سجدوں میں سے اگر ایک سجدہ رہ جائے تو جس وقت یاد آئے کرلے اور سجدہ سہو کرے۔ اور اس چھوٹے ہوئے سجدے کو آخر میں بھی کرسکتا ہے پھر سجد سہو کرکے اپنی نماز مکمل کرے۔ اور اگر کسی رکعت کا رکوع رہ گیا پھر جب اس کو یاد آیا تو اسی وقت رکوع کرے اور اس صورت میں جس رکعت میں اس نے رکوع چھوڑا تھا اس کےبعد ياد آنے تک جتنی نماز ادا کی اس کو دوبارہ ادا کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اسکی نماز مکمل ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چار رکعت والی نماز میں اول رکعت کا رکوع ترک کیا یعنی قیام سے سجدے میں چلا گیا اور دو سجدے بھی کرلئے جب کھڑا ہوا تب یاد آیا تو اب پہلے رکوع کرے پھر اس نے جو دو سجدے کیئے تھے وہ باطل ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ لوٹائے اور دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اس کی نماز مکمل، یعنی چھوٹے ہوئے رکوع کے بعد سے لے کر یاد آنے پر رکوع کرنے تک جتنی نماز پڑھی اس کو دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے جبکہ سجدے کے ترک میں ایسا نہیں ہے۔*

 *📚فتاوى شامی، کتاب الصلاۃ، فرائض الصلاۃ، ج ۱، ص۴۴۹ ـ دار الفکر بیروت۔*
 *📚فتاوى رضویہ، ج۶، ص ۱۷۶ ـ رضا فاؤنڈیشن لاہور*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

 *✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ دہلی ـ*
*📞_____رابطہ 6203980319*

*💎آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ💎*

 *🖥المــرتب محــمد امتیـــازالقـــادری*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵

📍گــانــا بجانا بنـد کرو، تــم مسلمان ہـــو📍

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری)
📃اللہ تعالٰی کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے ہمیں سب سے بہترین امت میں پیدا فرمایا اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کو ہمارے بیچ بھیجا تاکہ ہم اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آ جائیں، نفرت کا گھر گرا کر محبت کا محل بنائیں، برائیوں کو چھوڑ کر اچھائیوں کو گلے لگائیں اور ہماری کسی سے دوستی یا دشمنی صرف اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہو-

📜ہمارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم جب اس دنیا میں تشریف لائے تو ہر طرف برائی، ظلم اور دہشت کا اندھیرا چھایا ہوا تھا، لوگوں کے عقائد، نظریات اور اعمال کا بہت برا حال تھا اور انھیں سیدھے راستے پر لانا، برائی اور اچھائی کی پہچان سیکھانا، زندگی کا اصل مقصد بتانا کوئی آسان کام نہ تھا لیکن بہت ہی قلیل وقت میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم نے تمام لوگوں کو ایک اسلام کی رسی تھمائی اور ایسی مثال قائم فرمائی کہ اس کی نظیر دکھانا تو دور کی بات کوئی الفاظ کے ذریعے اس کی تعریف بیان بھی نہیں کر سکتا-

📩حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ وسلم کا مبارک زمانہ بہت اچھا اور خیر والا تھا، اس کے بعد صحابہ کرام کا زمانہ بھی ایسا ہی رہا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، حضور علیہ السلام کے زمانے سے دور ہوتا گیا، جہالت بڑھنے لگی اور کئی فتنوں نے سر اٹھانا شروع کیا حتی کہ موجودہ دور ہماری نظروں کے سامنے ہے جس میں ہم ہر دن نئے نئے فتنوں کو دیکھ رہے ہیں-

📌دیگر کئی فتنوں کی طرح ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بے شمار چیزیں ایسی آ گئی ہیں جو غیروں کی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ایسی چیزوں کو پسند بھی کر رہے ہیں-

