*🖤نماز میں رکوع کرنا بھول جائے تو کیا حکم ہے🖤*
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
*کہ اگر نماز میں رکوع رہ جائے تو اس کو کیسے ادا کریں کیونکہ رکوع تو فرض ہے، سجدہ جائے تو وہ تو اگلی رکعت یا جہاں یاد آئے تو وہاں کر کے سجدہ سہو کریں تو نماز ہوجائیگی لیکن رکوع رہ جائے تو کیا طریقہ ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*
*💚سائل رفیق احمد💚*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵
*🔹وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🔹*
*✍الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں کسی رکعت کے دو سجدوں میں سے اگر ایک سجدہ رہ جائے تو جس وقت یاد آئے کرلے اور سجدہ سہو کرے۔ اور اس چھوٹے ہوئے سجدے کو آخر میں بھی کرسکتا ہے پھر سجد سہو کرکے اپنی نماز مکمل کرے۔ اور اگر کسی رکعت کا رکوع رہ گیا پھر جب اس کو یاد آیا تو اسی وقت رکوع کرے اور اس صورت میں جس رکعت میں اس نے رکوع چھوڑا تھا اس کےبعد ياد آنے تک جتنی نماز ادا کی اس کو دوبارہ ادا کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اسکی نماز مکمل ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چار رکعت والی نماز میں اول رکعت کا رکوع ترک کیا یعنی قیام سے سجدے میں چلا گیا اور دو سجدے بھی کرلئے جب کھڑا ہوا تب یاد آیا تو اب پہلے رکوع کرے پھر اس نے جو دو سجدے کیئے تھے وہ باطل ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ لوٹائے اور دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اس کی نماز مکمل، یعنی چھوٹے ہوئے رکوع کے بعد سے لے کر یاد آنے پر رکوع کرنے تک جتنی نماز پڑھی اس کو دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے جبکہ سجدے کے ترک میں ایسا نہیں ہے۔*
*📚فتاوى شامی، کتاب الصلاۃ، فرائض الصلاۃ، ج ۱، ص۴۴۹ ـ دار الفکر بیروت۔*
*📚فتاوى رضویہ، ج۶، ص ۱۷۶ ـ رضا فاؤنڈیشن لاہور*
*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵
*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ دہلی ـ*
*📞_____رابطہ 6203980319*
*💎آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ💎*
*🖥المــرتب محــمد امتیـــازالقـــادری*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵
*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
*کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ*
*کہ اگر نماز میں رکوع رہ جائے تو اس کو کیسے ادا کریں کیونکہ رکوع تو فرض ہے، سجدہ جائے تو وہ تو اگلی رکعت یا جہاں یاد آئے تو وہاں کر کے سجدہ سہو کریں تو نماز ہوجائیگی لیکن رکوع رہ جائے تو کیا طریقہ ہے برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں*
*💚سائل رفیق احمد💚*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵
*🔹وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🔹*
*✍الجواب بعون الملك الوهاب
صورت مسئولہ میں کسی رکعت کے دو سجدوں میں سے اگر ایک سجدہ رہ جائے تو جس وقت یاد آئے کرلے اور سجدہ سہو کرے۔ اور اس چھوٹے ہوئے سجدے کو آخر میں بھی کرسکتا ہے پھر سجد سہو کرکے اپنی نماز مکمل کرے۔ اور اگر کسی رکعت کا رکوع رہ گیا پھر جب اس کو یاد آیا تو اسی وقت رکوع کرے اور اس صورت میں جس رکعت میں اس نے رکوع چھوڑا تھا اس کےبعد ياد آنے تک جتنی نماز ادا کی اس کو دوبارہ ادا کرے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اسکی نماز مکمل ہے۔ مثلاً ایک شخص نے چار رکعت والی نماز میں اول رکعت کا رکوع ترک کیا یعنی قیام سے سجدے میں چلا گیا اور دو سجدے بھی کرلئے جب کھڑا ہوا تب یاد آیا تو اب پہلے رکوع کرے پھر اس نے جو دو سجدے کیئے تھے وہ باطل ہو جائیں گے تو ان کو دوبارہ لوٹائے اور دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوجائے اور آخر میں سجدہ سہو کرے اس کی نماز مکمل، یعنی چھوٹے ہوئے رکوع کے بعد سے لے کر یاد آنے پر رکوع کرنے تک جتنی نماز پڑھی اس کو دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے جبکہ سجدے کے ترک میں ایسا نہیں ہے۔*
*📚فتاوى شامی، کتاب الصلاۃ، فرائض الصلاۃ، ج ۱، ص۴۴۹ ـ دار الفکر بیروت۔*
*📚فتاوى رضویہ، ج۶، ص ۱۷۶ ـ رضا فاؤنڈیشن لاہور*
*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵
*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ دہلی ـ*
*📞_____رابطہ 6203980319*
*💎آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ💎*
*🖥المــرتب محــمد امتیـــازالقـــادری*
⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵⛵


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home