اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
سوال - وضاحت طلب یہ ہیکہ کسی نے شوہر کو دھمکی دی کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی تو ہم تمہیں قتل کر دینگے یا بہت مارینگے اور شوہر کو غالب وگمان ہوا کہ طلاق نہ دینے کی صورت میں ایسا ہی کرینگے تو اس نے طلاق کا لفظ زبان سے نہ کہا اور نہ دل میں ارادہ کیا مگر طلاق نامہ لکھ دیا ہوش و حواس کی حالت میں تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں
براے مہربانی تفصیلا جواب عنایت فرماے
اور عند اللہ ماجور ہو -
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
سائلہ غوثیہ امجدی
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
وعلیکم السلام و رحمت اللہ و برکاتہ
الجواب بعون الملک الوھاب
*صورت مستفسرہ میں اگر اکراہ شرعی پایا گیا یعنی اگر شوہر کو کسی عضو کے کاٹے جانے یا قتل کئے جانے یا پھر ضرب شدید کا صحیح اندیشہ ہو اور زبان سے اس نے طلاق نہ کہا ہو تو طلاق واقع نہیں ہوئی*
📚فتاوی قاضی خان مع ہندیہ جلد اول ص 441میں ہے،، رجل اکرہ بالضرب والحبس علی ان یکتب طلاق امراتہ فلانۃ بنت فلانۃ فلاں بن فلاں فکتب امراتہ فلانۃ بنت فلاں بن فلاں طالق لاتطلق امراتہ لان الکتابۃ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولا حاجۃ ھھنا وفی البزازیہ اکرہ علی طلاقھا فکتب فلانۃ بنت فلاں طالق لم یقع*
اور کنز الدقائق میں ہے یقع طلاق کل زوج عاقل بالغ ولو مکرہ*
*بحر الرائق میں ہے،، قولہ ولومکھا ای ولو کان الزوج مکرھاعلی انشاء الطلاق لفظاً*
واللہ اعلم بالصواب
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔
✍🏻ازقلم معين الدين الأزهري
📱+91 93370 25391
⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔⛔


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home