📍یہودیوں، نصرانیوں، ہندؤں اور انگریزوں کے بیچ رہ کر مسلمانوں پر ان کا کافی اثر ہوا ہے؛ جی ہاں! جب سے مسلمانوں نے ان کی صحبت اختیار کی ہے تب سے ہمارے چال چلن میں کثیر تبدیلیاں ہوئی ہیں- کھانے کا طریقہ، سونے کا طریقہ، قضائے حاجت کا طریقہ، شادیوں کا طریقہ، ہمارے لباس، گھر، کھانے، یہاں تک کہ چہرے کی سجاوٹ بھی غیروں کی طرز پر ہے-
(اللہ تعالٰی رحم فرمائے)

📄ابھی مسلم نوجوانوں پر ایک بلا گانے بجانے کی صورت میں منڈرا رہی ہے؛ ہمارے نوجوانوں نے گانے بجانے کو اس قدر اپنے بیچ شامل کر رکھا ہے کہ جیسے مانو اپنا ساتھی بنا لیا ہو لیکن انھیں یہ نہیں پتہ کہ یہ ساتھی انھیں کہاں لے جا کر چھوڑے گا! بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بہت سے لوگ اب گانے بجانے کو برا ہی نہیں سمجھتے! شادی ہو یا ولیمہ، عقیقہ ہو یا مہندی کی رسم، ختنہ ہو یا اور کوئی محفل، گانے بجانے کے بنا تو مکمل ہی نہیں ہوتی اور اگر کوئی اسے چھوڑ دے تو جہلا کی طرف سے عجیب عجیب طعنے دیے جاتے ہیں جسے ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں لہذا بتانے کی ضرورت نہیں-

💌ہم اس نیت سے کہ ہمارے مسلمان بھائیوں کی اصلاح ہو جائے اور ان کے دل میں ہماری بات اتر جائے، گانے بجانے کے نقصانات بیان کر رہے ہیں لہذا گزارش ہے کہ قرآن و سنت کے فرامین ملاحظہ فرمائیں اور اللہ تعالٰی سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس گناہ سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے- (آمین)

📿اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے📿

🏷اے ایمان والو! اسلام میں پورے داخل ہو (جاؤ) اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے-
(📗سورۃ البقرہ، 208)

📃دیکھیے! قرآن میں اللہ تعالیٰ نے بالکل واضح طور پر فرمایا کہ شیطان کے قدموں پر نہ چلو کیونکہ بے شک وہ تمھارا کھلا دشمن ہے اور گانا بجانا شیطان کا طریقہ ہے جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان نے سب سے پہلے نوحہ کیا اور گانا گایا-

(گانے بجانے کی ہولناکیاں بحوالہ📚 تفسیرات احمدیہ، صفحہ نمبر601)
(📗ماہنامہ فیضان مدینہ اپریل 2018 بحوالہ فردوس الاخبار، جلد1، صفحہ نمبر34، حدیث نمبر42)
(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری )

✉ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضرت داؤد علیہ السلام اپنی سریلی آواز میں حمد پڑھتے تھے تو پہاڑ وجد میں آ جاتے، پرندے اڑتے اڑتے گر پڑتے، جانور جنگلوں سے نکل آتے، پیڑ جھومنے لگتے، بہتا پانی رک جاتا، جنگلی جانور ایک ایک مہینے تک کھانا پینا چھوڑ دیتے اور چھوٹے بچے دودھ مانگنا اور رونا چھوڑ دیتے- جب شیطان نے یہ سب دیکھا تو بہت پریشان ہوا اور بانسری اور طنبورہ بنایا اور خوب گایا بجایا؛ اس سے ہوا یہ کہ لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو گئے، جو اچھے لوگ تھے وہ حضرت داؤد علیہ السلام کے شیدائی ہوئے اور جو برے لوگ تھے وہ شیطان کے ساتھ گانے بجانے لگے-

(گانے بجانے کی ہولناکیاں بحوالہ کشف المحجوب مترجم، صفحہ نمبر740 اور 741)
(📗ماہنامہ فیضان مدینہ، اپریل 2018)
(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری)
🏷غور کیجیے! گانا بجانا کس کا کام ہے اور خود سے فیصلہ کیجیے کہ کیا ہمیں مسلمان ہو کر ایسے کام کرنے چاہییں؟ کیا ہمیں شیطان کے قدموں پر چلنا چاہیے؟ ایک مسلمان کا جواب ہر بار یہی ہونا چاہیے کہ نہیں، ہرگز نہیں!

