Thursday, 19 April 2018

السلام علیکم و رحمتہ

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسلئہ میں کہ
ایک شخص سمندر میں گر پڑا اور چونکہ سمدر میں جو گرتا ہے اسکے بچنے کا  چانس نہیں رہتا اور لاش بھی نہ ملی عورت نے عدت گزارنے کے بعد دوسرا نکاح کر لیا بعد نکاح خبر ملی کہ شوہر زندہ ہے تو اب وہ عورت کیا کرے؟؟؟
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
سائلہ نرگس فاطمہ امجدی
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
وعليكم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

الجواب بعون الملک الوھاب
سورت مسئولہ میں جس گمشدہ مرد کی موت اور زندگی کا حال معلوم نہ ہوں تو وہ مفقود الخبر ہے مفقود کی بیوی کے لئے مذہب حنفی میں یہ حکم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عمر نوے سال ہونے تک انتظار کرے اور امام ابن ہمار رضی اللہ تعالٰی عنہ کا یہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی عمر ستر سال ہونے تک انتظار کرے لقوله عليه السلام اعمار امتي ما بعين الستين الي سبعين

 (📘بیہقی شریف جلد سوم سفحہ۵۱۸)

مگر وقت ضرورت ملجہ مفقود کی بیوی کو حضرت سیدنا امام امام مالک رضیہ اللہ تعلی عنہ کے مذہب پر عمل رخصت ہے ان کے مذہب پر عورت ضلع کے سب سے بڑے سنی صحیح العقیدہ عالم کے حضور فسخ کے نکاح کا دعویٰ کرے اور وہ عالم اس کا دعویٰ سن کر چار سال کی مددت مقرر کرے اگر مفقود کی عورت نے کسی عالم کے پاس اپنا دعویٰ پیش نہ کیا اور بطور خود چار سال تک انتظار کرتی رہی تو یہ مددت حساب میں شمار نہیں ہوگی بلکہ دعویٰ کہ بعد چار سال کی مددت درکار ہے  اسی مددت میں اس کے شوہر کی موت اور زندگی معلوم کر نے کی ہر ممکن کوشش کریں اور جس علاقہ میں شوہر  کے گم ہونے کا گمان ہو اس علاقہ کہ کثیرالاشعات اخبار میں کم سے کم تین بار تلاش گمشدہ کا علان شئع کریں جب یہ مددت گذر جائے اور اس کے شوہر کی موت اور زندگی نہ  معلوم ہو سکے تو وہ عورت اسی عالم کے حضور استغاثہ  پیش کرے اور تلاش گمشدہ کے  اعلانات کے اخبارات  بطور ثبوت حاضر کریے اس وقت وہ عالم اس کے شوہر کے موت کا  حکم کرےگا پھر عورت عدت وفات گزار کر جس سنی صحیح  العقیدہ سے چاہے نکاہ کر سکتی ہے اس سے پہلے کسی سے اس کا نکاح ہرگز جائز نہیں

 ایسا ہی 📚فتوی فیض الرسول جلد دوم صفحہ ۲۸۲میں ہے

اگر مذکورہ کاروائ  کر نے کے بعد ہندہ کا نکاح زید کے ساتھ کیا جاتا  اور اس کے بعد خالد واپس آجاتا توبھی وہ اس کو لوٹائ جاتی
ایسا ہی 📚فتوی رضویہ جلد ششم صفحہ۳۱۹پر ہے-

اور حدیث شریف میں ہے  امرأة المفقود اذا اقدم وقد تزوجت امرأته و هي أمرته  انشاء طلق و انشاء اسمك ولا تاخير " يعنی مبقود جب لوٹ ائے اور اسکی بیوی دوسرا نکاح کر چوکی ہو تو بھی وہ اسکی بیو ہے چاہے تو طلاق دے اور چاہے تو روک رکھے اور اسے اختیار نہیں

(📕بیہقی شریف جلد ہفتم صفحہ۶۳۱)
                                       
اور📗ردالمحتار جلد چہارم صفحہ۲۹۶
میں ہے لو عاد حیا بعد الحکم بموته قال ط ر أيت المرحوم ابا العسود  نقل ان زوجه له و الا ولادللثاني ـ
  اور صورت مسئولہ میں جب کہ ہندہ کے والدین نے مذکورہ کاروائ کیے بغیر اس کا نکاح زید کے ساتھ کیا تو نکاح حرام ہوا نار ہوئے   انہیں نیز زید اور ہندہ کا نکاح خواں سب سے علانیہ توبہ و اسثغفار کرایا جائے اور زید وہ ہندہ  پر لازم ہے کے فورا ایک دوسرے سے الگ ہو جا ئیں اگر وہ ایسا نہ کرے تو تمام مسلمان  ان کا سماجی  بایئکاٹ کریں خداے تعلٰی کا ارشاد ہے  و اما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد ذكري' مع القوم  الظالمين  پ۷سورہ انعام آیت۶۸
  اگر خالد طلاق دے دیا تو طلاق وقعہ ہوگئ  لہذا ایسی صورت میں اگر ہندہ کی طلاق کی عدت گزر چکی ہو تو وہ فورا زید سے دوبارہ نکاح کرلے ورنہ عدت گزار نے پر نکاح کرے
 بحوالہ 📚فتاوی فقیہ ملت
جلد دوم باب المفقود
صفحہ ۲۲.۲۳
واللہ و رسولہ اعالم بلصواب
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
✍🏻کــتـــبــہ مــعـیـن الـدیـن الأزھــــــری
📱+919337025391
حـــضــور افـــــضــــل الـــعـــلــمـــاء گــــروپــــ
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳
📠الـــــمــــشـــتـــہـــر:
مــــحـــمــد آصــــفـــــ رضــــا دہــلــی
🕳🕳🕳🕳
🕳🕳🕳🕳🕳🕳🕳

0 Comments:

Post a Comment

Subscribe to Post Comments [Atom]

<< Home