Monday, 13 August 2018


*🌹ڈاراموں اور فلموں میں نکاح اور طلاق کا حکم ــ 🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
كيا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
  ايك لڑکے نے غیر شادی شدہ لڑکی سے ڈرامے میں نکاح کیا اور ارادہ  محض ڈرامے  میں کردار ادا کرنے کا تھا حقیقی نکاح کا ارادہ نہیں تھا، اسی طرح اگر ایک شخص اپنی حقیقی بیوی کو محض ڈرامے کا کردار ادا کرنے کیلئے طلاق دیتا ہے تو کیا  نکاح اور طلاق ہوجائیگی؟

 *🌺سائل نسیم رضا حبیبی🌺*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

 *✍الجواب بعون الملک الوھاب*
 *📃صورت مسئولہ میں نکاح کے منعقد ہونے یا طلاق کے واقع ہونے کے عزم و قصد شرط نہیں ہے.. خواہ قصد و ارادہ کے ساتھ نکاح کرے، خواہ ہزل و مزاح کے ساتھ نکاح منعقد ہو جائے گا..*

 *🏷بشرط یہ کہ اس مجلس میں دو عادل و بالغ آزاد مسلمان مرد یا ایک مرد، دو عورتیں موجود ہوں...*

        *🍁بلکہ اگر قاضئی نکاح نے ایسے الفاظ کے ساتھ نکاح منعقد کیا جس کا معنی دولہا دولہن نہیں جانتے تھے جب بھی باختلاف علماء نکاح منعقد ہو جائے گا...*

 *التجنيس و المزيد میں ہے..*

 *🌹لو عقدا عقد النكاح بلفظ لا یفهمان كونه نکاحا هل؟ینعقد اختلاف المشائخ فیه قال بعضهم ینعقد لأن النکاح لا یشترط فیه القصد...*

   *تــرجمــــہ :*
 *🌸اگر عورت و مرد نے ایسے الفاظ سے نکاح منعقد کر لیا جس سے ان دونوں کو نکاح منعقد ہونے کا پتہ چل سکا.. تو کیا اس صورت میں نکاح منعقد ہو جائے گا؟ اس بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح میں قصد شرط نہیں ہے...*

      *جب انعقاد نکاح میں قصد شرط نہیں ہے تو ہزل (ہنسی مذاق ) میں بھی نکاح منعقد ہو جائے گا.. پس صورت مسئولہ میں فلم ڈرامے کے لیے ہوئے نکاح شرعاً منعقد ہو جاتے ہیں...*

  *اور جب نکاح صحیح ہو گیا تو جب تک تطلیق یا تفریق واقع نہ ہو جائے وہ منکوحہ دوسرا نکاح نہیں کر سکتی ہے..*

 *اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے :*

 *والمحصنات من النساء*

 *ترجمہ : اور حرام ہیں مسلمانوں کے لیے شوہر والی عورتیں...*

 *📚بحوالہ فتاوی یورپ ، صفحہ ٤٢٦*

 *🌹واللہ و رسولہ اعلم بالصواب🌹*
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*✍🏻کتبہ حضرت علامہ مفتی  معین الدین الأزھــــــری صاحب قبلہ مد ظلہ العالی والنورانی نئ دہلی*
*☎رابطہ 👈🏻📱 6203980319*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*المشتہر محمد امتیاز القادری*

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*آپ کا سوال ہمارا جواب گروپ

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home