🖤گانا سننے سے انسان کے دل میں نفاق بھی پیدا ہوتا ہے چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ کھیل اور گانے کی آواز دل میں نفاق پیدا کر دیتی ہے جس طرح پانی گھاس اگا دیتا ہے-

(📚 فتاوی اتراکھنڈ، صفحہ نمبر302 بحوالہ در مختار، جلد5، صفحہ نمبر352)
(📚 فتاوی رضویہ شریف، جلد24، صفحہ نمبر84)

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری )

❣امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ گانے باجے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیوں کہ یہ حیا کو کم کرتے ہیں، شہوت کو ابھارتے اور غیرت کو برباد کرتے ہیں اور یہ شراب کے برابر ہے، اس میں نشے کی سی تاثیر ہے-

(📗ماہنامہ فیضان مدینہ، اپریل2018 بحوالہ تفسیر در منثور، جلد6، صفحہ نمبر506)

💔گانے بجانے کے دنیوی نقصانات تو اپنی جگہ ہیں ہی لیکن آخرت میں بھی اس گناہ پر شدید عذاب ہوگا، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو گانے والی کے پاس بیٹھے اور کان لگا کر دھیان سے سنے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کانوں میں سیسہ (پگھلا کے) انڈیلےگا- اللہ اکبر

(ماہنامہ فیضان مدینہ، اپریل2018 بحوالہ تاریخ مدینہ دمشق، جلد51، صفحہ نمبر263)

🚫گانے بجانے کے اور بہت سارے نقصانات ہیں جن میں سے چند ہم نے بیان کیے اور اہل عقل کے لیے اتنے ہی کافی ہیں اور خلاصہ یہی ہے کہ گانا بجانا حرام اور جہنم میں لے جانے والا عمل ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے-

🏷ایک اور ضروری بات ہم عرض کرنا چاہتے ہیں کہ آج کل جو گانے سنے جاتے ہیں وہ آپ کے ایمان کو بھی برباد کر سکتے ہیں! مسلمانوں کے لیے غور کا مقام ہے! کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ گانے تمھیں کافر بنا دیں- (معاذاللہ)

🔖اکثر فلمی گانوں میں ایسے اشعار ہوتے ہیں جنھیں گنگنانے یا پڑھنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے، سارے نیک اعمال برباد ہو جاتے ہیں، بیوی سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور ہمیشہ کے لیے جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے! اگر بنا توبہ کیے مر جائے تو کافر کی موت مرتا ہے- (معاذاللہ)

📑ذیل میں کچھ گانوں کے اشعار ہیں جسے سننے میں نوجوانوں کو بڑا مزا آتا ہے اور کب ان کا ایمان برباد ہو جاتا ہے انھیں بھی پتہ نہیں چلتا، غور سے ملاحظہ کیجیے:

💌یہ خیال رہے کہ اگر لوگوں کی اصلاح کرنا مقصد نہ ہوتا تو کبھی ہم ان گندے گانوں کو بیان نہیں کرتے لیکن چونکہ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کو حقیقت پتہ چلے، اس لیے ہم یہاں کچھ گانوں کے کفریہ اشعار کی نشاندہی کر رہے ہیں-

(1) حسینوں کو آتے ہیں کیا کیا بہانے،
خدا بھی نہ جانے تو ہم کیسے جانیں؟
(معاذاللہ)

اللہ کی پناہ! اللہ کی پناہ! اس شعر میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہا گیا کہ خدا بھی حسینوں کے بہانے نہیں جانتا! (استغفراللہ)، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے-
ایسے گانے، گانے والا کافر ہو جاتا ہے، اس کی بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے اور اس نے جتنے بھی نیک اعمال کیے سب برباد! اگر بنا توبہ کے مرا تو کافر ہو کر مرا!
مسلمان نوجوانوں! کیا تمھاری غیرت بالکل مر گئی ہے؟ شرم نام کی چیز باقی نہ رہی؟ جلد سے جلد توبہ کرو اور گانوں کو مٹا دو تاکہ اللہ تعالٰی کی رحمت کا دریا تمھاری طرف بڑھے-

