*🍇دودھ پلانےوالی ماں کیلئےروزہ کاحکم*
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
ماں اگر روزہ رکھے گی تو بچی کی خوراک پوری نہ ہوگی اور بچی دوسرا کوئی دودھ نہیں پیتی تو کیا اب بھی اس پر روزہ رکھنا ضروری ہے؟برائے کرم جلد جواب عنایت فرمائیں
*🌸سائل ★ محمد سلمان رضا کلکتہ🌸*
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*🖤وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ🖤*
*✍الجواب بعون الملك الوهاب*
*صورت مسئولہ میں حضرت انس بن مالك رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں: « رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحُبْلَى الَّتِي تَخَافُ عَلَى نَفْسِهَا أَنْ تُفْطِرَ، وَلِلْمُرْضِعِ الَّتِي تَخَافُ عَلَى وَلَدِهَا». ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حاملہ عورت کو جسے روزہ رکھنے کی وجہ سے جان تلف ہونے کا خوف ہو اور ایسی دودھ پلانے والی عورت کو کہ جسے روزہ رکھنے کی صورت میں اپنے بچے کی جان کا خوف ہو ، روزہ چھوڑنے کی رخصت عطاء فرمائی ہے۔*
*[📗سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب ما جاء فی الافطار للحامل، حدیث(1668)، جلد 1، صفحہ 533، دار احیاء التراث العربیہ بیروت]۔*
*لہذا مذکورہ عورت پر روزہ رکھنا ضروری نہیں ہے۔ اور بعد میں چھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء لازم ہے۔ اگر بچی دوسرا دودھ بھی پیتی ہے تو اب روزہ رکھنا ضروری ہے۔*
*🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*📝کتبہ حضرت علامہ مولانا معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی نئی دہلی*
*📱+919337025391*
ـــــــــــــــــــ
*📝 المشتہــــــر محـــــمد امتیـــازالقـــــادری*
ـــــــــــــــــــ
*گروپ آپ کاسوال ہماراجواب6*


0 Comments:
Post a Comment
Subscribe to Post Comments [Atom]
<< Home