Monday, 13 August 2018


*🌹اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہیں تو ہر ایک کے نام قربانی واجب ہوگی ــ🌹*

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ ایک شخص جس کا نام ابوبکر ہے وہ کہتا ہے کہ اگر باپ زندہ ہو تو فقط قربانی اسی کے نام سے ہو گی ۔ کسی اور کے نام یعنی اس کی اولاد کے نام سے نہیں ہو گی اور اگر کسی نے کر بھی دی تو وہ نفلی قربانی ہو گی نہ کہ واجب چاہے وہ لگاتار کئی سال سے کر رہے ہوں اور جب کہ زید کہتا ہے کہ باپ کی موجودگی میں بھی اولاد یا بیوی کی طرف سے قربانی ہو جاتی ہے برائے مہربانی اس سوال کا جواب عنایت فرمائیں ــ

*♦سائل♦صدام حسین*



*وعلیکم السلام ورحمت اللہ وبرکاتہ*
*✍الجواب بعون الملک الوہاب*
*صورت مسئولہ میں حضرت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمۃ فتاویٰ فیض رسول میں فرماتے ہیں کہ باپ اگر ہر سال مالک نصاب ہے تو اس پر ہر سال اپنے نام سے قربانی واجب ہو گی ــ اور باپ کے ساتھ بیٹا بیوی یا دوسرا کوئی مالک نصاب ہے تو اس پر بھی اپنے نام سے قربانی واجب ہو گی ــ اگر باپ نے چند سال اپنے نام قربانی کی اور مالک نصاب ہوتے ہوئے کسی سال بیٹا یا بیوی کے نام سے قربانی کی اور اپنے نام کی نہ کی تو گنہگار ہو گا ــ خلاصہ یہ ہے کہ گھر میں جو مالک نصاب ہو گا اسی کے نام قربانی ہو گی ۔ چاہے متواتر کئی سال اس کے نام قربانی ہو چکی ہو ــ اور اگر گھر میں کئی مالک نصاب ہیں تو ہر ایک کے نام قربانی واجب ہوگی ــ*

📗 *( فتاوٰی فیض الرسول جلد ۲ کتاب الاضحیہ صفحہ ۴۳۹ )*


*🌹واللہ تعالی اعلم ورسولہ🌹*
ـــــــــــــــــ
*✍ازقــــــلم,حضرت علامہ مفتی معین الدین الأزھـــــری صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی ـ نئ دہلی*
📱6203980319
ــــــــــــــــــ
*✍المرتب؛اسـیر تاج الـشریعه*
*محمد ریاض الدین رضوی ممبئ*
ــــــــــــــــــ
*امام اعظم گروپ*

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home