(2) جتنی پیاری آنکھیں ہیں، آنکھوں سے چھلکتا پیار،
قدرت نے بنایا ہوگا فرصت سے تجھے میرے یار
(معاذاللہ)

کیا یہ اللہ تعالٰی کی شان کے لائق ہے کہ کسی کو فرصت سے بنائے؟ مسلمانوں اب بس کرو!

(3) پھولوں سا چہرہ تیرا، کلیوں سی مسکان ہے،
رنگ تیرا دیکھ کر، روپ تیرا دیکھ کے قدرت بھی حیران ہے
(معاذاللہ)

اس شعر میں کہا گیا کہ تجھے دیکھ کر قدرت بھی حیران ہے!
اللہ تعالٰی ہمیں معاف فرمائے اور ایسے گندے اشعار سننے سے بچائے-

(4) خدا بھی آسمان سے جب زمیں پر دیکھتا ہوگا،
میرے محبوب کو کس نے بنایا سوچتا ہوگا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں گستاخی کی انتہا ہو گئی، کیا کوئی اور رب ہے جس نے اس کے محبوب کو بنایا؟ کیا اللہ تعالٰی بھی سوچتا ہے؟
لوگوں! آنکھیں کھولو اور اب گانے بجانے سے توبہ کرو-

(5) رب نے مجھ پر ستم کیا ہے،
سارے زمانے کا غم مجھے دیا ہے!
(معاذاللہ)

یہ کہنا کہ رب نے مجھ پر ستم کیا ہے، اللہ تعالیٰ کو ظالم کہنا ہے جو صریح کفر ہے-

(6) میری نگاہ میں کیا بن کے آپ رہتے ہیں،
قسم خدا کی! خدا بن کے آپ رہتے ہیں
(معاذاللہ)

اس شعر میں مخلوق کو خدا کہا گیا جو کہ کفر ہے-

(7) اب آگے جو ہو انجام دیکھا جائے گا،
خدا تراش لیا اور بندگی بھی کر لی!
(معاذاللہ)

اس میں دو کفر ہیں، ایک یہ کہ خدا تراش لیا اور بندگی بھی کر لی! میرے دوستوں اور بھائیوں! کیا اب بھی آپ ان بے ہودہ گانوں کو سنیں گے؟

(8) سیپ کا موتی ہے تو یا آسمان کی دھول ہے،
تو ہے قدرت کا کرشمہ یا خدا کی بھول ہے!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ کو بھولنے والا کہا گیا ہے اور مسلمان ایسے گانے سنتے ہیں!

(9) دل میں تجھے بٹھا کر، کر لوں گی بند آنکھیں،
پوجا کروں گی تیری، دل میں رہوں گی تیرے!
(معاذاللہ)

اس شعر میں محبوب کی پوجا کرنے کی بات کی گئی ہے جو کہ کفر ہے!

(10) ہائے! تجھے چاہیں گے،
اپنا خدا بنائیں گے!
(معاذاللہ)

اس میں بھی مخلوق کو خدا بنانے کی بات کی گئی ہے جو کہ کفر ہے!

(11) دل میں ہو تم، آنکھوں میں تم، بولو تمھیں کیسے چاہوں؟
پوجا کروں یا سجدہ کروں؟ جیسے کہو ویسے چاہوں!
(معاذاللہ)

اس میں بھی مخلوق کو پوجنے کی بات ہے جو کہ کفر ہے!
میرے نوجوان بھائیوں! جلد سے جلد توبہ کرو اور گانوں سے بچو-

(12) سزا رب جو دے گا وہ منظور ہم کو،
کہ اب ہم تمھاری عبادت کریں گے!
(معاذاللہ)

اس شعر کو پڑھنے والے غور کریں کہ کیا آپ عذاب الہی کو دعوت نہیں دے رہے ہیں؟

(13) یا رب تو نے دل توڑا میرا کس موسم میں؟
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(14) کیسے کیسوں کو دیا ہے، ایسے ویسوں کو دیا ہے،
اب تو چھپڑ پھاڑ مولا، اپنی جیبیں جھاڑ مولا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں بھی اللہ تعالٰی پر اعتراض کیا گیا ہے کہ تو نے کیسوں کیسوں کو دیا ہے اور جیبیں پھاڑنے کا لفظ اللہ تعالٰی کے لیے!!! (نعوذ باللہ من ذالک)

(15) بے چینیاں سمیٹ کر سارے جہاں کی،
جب کچھ نہ بن سکا تو میرا دل بنا دیا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں جو الفاظ ہیں "جب کچھ نہ بن سکا" اس سے اللہ تعالیٰ کو بے بس قرار دیا گیا ہے جو کہ کھلا کفر ہے- کیا لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ ایسے گانوں کو سنتے اور شادیوں میں بجاتے بھی ہیں!

(16) دنیا بنانے والے! دنیا میں آ کر دیکھ،
صدمے سہے جو میں نے تو بھی اٹھا کر دیکھ!
(معاذاللہ)

اس شعر میں بھی کفر ہے، یہ اللہ تعالٰی کی توہین ہے!

(17) دنیا بنانے والے! کیا تیرے من میں سمائی؟
کاہے کو دنیا بنائی؟
(استغفراللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے!

(18) اے خدا! ان حسینوں کی پتلی کمر کیوں بنائی؟
تیرے پاس مٹی کم تھی یا تو نے رشوت کھائی!
(معاذاللہ ثم معاذاللہ)

📌مسلمانوں! تمھارے سامنے اگر کوئی غیر مسلم اللہ تعالٰی کی شان میں گستاخی کرے تو تم مرنے مٹنے کے لیے تیار ہو جاتے ہو لیکن یہ کیا ہوا کہ آج تمھارے گھروں میں ایسے گانے بجائے جا رہے ہیں جس میں کھلے عام اللہ تعالٰی کی توہین کی جا رہی ہے اور ہم اسے سن رہے ہیں-
نوجوانوں! تمھارے موبائل فون پر اس طرح کے سیکڑوں گانے موجود ہیں جنھیں تم بڑی شوق سے سنتے ہو- اللہ کے واسطے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچو کہ تم کیا کر رہے ہو!

(19) اس حور کا کیا کریں جو ہزاروں سال پرانی ہے!
(معاذاللہ)

اس مصرعے میں جنتی حور کی توہین کی گئی ہے اور اللہ تعالٰی کی کسی نعمت کی توہین کفر ہے!

(20) تجھ کو دی صورت پری سی، دل نہیں تجھ کو دیا،
ملتا خدا تو پچھتا، یہ ظلم تو نے کیوں کیا؟
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ کو ظالم کہا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(21) او میرے ربا ربا! یہ کیا غضب کیا؟
جس کو بنانا تھا لڑکی اسے لڑکا بنا دیا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(22) کسی پتھر کی مورت سے محبت کا ارادہ ہے،
پرستش کی تمنا ہے عبادت کا ارادہ ہے!
(معاذاللہ)

🕹جو شخص کسی مخلوق کی عبادت کرنے کی تمنا ظاہر کرے وہ اسی وقت کافر ہو جاتا ہے- یہ کفریہ اشعار ہمارے لیے زہر سے زیادہ خطرناک ہیں- ان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کی بھی اصلاح کریں-

(23) مجھے بتا او جہاں کے مالک! یہ کیا نظارے دکھا رہا ہے؟
تیرے سمندر میں کیا کمی تھی کہ آج مجھ کو رلا رہا ہے!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ پر اعتراض کیا گیا ہے جو کہ کفر ہے-

(24) ان کی کیا تعریف کروں میں؟
فرصت سے ہے رب نے بنایا!
(معاذاللہ)

اس میں یہ الفاظ "فرصت سے ہے رب نے بنایا" کفریہ ہیں-

(25) اے خدا، بہتر ہے یہ کہ تو چھپا پردے میں ہے،
بیچ ڈالیں گے تجھے یہ لوگ اس چکر میں ہیں!
(معاذاللہ)

اس شعر میں اللہ تعالیٰ کے لیے بہت غلط الفاظ استعمال کیے گئے ہیں-

(26) اب یہ جان لے لے یا رب، دو جہان لے لے یا رب،
یا ایمان لے لے یا رب.... یا خدا..... فنا فنا یہ دل ہوا فنا
(معاذاللہ)

کیا کوئی مسلمان یہ چاہے گا کہ اس کا ایمان لے لیا جائے! اگر نہیں تو پھر ان گانوں کو ہم کیوں سن رہے ہیں؟

(27) جب سے تیرے نینا میرے نینوں سے لاگے رے،
رب بھی دیوانہ لاگے رے!
(معاذاللہ اللہ)

اللہ تعالٰی کو دیوانہ کہنا کفر ہے-

(28) محبت کی قسمت بنانے سے پہلے،
زمانے کے مالک تو رویا تو ہوگا!
(معاذاللہ)

اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ روئے اور جو ایسا کہتا ہے وہ کافر ہے-

(29) میں پیار کا پجاری، مجھے پیار چاہیے،
رب جیسا ہی سندر میرا یار چاہیے!
(معاذاللہ)

پیار کی پوجا کرنا کفر ہے اور اللہ تعالٰی کی طرح کسی اور کو کہنا بھی کفر ہے-
نوجوانوں! عشق مجازی سے توبہ کرو-

(30) اگر ملے خدا تو، تو پوچھوں گا خدایا،
جسم مجھے دے کے مٹی سا، شیشے سا دل کیوں بنایا!
(معاذاللہ)

اس شعر میں بھی اللہ تعالٰی پر اعتراض کیا گیا ہے کہ "کیوں بنایا" یہ کفر ہے اور جتنے بھی اشعار ہم نے بیان کیے، سب میں کچھ نہ کچھ کفر ہے-

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری)

🔖اس کے علاوہ لاکھوں اشعار ہیں جسے لوگ بڑے شوق سے سنتے ہیں اور جو ان کفریہ گانوں کو دلچسپی سے سنے یا پڑھے وہ کافر ہو گیا اور اس کے تمام نیک اعمال برباد ہو گئے، ساری نیکیاں ختم ہو گئیں، شادی شدہ تھا تو نکاح بھی گیا، مرید تھا تو بعیت بھی ختم اور اب اس پر فرض ہے کہ توبہ کرے اور نئے سرے سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو اور تجدید نکاح بھی کرے اور پھر مرید بنے-

(طالب دعا معین الدین الأزھــــــری )
📿خلیفہ حضور مفتی اعظم ہند، شارح بخاری، حضرت علامہ شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ اس طرح کے (صریح) کفریہ اور بے ہودہ اشعار کوئی گائے (پڑھے) تو وہ کافر ہے اگرچہ وہ یہ کہے کہ میرا یہ عقیدہ نہیں؛ کفر بکنے کے بعد یہ بہانا کام نہیں دے گا- اسی لیے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے کہ وہ علم دین حاصل کرے، کفر و اسلام کو پہچانے، ضروریات دین و اہل سنت کو سمجھے تاکہ ایسی غلطی نہ ہونے پائے-

(📚 ملتقطاً، فتاوی شارح بخاری، جلد1، صفحہ نمبر258-
و انظر: فتاوی مرکز تربیت افتاء)

جاگنا ہے جاگ لو افلاک کے سائے تلے،
حشر تک سوتے رہو گے خاک کے سائے تلے!

اللہ تعالٰی ہمیں تمام برائیوں سے بچائے اور دوسروں کو برائی سے روکنے اور نیکی کا حکم دینے کی توفیق عطا فرمائے-

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
   🤲🏻دُعـــــا             
     یا اَللہ پاک! ہمیں زیرِ گنبدِ خضرا جلوہء محبوب ﷺ میں شہادت,جَنَّتُ البقیع میں مدفن اور جنت الفردوس میں اپنے حبیب ﷺ کا پڑوس نصیب فرما٭یا اَللہ پاک! ہماری جائز دعائیں قبول فرما
              آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْﷺ
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹 🕹
 ✍🏻 طالب دعا- مـــعـــیـــن الــدیـــن الأزھــری
ڈائریکٹر حضور افضل العلماء فاؤنڈیشن نئ دہلی
📱 6203980319
🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹🕹
🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹🔸🔹


💜کن صورتوں میں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟💜


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ
جان جانے کے خدشہ کے علاوہ، کن صورتوں اور کتنی مدت تک کا حمل ضائع کروانا جائز ہے؟
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ. بشریٰ فاطمہ گجرات
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
اسقاطِ حمل کی مدت ایک سو بیس (120) دن ہے۔ حدیث پاک میں عملِ تخلیق کو بیان کرتے ہوئے رسول اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

ان احدکم يجمع فی بطن امه اربعين يوما ثم علقة مثل ذلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيومر باربع برزقه واجله وشقی او سعيد‘‘

’’ تم میں سے ہر ایک اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن گزارتا ہے (نطفہ) پھر اسی قدر علقہ۔ پھر اسی قدر مضغہ پھر اللہ فرشتہ بھیجتا ہے اور چار چیزوں کا حکم ہوتا ہے۔ رزق، عمر، نیک بخت یا بدبخت‘‘

📚بخاری، الصحيح، 2 : 976

فقہائے کرام فرماتے ہیں اگر حاملہ عورت چاہے تو ایک سو بیس (120) دن سے پہلے اسقاط حمل کر سکتی ہے۔

هل يباح الااسقاط بعد الحبل؟ يباح ما لم يتخلق شئی منه، ثم فی غير موضع ولا يکون ذلک الا بعد مائه وعشرين يوما انهم ارادوا بالتخليق نفخ الروح

 شامی، الدر المختار مع الرد المختار، 3: 176، طبع کراچی،ابن الهمام، فتح القدير، 3: 274

کیا حمل ٹھہرنے کے بعد ساقط کرنا جائز ہے؟ (ہاں) جب تک اس کی تخلیق نہ ہو جائے جائز ہے۔ پھر متعدد مقامات پر تصریح ہے کہ تخلیق کا عمل 120 دن یعنی چار ماہ کے بعد ہوتا ہے۔ تخلیق سے مراد روح پھونکنا ہے۔

رحم مادر میں استقرار حمل جب تک 120 دن یعنی چار ماہ کا نہ ہو جائے، حمل ضائع کرنا جائز ہے۔ جب بچہ بطن مادر میں چار ماہ کا ہو جائے تو، اب اسے ضائع کرناجائز نہیں بلکہ حرام ہے۔

اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے بچوں کی پیدائش سے بچہ یا زچہ کی صحت پر اور بچوں کی دیکھ بھال پر منفی اثرات پڑیں گے، تو اس صورت میں عورت کے لئے ضبط تولید کے مفید اصولوں کو اپنانا نہ صرف جائز بلکہ مناسب تر ہے۔ بچے کی پیدائش پر ماں کو جن تکالیف، کمزوریوں اور دشواریوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کا اندازہ صرف عورتیں ہی کرسکتی ہیں۔ ہر ماں گویا مر کر دوبارہ زندہ ہوتی ہے۔ پھر پیدا ہونے والے بچے کو دو سال تک دودھ پلانا ماں کی ذمہ داری اور بچے کا حق ہے۔ لہٰذا ایسے مسائل سے بچنے کے لیے اسقاطِ حمل جائز ہے۔

اس کی مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجئے:

خاندانی منصوبہ بندی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

واللہ ورسولہ اعلم بلصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقـــلــم :مــعــیــن الــدین الأزهـــري
📱6203980319
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
                                           
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
📠الـــــمـــــشــــتـــــهـــــر :   
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دهــــلـــــي 
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